کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: آپ ﷺ کے حلیہ اور آپ ﷺ کی خوشبو کی پاکیزگی کا بیان
حدیث نمبر: 14053
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا مَرَّ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وُجِدَ مِنْهُ رَائِحَةُ الْمِسْكِ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَذَا الطَّرِيقِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا نَعْرِفُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطِيبِ رَائِحَتِهِ إِذَا أَقْبَلَ إِلَيْنَا . وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ کے کسی راستے سے گزرتے تھے ، تو اُس راستے سے مشک کی خوشبو آتی تھی ، لوگ یہ کہتے تھے : یہاں سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم گزرے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لاتے تھے ، تو آپ کی خوشبو کی پاکیزگی سے ہمیں پتہ چل جاتا تھا ۔ “ امام ابویعلیٰ کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لاتے تھے ، تو آپ کی خوشبو کی پاکیزگی سے ہمیں پتہ چل جاتا تھا ۔ “ امام ابویعلیٰ کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 14054
وَعَنْ مُعَاذٍ - يَعْنِي ابْنَ جَبَلٍ - قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ فَمَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ أَلْيَنَ مِنْ جِلْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا وَجَدْتُ رَائِحَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر کر رہا تھا ، آپ نے مجھے اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا ، میں نے کوئی ایسی چیز نہیں چھوئی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد سے زیادہ نرم ہو ، اور نہ ہی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ خوشبو کوئی پائی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 14055
وَعَنْ أُمِّ عَاصِمٍ امْرَأَةِ فَرْقَدَ بْنِ عُتْبَةَ قَالَتْ : كُنَّا عِنْدَ عُتْبَةَ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ مَا مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا وَهِيَ تَجْتَهِدُ فِي الطِّيبِ لِتَكُونَ أَطْيَبَ مِنْ صَاحِبَتِهَا ، وَمَا يَمَسُّ عُتْبَةُ الطِّيبَ إِلَّا أَنْ يَمَسَّ دُهْنًا ، يَمْسَحُ لِحْيَتَهُ وَهُوَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنَّا ، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى النَّاسِ ، قَالُوا : مَا شَمَمْنَا رِيحًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ عُتْبَةَ ، فَقُلْتُ لَهُ يَوْمًا : إِنَّا لَنَجْتَهِدُ فِي الطِّيبِ وَلَأَنْتَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنَّا فَمِمَّ ذَاكَ ؟ فَقَالَ : أَخَذَنِي الشَّرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَيْهِ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَتَجَرَّدَ ، فَتَجَرَّدْتُ وَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَأَلْقَيْتُ ثَوْبِي عَلَى فَرْجِي ، فَنَفَثَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى ظَهْرِي وَبَطْنِي ، فَعَبِقَ بِي هَذَا الطِّيبُ مِنْ يَوْمَئِذٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَقَالَ فِي بَعْضِهَا : ثَلَاثُ نِسْوَةٍ وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ بَسَطَ يَدَيْهِ فَبَصَقَ فِيهِمَا ، فَمَسَحَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ، وَمَسَحَ إِحْدَاهُمَا عَلَى بَطْنِي ، وَالْأُخْرَى عَلَى ظَهْرِي . وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أُمِّ عَاصِمٍ فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام عاصم رضی اللہ عنہا ، جو سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں : وہ بیان کرتی ہیں : ” سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کی ہم چار بیویاں تھیں ، ہم میں سے ہر خاتون یہ کوشش کرتی تھی کہ عمدہ سے عمدہ خوشبو لگائے ، تاکہ اپنی سوکن کے مقابلے میں زیادہ خوشبو والی ہو ، اور سیدنا عتبہ رضی اللہ عنہ کوئی خوشبو نہیں لگاتے تھے ، وہ صرف تیل لگاتے تھے ، وہ صرف اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیر لیتے تھے ، لیکن ان کی خوشبو ہم سے زیادہ اچھی ہوتی تھی ، وہ جب نکل کر لوگوں کے پاس جاتے تھے ، تو لوگ یہ کہا: کرتے تھے : ہم نے سیدنا عتبہ رضی اللہ عنہ کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی ، ایک دن میں نے ان سے کہا: ہم خوشبو لگانے میں بھرپور کوشش کرتی ہیں ، لیکن آپ کی خوشبو ہم سے زیادہ پاکیزہ ہے ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، مجھے پھوڑے پھنسیاں نکل آئے ، میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اضافی لباس اتار دوں ، میں نے اضافی لباس اتار دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ، میں نے اپنی شرمگاہ پر کپڑا ڈالا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک پر دم کیا ، اور پھر وہ ہاتھ میری پشت اور میرے پیٹ پر پھیرا ، تو اس دن سے یہ خوشبو میرے جسم سے پھوٹتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، ایک روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ان کی تین بیویاں تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن پر اپنا لعاب دہن ڈالا ، اور ان میں سے ایک کو دوسرے پر پھیرا ، پھر ان میں سے ایک کے ذریعے میرے پیٹ پر مسح کیا ، اور دوسرے کے ذریعے میری پشت پر مسح کیا ۔ “ معجم اوسط کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف سیدہ ام عاصم رضی اللہ عنہا کا معاملہ مختلف ہے ، اور میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، ایک روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ان کی تین بیویاں تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن پر اپنا لعاب دہن ڈالا ، اور ان میں سے ایک کو دوسرے پر پھیرا ، پھر ان میں سے ایک کے ذریعے میرے پیٹ پر مسح کیا ، اور دوسرے کے ذریعے میری پشت پر مسح کیا ۔ “ معجم اوسط کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف سیدہ ام عاصم رضی اللہ عنہا کا معاملہ مختلف ہے ، اور میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14056
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تُعِينَنِي بِشَيْءٍ فَقَالَ : " مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ وَلَكِنْ إِذَا كَانَ غَدٌ فَتَعَالَ ، فَجِئَ بِقَارُورَةٍ وَاسِعَةِ الرَّأْسِ وَعُودِ شَجَرَةٍ ، وَآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ أَنِّي أُجِيفُ نَاحِيَةَ الْبَابِ " . فَأَتَاهُ بِقَارُورَةٍ وَاسِعَةِ الرَّأْسِ وَعُودِ شَجَرَةٍ ، فَجَعَلَ يَسْلِتُ الْعَرَقَ مِنْ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى امْتَلَأَتْ فَقَالَ : " خُذْ وَمُرِ ابْنَتَكَ إِذَا أَرَادَتْ أَنْ تَطَّيَّبَ أَنْ تَغْمِسَ هَذَا الْعُودَ فِي الْقَارُورَةِ وَتَطَّيَّبَ بِهِ " . قَالَ : فَكَانَتْ إِذَا تَطَيَّبَتْ شَمَّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ رَائِحَةَ الطِّيبِ فَسُمُّوا بِبَيْتِ الْمُطَّيِّبِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَلْبَسٌ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتا ہوں ، میری یہ خواہش ہے کہ آپ اس حوالے سے میری کچھ مدد کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے ، لیکن کل تم آنا ، اور ایک شیشی لے کر آنا ، جس کا منہ بڑا ہو اور ساتھ درخت کی ٹہنی لے کر آنا ، میرے اور تمہارے درمیان نشانی یہ ہو گی کہ میں دروازے کے کونے کو بند کر دوں گا ، وہ شخص ایک شیشی لے کر آیا ، جس کا منہ بڑا تھا اور درخت کی ٹہنی لے کر آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلائیوں سے پسینہ اُتار کر اس شیشی کو بھر دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ لے لو ! اور اپنی بیٹی سے یہ کہنا کہ جب اس نے خوشبو لگانی ہو تو یہ لکڑی اس شیشی میں ڈبوئے اور پھر اس کے ذریعے خوشبو لگا لے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ خاتون جب خوشبو لگاتی تھی ، تو اہل مدینہ اس خوشبو کو محسوس کرتے تھے اور ان کا گھر ” خوشبو والوں کا گھر “ مشہور ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حلبس کلبی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حلبس کلبی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14057
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيِّ قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّةً فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الْفَجْرِ بِمِنَى ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ إِذَا رَجُلَانِ خَلْفَ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ قَالَ : " عَلَيَّ بِالرَّجُلَيْنِ " . فَجِيءَ بِالرَّجُلَيْنِ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ : " أَمَا صَلَّيْتُمَا مَعَنَا ؟ " . قَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا فِي رِحَالِنَا وَظَنَنَّا أَنَا لَا نُدْرِكُ الصَّلَاةَ قَالَ : " فَلَا تَفْعَلَا ، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَدْرَكْتُمَا الصَّلَاةَ فَصَلِّيَا تَكُونُ لَكُمَا نَافِلَةً " . فَقَالَ أَحَدُهُمَا : اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ " . فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا يَوْمَئِذٍ كَأَشَدِّ الرِّجَالِ وَأَقْوَاهُمْ فَزَاحَمْتُ النَّاسَ حَتَّى أَخَذْتُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهَا عَلَى صَدْرِي فَلَمْ أَرَ شَيْئًا كَانَ أَبْرَدَ وَلَا أَطْيَبَ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ : " تَكُونُ لَكُمَا نَافِلَةً " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یزید بن اسود سوائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ، میں نے آپ کی اقتداء میں ، منیٰ میں فجر کی نماز ادا کی ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو لوگوں کے پیچھے دو افراد موجود تھے ، جنہوں نے لوگوں کے ساتھ نماز میں شرکت نہیں کی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں کو میرے پاس لے کے آؤ ، ان دونوں کو لایا گیا ، تو ان کے اعضاء کانپ رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کی ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اپنی رہائشی جگہ پر تھے ہمارا یہ خیال تھا کہ شاید ہم نماز تک نہیں پہنچ پائیں گے ( تو ہم نے اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر لی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو ! جب تم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے ہو ، پھر تم باجماعت نماز کو پاؤ ، تو اس میں بھی شرکت کرو ، وہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی ان دونوں میں سے ایک نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو اس کی مغفرت کر دے ، راوی کہتے ہیں : پھر لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد ہجوم کر دیا ، میں اُن دنوں سب سے زیادہ نوجوان اور سب سے زیادہ طاقتور تھا ، میں لوگوں کے درمیان میں سے نکلتا ہوا آیا اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنے سینے پر رکھا تو میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ ٹھنڈی اور زیادہ خوشبو والی ہو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد اور امام ترمذی نے اس روایت کو ان الفاظ تک نقل کیا ہے : ” وہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14058
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ مَسْلَمَةَ أَنَّ جَدَّتَهُ عُمَيْرَةَ بِنْتِ مَسْعُودٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هِيَ وَأَخَوَاتُهَا يُبَايِعْنَهُ وَهُنَّ خَمْسٌ ، فَوَجَدْنَهُ يَأْكُلُ قَدِيدًا ، فَمَضَغَ لَهُنَّ قَدِيدَةً ، ثُمَّ نَاوَلَنِي الْقَدِيدَةَ فَمَضَغْتُهَا ، كُلُّ وَاحِدَةٍ قِطْعَةٌ ، فَلَقِينَ اللَّهَ وَمَا يُوجَدُ لِأَفْوَاهِهِنَّ خُلُوفٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَسْوَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
جعفر بن محمود بن مسلمہ بیان کرتے ہیں : اُن کی دادی سیدہ عمیرہ بنت مسعود رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی ہے : ” وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، وہ تھیں اور اُن کے ساتھ ان کی بہنیں تھیں ، ان خواتین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ، وہ پانچ خواتین تھیں ، وہ کہتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ قدید کھا رہے تھے ( اس سے مراد خشک گوشت ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن خواتین کے لئے گوشت کا ایک ٹکڑا چبایا اور پھر وہ ٹکڑا مجھے دے دیا ، تو ان میں سے ہر ایک خاتون نے اس ٹکڑے کو چبایا ، تو وہ خواتین جب تک زندہ رہیں ، اُن کے منہ سے خوشبو آتی رہی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس اسواری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس اسواری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔