مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي صِفَتِهِ وَطِيبِ رَائِحَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: آپ ﷺ کے حلیہ اور آپ ﷺ کی خوشبو کی پاکیزگی کا بیان
وَعَنْ أُمِّ عَاصِمٍ امْرَأَةِ فَرْقَدَ بْنِ عُتْبَةَ قَالَتْ : كُنَّا عِنْدَ عُتْبَةَ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ مَا مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا وَهِيَ تَجْتَهِدُ فِي الطِّيبِ لِتَكُونَ أَطْيَبَ مِنْ صَاحِبَتِهَا ، وَمَا يَمَسُّ عُتْبَةُ الطِّيبَ إِلَّا أَنْ يَمَسَّ دُهْنًا ، يَمْسَحُ لِحْيَتَهُ وَهُوَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنَّا ، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى النَّاسِ ، قَالُوا : مَا شَمَمْنَا رِيحًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ عُتْبَةَ ، فَقُلْتُ لَهُ يَوْمًا : إِنَّا لَنَجْتَهِدُ فِي الطِّيبِ وَلَأَنْتَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنَّا فَمِمَّ ذَاكَ ؟ فَقَالَ : أَخَذَنِي الشَّرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَيْهِ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَتَجَرَّدَ ، فَتَجَرَّدْتُ وَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَأَلْقَيْتُ ثَوْبِي عَلَى فَرْجِي ، فَنَفَثَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى ظَهْرِي وَبَطْنِي ، فَعَبِقَ بِي هَذَا الطِّيبُ مِنْ يَوْمَئِذٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَقَالَ فِي بَعْضِهَا : ثَلَاثُ نِسْوَةٍ وَقَالَ فِيهِ : ثُمَّ بَسَطَ يَدَيْهِ فَبَصَقَ فِيهِمَا ، فَمَسَحَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ، وَمَسَحَ إِحْدَاهُمَا عَلَى بَطْنِي ، وَالْأُخْرَى عَلَى ظَهْرِي . وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أُمِّ عَاصِمٍ فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهَا . ¤سیدہ ام عاصم رضی اللہ عنہا ، جو سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں : وہ بیان کرتی ہیں : ” سیدنا عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کی ہم چار بیویاں تھیں ، ہم میں سے ہر خاتون یہ کوشش کرتی تھی کہ عمدہ سے عمدہ خوشبو لگائے ، تاکہ اپنی سوکن کے مقابلے میں زیادہ خوشبو والی ہو ، اور سیدنا عتبہ رضی اللہ عنہ کوئی خوشبو نہیں لگاتے تھے ، وہ صرف تیل لگاتے تھے ، وہ صرف اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیر لیتے تھے ، لیکن ان کی خوشبو ہم سے زیادہ اچھی ہوتی تھی ، وہ جب نکل کر لوگوں کے پاس جاتے تھے ، تو لوگ یہ کہا: کرتے تھے : ہم نے سیدنا عتبہ رضی اللہ عنہ کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ خوشبو کبھی نہیں سونگھی ، ایک دن میں نے ان سے کہا: ہم خوشبو لگانے میں بھرپور کوشش کرتی ہیں ، لیکن آپ کی خوشبو ہم سے زیادہ پاکیزہ ہے ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، مجھے پھوڑے پھنسیاں نکل آئے ، میں نے اس بات کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اضافی لباس اتار دوں ، میں نے اضافی لباس اتار دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ، میں نے اپنی شرمگاہ پر کپڑا ڈالا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک پر دم کیا ، اور پھر وہ ہاتھ میری پشت اور میرے پیٹ پر پھیرا ، تو اس دن سے یہ خوشبو میرے جسم سے پھوٹتی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، ایک روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ان کی تین بیویاں تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اور اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن پر اپنا لعاب دہن ڈالا ، اور ان میں سے ایک کو دوسرے پر پھیرا ، پھر ان میں سے ایک کے ذریعے میرے پیٹ پر مسح کیا ، اور دوسرے کے ذریعے میری پشت پر مسح کیا ۔ “ معجم اوسط کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف سیدہ ام عاصم رضی اللہ عنہا کا معاملہ مختلف ہے ، اور میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں ۔