حدیث نمبر: 14019
وَعَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ قَالَ : رُأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّوْمِ زَمَنَ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَكَانَ يَزِيدُ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ . قَالَ : فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّوْمِ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي ، فَمَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي " . فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي رَأَيْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . رَأَيْتُ رَجُلًا بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ جِسْمُهُ وَلَحْمُهُ أَسْمَرُ إِلَى الْبَيَاضِ حَسَنُ الْمَضْحَكِ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ جَمِيلُ دَوَائِرِ الْوَجْهِ قَدْ مُلِأَتْ لِحْيَتُهُ مِنْ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ حَتَّى كَادَتْ تَمْلَأُ نَحْرَهُ . ، قَالَ عَوْفٌ : لَا أَدْرِي مَا كَانَ مَعَ هَذَا مِنَ النَّعْتِ . قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَوْ رَأَيْتَهُ فِي الْيَقَظَةِ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَنْعَتَهُ فَوْقَ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

یزید فارسی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے زمانے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا راوی کہتے ہیں : وہ قرآن مجید لکھا کرتے تھے ، وہ کہتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک شیطان اس بات کی استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ میری شکل و صورت اختیار کر سکے ، تو جس نے مجھے خواب میں دیکھا ، اُس نے مجھے ہی دیکھا “ ۔ ( پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ) کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو کہ تم ان صاحب کا حلیہ ہمارے سامنے بیان کرو جنہیں تم نے خواب میں دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے ایک ایسے صاحب کو دیکھا ہے ، جو درمیانہ قد کے مالک تھے ، اور ان کا گوشت گندمی تھا ، لیکن سفیدی کی طرف مائل تھا اور وہ خوبصورت شکل و صورت کے مالک تھے ، ان کی آنکھوں میں یوں لگتا تھا ، جیسے سرمہ ڈالا گیا ہو ، ان کا چہرہ خوبصورت تھا اور اُن کی داڑھی نے یہاں سے لے کر یہاں تک کے حصے کو بھرا ہوا تھا ، یوں جیسے پورا سینہ بھرا ہوا ہو ، عوف کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ اس کے علاوہ انہوں نے اور کیا حلیہ بیان کیا تھا ؟ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اگر تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیداری کے عالم میں دیکھا ہوتا تو تم اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان نہیں کر سکتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14019
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (3410)»