مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ صِفَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: آپ ﷺ کے حلیہ کا بیان
وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صِفْهُ لَنَا . قَالَ : كَانَ لَيْسَ بِالذَّاهِبِ طُولًا ، فَوْقَ الرَّبْعَةِ إِذَا جَاءَ مَعَ الْقَوْمِ غَمَرَهُمْ ، أَبْيَضَ شَدِيدَ الْوَضَحِ ، ضَخْمَ الْهَامَةِ ، أَغَرَّ أَبْلَجَ أَهْدَبَ الْأَشْفَارِ ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ، إِذَا مَشَى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ فِي صَبَبٍ ، كَأَنَّ الْعَرَقَ فِي وَجْهِهِ اللُّؤْلُؤُ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأُمِّي وَأَبِي . قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ حَدِيثٌ طَوِيلٌ وَفِي هَذَا زِيَادَةٌ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَالْآخَرُ مِنْ رِوَايَةِ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ ، عَنْ عَلِيٍّ وَأَظُنُّهُ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤یوسف بن مازن بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : اے امیر المؤمنین ! آپ ہمارے سامنے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کیجئے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ لمبے تڑنگے نہیں تھے ، آپ درمیانہ قد سے ذرا بڑے تھے ، جب لوگوں کے ساتھ آتے تھے ، تو ان سے نمایاں محسوس ہوتے تھے ، سفید رنگ کے مالک تھے ، چمکدار رنگ کے مالک تھے ، آپ کا سر بڑا تھا ، آپ کی رنگت روشن اور چمکدار تھی ، پلکیں لمبی تھیں ، آپ کی ہتھیلیاں اور پاؤں پُر گوشت تھے ، جب آپ چلتے تھے تو پاؤں جما کر رکھتے تھے اور تیزی سے چلتے تھے ، یوں جیسے بلندی سے نیچے کی طرف آ رہے ہوں اور آپ کے چہرے پر پسینہ یوں محسوس ہوتا تھا ، جیسے موتی ہوں ، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کی نقل کردہ حدیث امام ترمذی نے نقل کی ہے ، جو ایک طویل حدیث ہے ، لیکن اس روایت میں کچھ اضافہ ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اور دوسری سند یوسف بن مازن کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ ہے ، جبکہ میرا یہ خیال ہے کہ یوسف بن مازن نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔