حدیث نمبر: 14018
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صِفَتِي أَحْمَدُ الْمُتَوَكِّلُ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ ، يَجْزِي بِالْحَسَنَةِ الْحَسَنَةَ ، وَلَا يُكَافِئُ بِالسَّيِّئِ ، مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ وَمُهَاجَرُهُ بِطِيبَةَ ، وَأُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ ، يَأْتَزِرُونَ عَلَى أَنْصَافِهِمْ ، وَيُوَضِّئُونَ أَطْرَافَهُمْ ، أَنَا جَلِيُّهُمْ فِي صُدُورِهِمْ ، يُصَفُّونَ لِلصَّلَاةِ كَمَا يُصَفُّونَ لِلْقِتَالِ ، قُرْبَانُهُمُ الَّذِي يَتَقَرَّبُونَ بِهِ إِلَيَّ دِمَاؤُهُمْ رُهْبَانٌ بِاللَّيْلِ لُيُوثٌ بِالنَّهَارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری صفت یہ ہے کہ میں أحمد ہوں اور توکل کرنے والا ہوں ، نہ ہی بدمزاج ہوں اور نہ ہی سخت مزاج ہوں ، میں وہ ہوں ، جو بھلائی کا بدلہ بھلائی سے دیتا ہے ، اور برائی کا بدلہ نہیں دیتا ، جس کی پیدائش مکہ میں ہوئی اور جس کی ہجرت کا مقام مدینہ منورہ ہے ، اس کی امت کے لوگ حمد بیان کرنے والے ہوں گے ، جو نصف پنڈلیوں تک تہبند رکھیں گے ، اور اپنے اعضاء پر وضو کریں گے ، ان کے سینوں میں ، میں اُن کی روشنی ہوؤں گا ، وہ نماز کے لئے یوں صف بنائیں گے ، جس طرح وہ جنگ کے لئے صف بناتے ہیں ، ان کی وہ بات جس کے ذریعے وہ میرا قرب حاصل کریں گے ، وہ اُن کی جانیں ہیں ، وہ رات کے وقت عبادت گزار ہوں گے اور دن کے وقت شیر ( یعنی لڑاکے ) ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14018
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10086)»