کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: آپ ﷺ کے حلیہ کا بیان
حدیث نمبر: 14018
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صِفَتِي أَحْمَدُ الْمُتَوَكِّلُ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ ، يَجْزِي بِالْحَسَنَةِ الْحَسَنَةَ ، وَلَا يُكَافِئُ بِالسَّيِّئِ ، مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ وَمُهَاجَرُهُ بِطِيبَةَ ، وَأُمَّتُهُ الْحَمَّادُونَ ، يَأْتَزِرُونَ عَلَى أَنْصَافِهِمْ ، وَيُوَضِّئُونَ أَطْرَافَهُمْ ، أَنَا جَلِيُّهُمْ فِي صُدُورِهِمْ ، يُصَفُّونَ لِلصَّلَاةِ كَمَا يُصَفُّونَ لِلْقِتَالِ ، قُرْبَانُهُمُ الَّذِي يَتَقَرَّبُونَ بِهِ إِلَيَّ دِمَاؤُهُمْ رُهْبَانٌ بِاللَّيْلِ لُيُوثٌ بِالنَّهَارِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری صفت یہ ہے کہ میں أحمد ہوں اور توکل کرنے والا ہوں ، نہ ہی بدمزاج ہوں اور نہ ہی سخت مزاج ہوں ، میں وہ ہوں ، جو بھلائی کا بدلہ بھلائی سے دیتا ہے ، اور برائی کا بدلہ نہیں دیتا ، جس کی پیدائش مکہ میں ہوئی اور جس کی ہجرت کا مقام مدینہ منورہ ہے ، اس کی امت کے لوگ حمد بیان کرنے والے ہوں گے ، جو نصف پنڈلیوں تک تہبند رکھیں گے ، اور اپنے اعضاء پر وضو کریں گے ، ان کے سینوں میں ، میں اُن کی روشنی ہوؤں گا ، وہ نماز کے لئے یوں صف بنائیں گے ، جس طرح وہ جنگ کے لئے صف بناتے ہیں ، ان کی وہ بات جس کے ذریعے وہ میرا قرب حاصل کریں گے ، وہ اُن کی جانیں ہیں ، وہ رات کے وقت عبادت گزار ہوں گے اور دن کے وقت شیر ( یعنی لڑاکے ) ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14018
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10086)»
حدیث نمبر: 14019
وَعَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ قَالَ : رُأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّوْمِ زَمَنَ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَكَانَ يَزِيدُ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ . قَالَ : فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّوْمِ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي ، فَمَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي " . فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي رَأَيْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . رَأَيْتُ رَجُلًا بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ جِسْمُهُ وَلَحْمُهُ أَسْمَرُ إِلَى الْبَيَاضِ حَسَنُ الْمَضْحَكِ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ جَمِيلُ دَوَائِرِ الْوَجْهِ قَدْ مُلِأَتْ لِحْيَتُهُ مِنْ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ حَتَّى كَادَتْ تَمْلَأُ نَحْرَهُ . ، قَالَ عَوْفٌ : لَا أَدْرِي مَا كَانَ مَعَ هَذَا مِنَ النَّعْتِ . قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَوْ رَأَيْتَهُ فِي الْيَقَظَةِ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَنْعَتَهُ فَوْقَ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید فارسی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے زمانے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا راوی کہتے ہیں : وہ قرآن مجید لکھا کرتے تھے ، وہ کہتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک شیطان اس بات کی استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ میری شکل و صورت اختیار کر سکے ، تو جس نے مجھے خواب میں دیکھا ، اُس نے مجھے ہی دیکھا “ ۔ ( پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ) کیا تم یہ استطاعت رکھتے ہو کہ تم ان صاحب کا حلیہ ہمارے سامنے بیان کرو جنہیں تم نے خواب میں دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے ایک ایسے صاحب کو دیکھا ہے ، جو درمیانہ قد کے مالک تھے ، اور ان کا گوشت گندمی تھا ، لیکن سفیدی کی طرف مائل تھا اور وہ خوبصورت شکل و صورت کے مالک تھے ، ان کی آنکھوں میں یوں لگتا تھا ، جیسے سرمہ ڈالا گیا ہو ، ان کا چہرہ خوبصورت تھا اور اُن کی داڑھی نے یہاں سے لے کر یہاں تک کے حصے کو بھرا ہوا تھا ، یوں جیسے پورا سینہ بھرا ہوا ہو ، عوف کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ اس کے علاوہ انہوں نے اور کیا حلیہ بیان کیا تھا ؟ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اگر تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیداری کے عالم میں دیکھا ہوتا تو تم اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان نہیں کر سکتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14019
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (3410)»
حدیث نمبر: 14020
وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صِفْهُ لَنَا . قَالَ : كَانَ لَيْسَ بِالذَّاهِبِ طُولًا ، فَوْقَ الرَّبْعَةِ إِذَا جَاءَ مَعَ الْقَوْمِ غَمَرَهُمْ ، أَبْيَضَ شَدِيدَ الْوَضَحِ ، ضَخْمَ الْهَامَةِ ، أَغَرَّ أَبْلَجَ أَهْدَبَ الْأَشْفَارِ ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ، إِذَا مَشَى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَنْحَدِرُ فِي صَبَبٍ ، كَأَنَّ الْعَرَقَ فِي وَجْهِهِ اللُّؤْلُؤُ لَمْ أَرَ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مِثْلَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأُمِّي وَأَبِي . قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ حَدِيثٌ طَوِيلٌ وَفِي هَذَا زِيَادَةٌ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَالْآخَرُ مِنْ رِوَايَةِ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ ، عَنْ عَلِيٍّ وَأَظُنُّهُ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
یوسف بن مازن بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : اے امیر المؤمنین ! آپ ہمارے سامنے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کیجئے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ لمبے تڑنگے نہیں تھے ، آپ درمیانہ قد سے ذرا بڑے تھے ، جب لوگوں کے ساتھ آتے تھے ، تو ان سے نمایاں محسوس ہوتے تھے ، سفید رنگ کے مالک تھے ، چمکدار رنگ کے مالک تھے ، آپ کا سر بڑا تھا ، آپ کی رنگت روشن اور چمکدار تھی ، پلکیں لمبی تھیں ، آپ کی ہتھیلیاں اور پاؤں پُر گوشت تھے ، جب آپ چلتے تھے تو پاؤں جما کر رکھتے تھے اور تیزی سے چلتے تھے ، یوں جیسے بلندی سے نیچے کی طرف آ رہے ہوں اور آپ کے چہرے پر پسینہ یوں محسوس ہوتا تھا ، جیسے موتی ہوں ، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کی نقل کردہ حدیث امام ترمذی نے نقل کی ہے ، جو ایک طویل حدیث ہے ، لیکن اس روایت میں کچھ اضافہ ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اور دوسری سند یوسف بن مازن کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ ہے ، جبکہ میرا یہ خیال ہے کہ یوسف بن مازن نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14020
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14021
وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَزَادَ : حَسَنَ الشَّعْرِ رَجِلَهُ .
محمد محی الدین

یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال خوبصورت تھے اور بالکل سیدھے تھے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14021
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2385)»
حدیث نمبر: 14022
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : ضَخْمَ الْعَيْنَيْنِ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بڑی بڑی تھیں ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14022
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2386)»
حدیث نمبر: 14023
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْمَرَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گندمی رنگت کے مالک تھے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14023
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2388) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (258/3)»
حدیث نمبر: 14024
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا تَمَثَّلَتْ بِهَذَا الْبَيْتِ وَأَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يُنْصِتُ : وَأَبْيَضُ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ رَبِيعُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : ذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے یہ شعر مثال کے طور پر پڑھا ، اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آخری وقت تھا : ” وہ گورے رنگ کے مالک فرد ، جن کے چہرے کے وسیلے سے بارش کی دعا کی جاتی ہے ، وہ یتیموں کے رکھوالے ہیں اور بیواؤں کی دیکھ بھال کرنے والے ہیں ۔ “ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسے تو اللہ کے رسول ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14024
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2393) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (7/1)»
حدیث نمبر: 14025
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْعَدَوِيَّةِ قَالَ : حَدَّثَنِي جَدِّي قَالَ : انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَزَلْتُ هَذَا الْوَادِي ، فَإِذَا رَجُلَانِ بَيْنَهُمَا عَنْزٌ وَاحِدَةٌ ، وَإِذَا الْمُشْتَرِي يَقُولُ لِلْبَائِعِ : أَحْسِنْ مُبَايَعَتِي . قَالَ : فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : هَذَا الْهَاشِمِيُّ الَّذِي أَضَلَّ النَّاسَ أَهُوَ هُوَ ؟ فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْجِسْمِ ، عَظِيمُ الْجَبْهَةِ ، دَقِيقُ الْأَنْفِ ، دَقِيقُ الْحَاجِبَيْنِ ، وَإِذَا مِنْ ثُغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى سُرَّتِهِ مِثْلُ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ شَعْرٌ أَسْوَدُ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . وَالَّذِي مِنَ الْعَدَوِيَّةِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
بلعدویہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میرے دادا نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ” میں مدینہ منورہ گیا ، میں نے وہاں ایک جگہ پڑاؤ کیا ، وہاں دو آدمی موجود تھے ، جن کے درمیان ایک بکری کا بچہ تھا اور خریدار شخص ، فروخت کرنے والے سے کہہ رہا تھا : تم میرے ساتھ اچھے طریقے سے سودا کرنا ، راوی کہتے ہیں : میں نے سوچا یہ وہی ہاشمی شخص ہے ، جس نے لوگوں کو گمراہ کیا ہوا ہے ، کیا یہ وہی ہے ؟ جب میں نے بغور جائزہ لیا ، تو وہ ایک ایسے شخص تھے ، جن کا جسم خوبصورت تھا ، پیشانی بڑی تھی ، ناک پتلی تھی ، بھنویں پتلی تھیں ، ان کے سینے سے لے کر ناف تک سیاہ بالوں کی ایک لکیر سی تھی ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور بلعدویہ سے تعلق رکھنے والے شخص سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14025
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6830)»
حدیث نمبر: 14026
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : سَأَلْتُ خَالِي هِنْدَ بْنَ أَبِي هَالَةَ التَّمِيمِيَّ - وَكَانَ وَصَّافًا - عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَشْتَهِي أَنْ يَصِفَ لِي مِنْهَا شَيْئًا أَتَعَلَّقُ بِهِ فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخْمًا مُفَخَّمًا ، يَتَلَأْلَأُ وَجْهُهُ تَلَأْلُؤَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، وَأَطْوَلَ مِنَ الْمَرْبُوعِ ، وَأَقْصَرَ مِنَ الْمُشَذَّبِ عَظِيمَ الْهَامَةِ ، رَجِلَ الشَّعْرِ ، إِذَا تَفَرَّقَتْ عَقِيصَتُهُ فَرَقَ فَلَا يُجَاوِزُ شَعْرُهُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ، إِذَا هُوَ وَفْرُهُ ، أَزْهَرَ اللَّوْنِ ، وَاسِعَ الْجَبِينِ ، أَزَجَّ الْحَوَاجِبِ ، سَوَابِغَ مِنْ غَيْرِ قَرْنٍ بَيْنَهُمَا عِرْقٌ يُدِرُّهُ الْغَضَبُ ، أَقْنَى الْعِرْنِينِ ، لَهُ نُورٌ يَعْلُوهُ ، يَحْسَبُهُ مَنْ لَمْ يَتَأَمَّلْهُ أَشَمَّ ، كَثَّ اللِّحْيَةِ ، سَهْلَ الْخَدَّيْنِ ، ضَلِيعَ الْفَمِ ، أَشْنَبَ ، مُفَلَّجَ الْأَسْنَانَ ، دَقِيقَ الْمَسْرَبَةِ ، كَأَنَّ عُنُقَهُ جِيدَ دِمْنَةٍ فِي صَفَاءِ الْفِضَّةِ ، مُعْتَدِلَ الْخَلْقِ بَادِنَ مُتَمَاسِكَ ، سَوَاءٌ الْبَطْنُ وَالصَّدْرُ ، عَرِيضَ الصَّدْرِ ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ ، ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ ، أَنْوَرَ الْمُتَجَرَّدَ ، مَوْصُولَ مَا بَيْنَ اللَّبَّةِ وَالسُّرَّةِ بِشَعْرٍ يَجْرِي كَالْخَطِّ ، عَارِيَ الثَّدْيَيْنِ وَالْبَطْنِ مِمَّا سِوَى ذَلِكَ ، أَشَعَرَ الذِّرَاعَيْنِ وَالْمَنْكِبَيْنِ وَأَعَالِيَ الصَّدْرِ طَوِيلَ الزَّنْدَيْنِ ، رَحْبَ الرَّاحَةِ ، سَبْطَ الْقَصَبِ ، شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ، سَائِرَ الْأَطْرَافِ ، خُمْصَانَ الْأَخْمَصَيْنِ ، مَسِيحَ الْقَدَمَيْنِ يَنْبُو عَنْهُمَا الْمَاءُ ، إِذَا زَالَ زَالَ قُلَعًا ، وَتَخَطَّى تَكَفِيًّا ، وَيَمْشِي هَوْنًا ، ذَرِيعَ الْمِشْيَةِ إِذَا مَشَى كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ ، وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا ، خَافِضَ الطَّرْفِ ، نَظَرُهُ إِلَى الْأَرْضِ أَطْوَلُ مِنْ نَظَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ ، جُلُّ نَظَرِهِ الْمُلَاحَظَةُ ، يَسُوقُ أَصْحَابَهُ ، يَبْدُرُ مَنْ لَقِيَ بِالسَّلَامِ . قُلْتُ : صِفْ لِي مَنْطِقَهُ . قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَوَاصِلَ الْأَحْزَانِ ، دَائِمَ الْفِكْرَةِ ، لَيْسَتْ لَهُ رَاحَةٌ ، لَا يَتَكَلَّمُ فِي غَيْرِ حَاجَةٍ ، طَوِيلَ الصَّمْتِ يَفْتَتِحُ الْكَلَامَ وَيَخْتِمُهُ بِأَشْدَاقِهِ ، وَيَتَكَلَّمُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ ، فَصْلٌ لَا فُصُولٌ وَلَا تَقْصِيرٌ ، دَمِثٌ لَيْسَ بِالْجَافِي وَلَا الْمُهِينِ ، يُعَظِّمُ النِّعْمَةَ وَإِنْ دَقَّتْ لَا يَذُمُّ مِنْهَا شَيْءٌ، لَا يَذُمُّ ذَوَاقًا وَلَا يَمْدَحُهُ ، وَلَا تُغْضِبُهُ الدُّنْيَا وَلَا مَا كَانَ لَهَا ، فَإِذَا نُوزِعَ الْحَقَّ لَمْ يَعْرِفْهُ أَحَدٌ ، وَلَمْ يَقُمْ لِغَضَبِهِ شَيْءٌ حَتَّى يَنْتَصِرَ لَهُ ، لَا يَغْضَبُ لِنَفْسِهِ ، وَلَا يَنْتَصِرُ لَهَا ، إِذَا أَشَارَ أَشَارَ بِكَفِّهِ كُلِّهَا ، وَإِذَا تَعَجَّبَ قَلَبَهَا ، وَإِذَا تَحَدَّثَ اتَّصَلَ بِهَا فَيَضْرِبُ بِبَاطِنِ رَاحَةِ الْيُمْنَى بَاطِنَ إِبْهَامِهِ الْيُسْرَى ، وَإِذَا غَضِبَ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ ، وَإِذَا ضَحِكَ غَضَّ طَرْفَهُ ، جُلُّ ضَحِكِهِ التَّبَسُّمُ ، وَيَفْتُرُ عَنْ مِثْلِ حَبِّ الْغَمَامِ . فَكَتَمَهَا الْحُسَيْنُ زَمَانًا ، ثُمَّ حَدَّثْتُهُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي إِلَيْهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَمَّا سَأَلْتُهُ وَوَجَدْتُهُ قَدْ سَأَلَ أَبَاهُ عَنْ مُدْخَلِهِ وَمَجْلِسِهِ وَمُخْرَجِهِ وَشَكْلِهِ ، فَلَمْ يَدَعْ مِنْهُ شَيْئًا . قَالَ الْحُسَيْنُ : سَأَلْتُ أَبِي عَنْ دُخُولِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَانَ دُخُولُهُ لِنَفْسِهِ مَأْذُونٌ لَهُ فِي ذَلِكَ ، فَكَانَ إِذَا أَوَى إِلَى مَنْزِلِهِ جَزَّأَ نَفْسَهُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ : جُزْءٌ لِلَّهِ وَجُزْءٌ لِأَهْلِهِ وَجُزْءٌ لِنَفْسِهِ . ثُمَّ جَزَّأَ نَفْسَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ فَيَرُدُّ ذَلِكَ عَلَى الْعَامَّةِ بِالْخَاصَّةِ ، فَلَا يَدَّخِرُ عَنْهُمْ شَيْئًا ، فَكَانَ مِنْ سِيرَتِهِ فِي جُزْءِ الْأُمَّةِ إِيثَارُ أَهْلِ الْفَضْلِ بِإِذْنِهِ ، وَقَسْمُهُ عَلَى قَدْرِ فَضْلِهِمْ فِي الدِّينِ ، فَمِنْهُمْ ذُو الْحَاجَةِ وَمِنْهُمْ ذُو الْحَاجَتَيْنِ وَمِنْهُمْ ذُو الْحَوَائِجِ ، فَيَتَشَاغَلُ بِهِمْ فِيمَا يُصْلِحُهُمْ وَيُلَائِمُهُمْ وَيُخْبِرُهُمْ بِالَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ ، وَيَقُولُ : " لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ، وَأَبْلِغُوا فِي حَاجَةٍ مَنْ لَا يَسْتَطِيعُ إِبْلَاغَهَا وَأَبْلِغُونِي حَاجَةَ مَنْ لَا يَسْتَطِيعُ إِبْلَاغِي حَاجَتَهُ فَإِنَّهُ مَنْ أَبْلَغَ سُلْطَانًا حَاجَةَ مَنْ لَا يَسْتَطِيعُ إِبْلَاغَهَا إِيَّاهُ يُثَبِّتُ اللَّهُ قَدَمَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . لَا يُذْكَرُ عِنْدَهُ إِلَّا ذَاكَ ، وَلَا يَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ غَيْرَهُ ، يَدْخُلُونَ رُوَّادًا وَلَا يَتَفَرَّقُونَ إِلَّا عَنْ ذَوَاقٍ وَيَخْرُجُونَ أَذِلَّةً . قَالَ : فَسَأَلْتُهُ عَنْ مُخْرَجِهِ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِيهِ فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُخَزِّنُ لِسَانَهُ إِلَّا مِمَّا يَنْفَعُهُمْ وَيُؤَلِّفُهُمْ وَلَا يُفَرِّقُهُمْ أَوْ قَالَ : وَلَا يُنَفِّرُهُمْ ، فَيُكْرِمُ كَرِيمَ كُلِّ قَوْمٍ وَيُوَلِّيهِ عَلَيْهِمْ ، وَيَحْذَرُ النَّاسَ وَيَحْتَرِسُ مِنْهُمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَطْوِيَ عَنْ أَحَدٍ سِرَّهُ وَلَا خُلُقَهُ ، يَتَفَقَّدُ أَصْحَابَهُ ، وَيَسْأَلُ النَّاسَ عَمَّا فِي النَّاسِ ، وَيُحَسِّنُ الْحَسَنَ وَيُقَوِّيهِ ، وَيُقَبِّحُ الْقُبْحَ وَيُوهِنُهُ ، مُعْتَدِلُ الْأَمْرِ غَيْرُ مُخْتَلِفٍ ، لَا يَغْفُلُ مَخَافَةَ أَنْ يَغْفُلُوا أَوْ يَمِيلُوا ، لِكُلِّ حَالٍ عِنْدَهُ عَتَادٌ ، لَا يُقَصِّرُ عَنِ الْحَقِّ وَلَا يَجُوزُهُ ، الَّذِينَ يَلُونَهُ مِنَ النَّاسِ خِيَارُهُمْ ، أَفْضَلُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ نَصِيحَةً ، وَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً أَحْسَنُهُمْ مُوَاسَاةً وَمُؤَازَرَةً . فَسَأَلْتُهُ عَنْ مَجْلِسِهِ فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَجْلِسُ وَلَا يَقُومُ إِلَّا عَلَى ذِكْرٍ ، وَلَا يُوَطِّنُ الْأَمَاكِنَ وَيَنْهَى عَنْ إِيطَانِهَا ، وَإِذَا انْتَهَى إِلَى قَوْمٍ جَلَسَ حَيْثُ يَنْتَهِي بِهِ الْمَجْلِسُ وَيَأْمُرُ بِذَلِكَ ، وَيُعْطِي كُلَّ جُلَسَائِهِ بِنَصِيبِهِ ، لَا يَحْسَبُ جَلِيسُهُ أَنَّ أَحَدًا أَكْرَمَ عَلَيْهِ مِنْهُ ، مَنْ جَالَسَهُ أَوْ قَاوَمَهُ فِي حَاجَةٍ صَابَرَهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الْمُتَصَرِّفَ وَمَنْ سَأَلَهُ حَاجَةً لَمْ يَرُدَّهُ إِلَّا بِهَا أَوْ بِمَيْسُورٍ مِنَ الْقَوْلِ ، قَدْ وَسِعَ النَّاسَ مِنْهُ بَسْطَةٌ وَخِلْقَةٌ ، فَصَارَ لَهُمْ أَبًا وَصَارُوا عِنْدَهُ فِي الْحَقِّ سَوَاءً ، مَجْلِسُهُ مَجْلِسُ حِلْمٍ وَحَيَاءٍ وَصَبْرٍ وَأَمَانَةٍ ، لَا تُرْفَعُ فِيهِ الْأَصْوَاتُ ، وَلَا تُؤْبَنُ فِيهِ الْحُرَمُ وَلَا تُنْثَى فَلَتَاتُهُ ، مُتَعَادِلِينَ مُتَوَاصِينَ فِيهِ بِالتَّقْوَى مُتَوَاضِعِينَ ، يُوَقِّرُونَ الْكَبِيرَ وَيَرْحَمُونَ الصَّغِيرَ وَيُؤْثِرُونَ ذَوِي الْحَاجَةِ وَيَحْفَظُونَ الْغَرِيبَ . قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ كَانَتْ سِيرَتُهُ فِي جُلَسَائِهِ ؟ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَائِمَ الْبِشْرِ ، سَهْلَ الْخُلُقِ ، لَيِّنَ الْجَانِبِ ، لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ ، وَلَا صَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ ، وَلَا فَاحِشٍ وَلَا عَيَّابٍ وَلَا مَزَّاحٍ ، يَتَغَافَلُ عَمًّا لَا يَشْتَهِي وَلَا يُؤْنَسُ مِنْهُ وَلَا يُخَيِّبُ فِيهِ ، قَدْ تَرَكَ نَفْسَهُ مِنْ ثَلَاثٍ : الْمِرَاءُ وَالْإِكْبَارُ وَمِمَّا لَا يَعْنِيهِ ، وَتَرَكَ نَفْسَهُ مِنْ ثَلَاثٍ : كَانَ لَا يَذُمُّ أَحَدًا وَلَا يُعَيِّرُهُ وَلَا يَطْلُبُ عَوْرَتَهُ ، وَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا فِيمَا رَجَا ثَوَابَهُ ، إِذَا تَكَلَّمَ أَطْرَقَ جُلَسَاؤُهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرُ ، وَإِذَا سَكَتَ تَكَلَّمُوا ، وَلَا يَتَنَازَعُونَ عِنْدَهُ ، مَنْ تَكَلَّمَ أَنْصَتُوا لَهُ حَتَّى يَفْرُغَ ، حَدِيثُهُمْ عِنْدَهُ حَدِيثُ أَوَّلِيَّتِهِمْ ، يَضْحَكُ مِمَّا يَضْحَكُونَ مِنْهُ ، وَيَتَعَجَّبُ مِمَّا يَتَعَجَّبُونَ مِنْهُ ، وَيَصْبِرُ لِلْغَرِيبِ عَلَى الْهَفْوَةِ فِي مَنْطِقِهِ وَمَسْأَلَتِهِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ أَصْحَابُهُ لَيَسْتَجْلِبُوهُمْ وَيَقُولُ : " إِذَا رَأَيْتُمْ طَالِبَ الْحَاجَةِ فَأَرْشِدُوهُ " . وَلَا يَقْبَلُ الثَّنَاءَ إِلَّا مِنْ مُكَافِئٍ ، وَلَا يَقْطَعُ عَلَى أَحَدٍ حَدِيثَهُ حَتَّى يَجُوزَهُ فَيَقْطَعَهُ بِنَهْيٍ أَوْ قِيَامٍ . قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ كَانَ سُكُوتُهُ ؟ قَالَ : كَانَ سُكُوتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَرْبَعٍ : عَلَى الْحِلْمِ وَالْحَذَرِ وَالتَّقْدِيرِ وَالتَّفَكُّرِ ، فَأَمَّا تَقْدِيرُهُ فَفِي تَسْوِيَتِهِ النَّظَرَ وَالِاسْتِمَاعَ بَيْنَ النَّاسِ ، وَأَمَّا تَذَكُّرُهُ - أَوْ قَالَ : تَفَكُّرُهُ - فَفِيمَا يَبْقَى وَيَفْنَى ، وَجُمِعَ لَهُ الْحِلْمُ فِي الصَّبْرِ فَكَانِ لَا يُوصِبُهُ وَلَا يَسْتَفِزُّهُ ، وَجُمِعَ لَهُ الْحَذَرُ فِي أَرْبَعٍ : أَخْذُهُ بِالْحُسْنَى لِيَقْتَدُوا بِهِ ، وَتَرْكُهُ الْقَبِيحَ لِيَنْتَهُوا عَنْهُ ، وَإِجْهَادُهُ الرَّأْيَ فِيمَا يُصْلِحُ أُمَّتَهُ ، وَالْقِيَامُ فِيمَا يَجْمَعُ لَهُمُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ . قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ : أَبُو هَالَةَ كَانَ زَوْجَ خَدِيجَةَ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْمُهُ النَّبَّاشُ مِنْ بَنِي أُسَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ . ¤ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمَوْصِلِيُّ قَالَ : أَبُو هَالَةَ مَالِكُ بْنُ زُرَارَةَ مِنْ بَنِي نَبَّاشِ بْنِ زُرَارَةَ . ¤ قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدٍ يَقُولُ : قَوْلُهُ : فَخْمًا : الْفَخَامَةُ نُبْلُهُ وَامْتِلَاؤُهُ مَعَ الْجَمَالِ وَالْمَهَابَةِ . وَالْمَرْبُوعُ : الَّذِي بَيْنَ الطَّوِيلِ وَالْقَصِيرِ . وَالْمُشَذَّبُ : الْمُفْرِطُ فِي الطُّولِ وَكَذَلِكَ هُوَ فِي كُلِّ شَيْءٍ قَالَ جَرِيرٌ : أَلْوَى بِهَا شَذْبُ الْعُرُوقِ مُشَذَّبٌ فَكَأَنَّمَا وُكِيبُ عَلَى طِرْبَالِ وَقَوْلُهُ : رَجِلَ الشَّعْرِ : الَّذِي لَيْسَ بِالسَّبْطِ الَّذِي لَا تَكَسُّرَ فِيهِ . وَالْقَطَطُ : الشَّدِيدُ الْجُعُودَةِ يَقُولُ : فِيهِ جُعُودَةٌ بَيْنَ هَذَيْنِ . وَالْعَقِيصَةُ : الشَّعْرُ الْمَعْقُوصُ وَهُوَ نَحْوٌ مِنَ الْمَضْفُورِ ، وَمِنْهُ قَوْلُ عُمَرَ : مَنْ عَقَصَ أَوْ ضَفَّرَ فَعَلَيْهِ الْحَلْقُ . وَقَوْلُهُ : أَزَجَّ الْحَاجِبَيْنِ سَوَابِغُ : الزَّجَجُ فِي الْحَوَاجِبِ أَنْ يَكُونَ فِيهَا تَقَوُّسٌ مَعَ طُولٍ فِي أَطْرَافِهَا وَهُوَ السُّبُوغُ ، قَالَ جَمِيلُ بْنُ مَعْمَرٍ : ¤ إِذَا مَا الْغَانِيَاتِ بَرَزْنَ يَوْمًا وَزَجَّجْنَ الْحَوَاجِبَ وَالْعُيُونَا قَوْلُهُ : فِي غَيْرِ قَرْنٍ : فَالْقَرْنُ الْتِقَاءُ الْحَاجِبَيْنِ حَتَّى يَتَّصِلَا فَلَيْسَ هُوَ كَذَلِكَ وَلَكِنَّ بَيْنَهُمَا فُرْجَةً ، يُقَالُ لِلرَّجُلِ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ : أَبْلَجُ ، وَذَكَرَ الْأَصْمَعِيُّ أَنَّ الْعَرَبَ تَسْتَحِبُّ هَذَا . وَقَوْلُهُ : بَيْنَهُمَا عِرْقٌ يُدِرُّهُ الْغَضَبُ ، يَقُولُ : إِذَا غَضِبَ دَرَّ الْعِرْقُ الَّذِي بَيْنَ الْحَاجِبَيْنِ . وَدُرُورُهُ : غِلَظُهُ وَنُتُوؤُهُ وَامْتِلَاؤُهُ . وَقَوْلُهُ : أَقْنَى الْعِرْنِينِ : يَعْنِي الْأَنْفَ ، وَالْقَنَا أَنْ يَكُونَ فِيهِ دِقَّةٌ مَعَ ارْتِفَاعٍ فِي قَصَبَتِهِ يُقَالُ مِنْهُ : رَجُلٌ أَقَنُّ وَامْرَأَةٌ قَنْوَاءُ . وَالْأَشَمُّ : أَنْ يَكُونَ الْأَنْفُ دَقِيقًا لَا قَنَا فِيهِ . وَقَوْلُهُ : كَثَّ اللِّحْيَةِ ، الْكُثُوثَةُ : أَنْ تَكُونَ اللِّحْيَةُ غَيْرَ رَقِيقَةٍ وَلَا طَوِيلَةٍ وَلَكِنَّ فِيهَا كَثَاثَةً مِنْ غَيْرِ عِظَمٍ وَلَا طُولٍ . وَقَوْلُهُ : ضَلِيعَ الْفَمِ : أَحْسَبُهُ يَعْنِي : حِدَّةَ الشَّفَتَيْنِ . وَقَوْلُهُ : أَشْنَبَ الْأَشْنَبُ هُوَ الَّذِي فِي أَسْنَانِهِ رِقَّةٌ وَتَحْدِيدٌ ، يُقَالُ مِنْهُ : رَجُلٌ أَشْنَبُ وَامْرَأَةٌ شَنْبَاءُ وَمِنْهُ قَوْلُ ذِي الرُّمَّةِ : ¤ لَمْيَاءُ فِي شَفَتَيْهَا حِدَّةْ لَعَسٌ وَفِي اللِّثَاتِ وَفِي أَنْيَابِهَا شَنَبُ ¤ وَالْمُفَلَّجُ : هُوَ الَّذِي فِي أَسْنَانِهِ تَفَرُّقٌ . وَالْمَسْرَبَةُ : الشَّعْرُ الَّذِي بَيْنَ اللَّبَّةِ إِلَى السُّرَّةِ . شَعْرٌ يَجْرِي كَالْخَطِّ : قَالَ الْأَعْشَى : ¤ الْآنَ لَمَّا ابْيَضَّ مَسْرُبَتِي وَعَضَضْتُ مِنْ نَابِي عَلَى جَذَمِي ¤ وَقَوْلُهُ : جِيدُ دِمْنَةٍ : الْجِيدُ : الْعُنُقُ ، وَالدِّمْنَةُ : الصُّورَةُ . وَقَوْلُهُ : ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ : قَالَ بَعْضُهُمْ : هِيَ الْعِظَامُ ، وَمَعْنَاهُ أَنَّهُ عَظِيمُ الْأَلْوَاحِ ، وَبَعْضُهُمْ يَجْعَلُ الْكَرَادِيسَ رُؤُوسَ الْعِظَامِ وَالْكَرَادِيسَ فِي غَيْرِ هَذَا الْكَتَائِبَ . الزَّنْدَانِ : الْعَظْمَانِ اللَّذَانِ فِي السَّاعِدَيْنِ الْمُتَّصِلَانِ بِالْكَفَّيْنِ ، وَصَفَهُ بِطُولِ الذِّرَاعَيْنِ . سِبْطَ الْقَصَبِ : الْقَصَبُ كُلُّ عَظْمٍ ذِي مُخٍّ مِثْلَ السَّاقَيْنِ وَالْعَضُدَيْنِ وَالذِّرَاعَيْنِ ، وَسُبُوطُهُمَا : امْتِدَادُهُمَا ، يَصِفُهُ بِطُولِ الْعِظَامِ ، قَالَ ذُو الرُّمَّةِ : ¤ جَوَاعِلُ فِي الْبَرَى قَصَبًا خِدَالًا أَرَادَ بِالْبَرَى : الْأَسْوِرَةُ وَالْخَلَاخِلُ وَقَوْلُهُ : شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ : يُرِيدُ أَنَّ فِيهِمَا بَعْضَ الْغِلَظِ . وَالْأَخْمَصُ مِنَ الْقَدَمِ فِي بَاطِنِهَا مَا بَيْنَ صَدْرِهَا وَعَقِبِهَا وَهُوَ الَّذِي لَا يَلْصِقُ بِالْأَرْضِ مِنَ الْقَدَمَيْنِ فِي الْوَطْءِ ، قَالَ الْأَعْشَى يَصِفُ امْرَأَةً بِإِبْطَاءٍ فِي الْمَشْيِ : ¤ كَأَنَّ أَخْمَصَهَا بِالشَّوْكِ مُنْتَعِلٌ وَقَوْلُهُ : خُمْصَانَ : يَعْنِي أَنَّ ذَلِكَ الْمَوْضِعَ مِنْ قَدَمَيْهِ فِيهِ تَجَافٍ عَنِ الْأَرْضِ وَارْتِفَاعٌ ، وَهُوَ مَأْخُوذٌ مِنْ خُمُوصَةِ الْبَطْنِ ، وَهِيَ ضَمْرُهُ ، يُقَالُ مِنْهُ : رَجُلٌ خُمْصَانٌ وَامْرَأَةٌ خُمْصَانَةٌ . وَقَوْلُهُ : مَسِيحَ الْقَدَمَيْنِ : يَعْنِي أَنَّهُمَا مَلْسَانِ ، وَأَنَّهُ لَيْسَ فِي ظُهُورِهِمَا تَكَسُّرٌ وَلِهَذَا قَالَ : يَنْبُو عَنْهُمَا الْمَاءُ : يَعْنِي أَنَّهُ لَا ثَبَاتَ لِلْمَاءِ عَلَيْهِمَا . وَقَوْلُهُ : إِذَا خَطَا تَكَفَّأَ : يَعْنِي التَّمَايُلَ ، أَخَذَهُ مِنْ تَكَفُّؤِ السُّفُنِ . وَقَوْلُهُ : ذَرِيعَ الْمِشْيَةِ : يَعْنِي وَاسِعَ الْخُطَا . كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ فِي صَبَبٍ : أَرَاهُ يُرِيدُ أَنَّهُ مُقْبِلٌ عَلَى مَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، غَاضٌّ بَصَرَهُ لَا يَرْفَعُهُ إِلَى السَّمَاءِ ، وَكَذَلِكَ يَكُونُ الْمُنْحَطُّ ، ثُمَّ فَسَّرَهُ فَقَالَ : خَافِضُ الطَّرْفِ نَظَرُهُ إِلَى الْأَرْضِ أَكْثَرُ مِنْ نَظَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ . وَقَوْلُهُ : إِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِيعًا : يُرِيدُ أَنَّهُ لَا يَلْوِي عُنُقَهُ دُونَ جَسَدِهِ فَإِنَّ فِي هَذَا بَعْضَ الْخِفَّةِ وَالطَّيْشِ . وَقَوْلُهُ : دَمِثَ : هُوَ اللَّيِّنُ السَّهْلُ ، وَمِنْهُ قِيلَ لِلرَّمْلِ : دَمِثٌ ، وَمِنْهُ حَدِيثُهُ أَنَّهُ أَرَادَ يَبُولُ فَمَالَ إِلَى دَمْثٍ . وَقَوْلُهُ : إِذَا غَضِبَ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ : وَالْإِشَاحَةُ : الْحَدُّ ، وَقَدْ يَكُونُ الْحَذَرَ . وَقَوْلُهُ : يَفْتَرُّ ، عَنْ حَبٍّ مِثْلِ حَبِّ الْغَمَامِ : أَرَادَ الْبَرَدَ شَبَّهَ بِهِ بَيَاضَ أَسْنَانِهِ ، قَالَ جَرِيرٌ : ¤ يَجْرِي السِّوَاكُ عَلَى أَغَرَّ كَأَنَّهُ بَرَدٌ تَحَدَّرَ مِنْ مُتُونِ غَمَامِ ¤ وَقَوْلُهُ : يَدْخُلُونَ رُوَّادًا : الرُّوَّادُ : الطَّالِبُونَ ، وَاحِدُهُمْ رَائِدٌ ، وَمِنْهُ قَوْلُهُمْ : الرَّائِدُ لَا يَكْذِبُ أَهْلَهُ . وَقَوْلُهُ : لِكُلِّ حَالٍ عِنْدَهُ عَتَادٌ : يَعْنِي عُدَّةً وَقَدْ أَعَدَّ لَهُ . وَقَوْلُهُ : لَا يُوَطِّنُ الْأَمَاكِنَ : أَيْ لَا يَجْعَلُ لِنَفْسِهِ مَوْضِعًا يُعْرَفُ ، إِنَّمَا يَجْلِسُ حَيْثُ يُمْكِنُهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي تَكُونُ فِيهِ حَاجَتُهُ ثُمَّ فَسَّرَهُ فَقَالَ : يَجْلِسُ حَيْثُ يَنْتَهِي بِهِ الْمَجْلِسُ ، وَمِنْهُ حَدِيثُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُوَطَّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَمَا يُوَطَّنُ الْبَعِيرُ . وَقَوْلُهُ : فِي مَجْلِسِهِ لَا تُؤْبَنُ فِيهِ الْحُرَمُ : يَقُولُ : لَا تُوصَفُ فِيهِ النِّسَاءُ ، مِنْهُ حَدِيثُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى عَنِ الشِّعْرِ إِذَا أُبِنَتْ فِيهِ النِّسَاءُ . ¤ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : كَانَ رِجَالٌ فِي الْمَسْجِدِ يَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ فَأَقْبَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَعِنْدَ بَيْتِ اللَّهِ تَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ ؟ ! فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّهُ لَيْسَ بِكَ بَأْسٌ يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشِّعْرِ إِذَا أُبِنَتْ فِيهِ النِّسَاءُ أَوْ تُرُوزِئَتْ فِيهِ الْأَمْوَالُ . وَقَوْلُهُ : لَا تُنْثَى فَلَتَاتُهُ : الْفَلَتَاتُ : السَّقَطَاتُ لَا يَتَحَدَّثُ بِهَا . يُقَالُ : نَثَوْتُ أَنْثُو وَالِاسْمُ مِنْهُ النَّثَا ، وَهَذِهِ الْهَاءُ الَّتِي فِي فَلَتَاتِهِ رَاجِعَةٌ عَلَى الْمَجْلِسِ ، أَلَا تَرَى أَنَّ صَدْرَ الْكَلَامِ أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنْ مَجْلِسِهِ ، وَقَالَ أَيْضًا : أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِمَجْلِسِهِ فَلَتَاتٌ يَحْتَاجُ أَحَدٌ أَنْ يَحْكِيَهَا ، فَلَتَاتُهُ : يُرِيدُ فَلَتَاتَ الْمَجْلِسِ لَا يَتَحَدَّثُ بِهَا بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14026
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (155/22)»
حدیث نمبر: 14027
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا غَضِبَ احْمَرَّ وَجْهُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غصے میں آتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام دارقطنی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14027
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (328/23)»
حدیث نمبر: 14028
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا غَضِبَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غصے میں آتے تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنپٹیاں سرخ ہو جاتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم ابویحیی تیمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14028
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9791)»
حدیث نمبر: 14029
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : خَرَجْتُ إِلَى الْيَمَنِ فَابْتَعْتُ حُلَّةَ ذِي يَزَنَ فَأَهْدَيْتُهَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قُرَيْشٍ فَقَالَ : " لَا أَقْبَلُ هَدِيَّةَ مُشْرِكٍ " . فَرَدَّهَا ، فَبِعْتُهَا فَاشْتَرَاهَا ، فَلَبِسَهَا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهِيَ عَلَيْهِ ، فَمَا رَأَيْتُ شَيْئًا فِي شَيْءٍ أَحْسَنَ مِنْهُ فِيهَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا مَكَثْتُ أَنْ قُلْتُ : ¤ وَمَا يَنْظُرُ الْحُكَّامُ فِي الْفَصْلِ بَعْدَ مَا بَدَا وَاضِحٌ مِنْ غُرَّةٍ وَحُجُولِ إِذَا قَايَسُوهُ الْمَجْدَ أَرْبَى عَلَيْهِمُ ¤ كَمُسْتَفْرِغِ مَاءِ الذِّنَابِ سَجِيلِ فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَبَسَّمَ ثُمَّ دَخَلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ أَطْوَلَ مِنْ هَذِهِ فِي الْهَدِيَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں یمن گیا ، وہاں میں نے ذی یزن کا حلہ خریدا ، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیا ، یہ اس مدت کی بات ہے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قریش کے درمیان صلح کا معاملہ چل رہا تھا تو آپ نے فرمایا : میں کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتا ہوں ، وہ آپ نے واپس کر دیا ، میں نے اسے فروخت کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حلہ خرید کے اسے پہنا ، پھر آپ نکل کر اپنے اصحاب کے پاس آئے ، تو وہ حلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر تھا ، میں نے اُس حلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت اور کوئی چیز نہیں دیکھی ، اور میں نے اس وقت یہ اشعار کہے : ” ثالث لوگ فیصلہ کرنے میں کس بات کا انتظار کر رہے ہیں ؟ جبکہ جو چیز ظاہر ہوئی ہے ، وہ چمک اور سجاوٹ کے حوالے سے واضح ہے ، جب وہ بزرگی کے حوالے سے ان کا موازنہ کرتے ہیں ، تو ان ( یعنی نبی کے مخالفین ) کے خلاف ( نبی کے حق میں دلائل ) زیادہ ہونے کا فیصلہ دے دیتے ہیں ، جس طرح چھوٹے ڈول کے مقابلے میں بڑے ڈول سے پانی حاصل کرنے والا شخص ہوتا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اشعار سنے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ویسے اُس کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے
یہ روایت طویل روایت کے طور پر ، ہدیہ دینے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14029
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ اس
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (3094)»
حدیث نمبر: 14030
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَلِيطٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْهِجْرَةِ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ رِضَى اللَّهُ عَنْهُ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنُ أُرَيْقِطٍ يَدُلُّهُمْ عَلَى الطَّرِيقِ فَمَرَّ بِأُمِّ مَعْبَدٍ الْخُزَاعِيَّةِ وَهِيَ لَا تَعْرِفُهُ فَقَالَ لَهَا : " يَا أُمَّ مَعْبَدٍ هَلْ عِنْدَكِ مِنْ لَبَنٍ ؟ " . قَالَتْ : وَاللَّهِ إِنَّ الْغَنَمَ عَازِبَةٌ . قَالَ : " فَمَا هَذِهِ الشَّاةُ الَّتِي أَرَاهَا فِي كِفَاءِ الْبَيْتِ ؟ " . قَالَتْ : شَاةٌ خَلَّفَهَا الْجَهْدُ عَنِ الْغَنَمِ . قَالَ : " أَتَأْذَنِينَ فِي حِلَابِهَا ؟ " . قَالَتْ : وَاللَّهِ مَا ضَرَبَهَا مِنْ فَحْلٍ قَطُّ وَشَأْنَكَ بِهَا . فَمَسَحَ ظَهْرَهَا وَضَرْعَهَا ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ يُرْبِضُ الرَّهْطَ ، فَحَلَبَ فِيهِ ، فَمَلَأَهُ فَسَقَى أَصْحَابَهُ بِهِ عَلَلًا بَعْدَ نَهْلٍ ، ثُمَّ حَلَبَ فِيهِ أُخْرَى فَغَادَرَهُ عِنْدَهَا وَارْتَحَلَ ، فَلَمَّا جَاءَ زَوْجُهَا عِنْدَ الْمَسَاءِ قَالَ لَهَا : يَا أُمَّ مَعْبَدٍ مَا هَذَا اللَّبَنُ وَلَا حَلُوبَةَ فِي الْبَيْتِ وَالْغَنَمُ عَازِبٌ ؟ قَالَتْ : لَا . وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّهُ مَرَّ بِنَا رَجُلٌ ظَاهِرُ الْوَضَاءِ مَلِيحُ الْوَجْهِ ، فِي أَشْفَارِهِ وَطَفٌ ، وَفِي عَيْنَيْهِ دَعَجٌ ، وَفِي صَوْتِهِ صَهَلٌ ، غُصْنٌ بَيْنَ غُصْنَيْنِ لَا تَشْنَاهُ مِنْ طُولٍ ، وَلَا تَقْتَحِمُهُ عَيْنٌ مِنْ قِصَرٍ ، لَمْ تَعْبَهْ ثَجْلَةٌ ، وَلَمْ تَزْرِ بِهِ صَعْلَةٌ ، كَأَنَّ عُنُقَهُ إِبْرِيقُ فِضَّةٍ ، إِذَا نَظَرْتَهُ عَلَاهُ الْبَهَاءُ ، وَإِذَا صَمَتَ فَعَلَيْهِ الْوَقَارُ ، كَلَامُهُ كَخَرَزِ النَّظْمِ ، أَزْيَنُ أَصْحَابِهِ مَنْظَرًا ، وَأَحْسَنُهُمْ وَجْهًا ، مَحْشُودٌ غَيْرُ مُفَنَّدٍ ، لَهُ أَصْحَابٌ يَحُفُّونَ بِهِ ، إِذَا أَمَرَ تَبَادَرُوا أَمْرَهُ ، وَإِذَا نَهَى انْتَهَوْا عِنْدَ نَهْيِهِ . فَقَالَ : هَذَا صَاحِبُ قُرَيْشٍ وَلَوْ رَأَيْتُهُ لَاتَّبَعْتُهُ ، وَلَأُجْهِدَنَّ أَنْ أَفْعَلَ ، وَلَمْ يَعْلَمُوا بِمَكَّةَ أَيْنَ تَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى سَمِعُوا هَاتِفًا يَهْتِفُ عَلَى أَبِي قَبِيسٍ : جَزَى اللَّهُ خَيْرًا وَالْجَزَاءُ بِكَفِّهِ رَفِيقَيْنِ قَالَا خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدِ هُمَا نَزَلَا بِالْبِرِّ وَارْتَحَلَا بِهِ فَقَدْ فَازَ مَنْ أَمْسَى رَفِيقَ مُحَمَّدِ فَمَا حَمَلَتْ مِنْ نَاقَةٍ فَوْقَ رَحْلِهَا أَبَرَّ وَأَوْفَى ذِمَّةً مِنْ مُحَمَّدِ وَأَكْسَى لِبَرْدِ الْحَالِ قَبْلَ ابْتِدَائِهِ وَأَعْطَى بِرَأْسِ السَّانِحِ الْمُتَجَرِّدِ لِيَهُنْ بَنِي كَعْبٍ مَكَانَ فَتَلَتِهِمْ وَمَقْعَدَهَا لِلْمُؤْمِنِينَ بِمَرْصَدِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنِ يَحْيَى الْمَدِينِيُّ وَنَسَبَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ إِلَى الْكَذِبِ وَقَالَ الْحَاكِمُ : صَدُوقٌ فَالْعَجَبُ مِنْهُ وَفِيهِ مَجَاهِيلُ أَيْضًا . وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ الطَّرِيقِ فِي الْمَغَازِي فِي الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سلیمان بن سلیط ، اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لئے نکلے ، تو آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ، اور سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ تھے ، جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، اور ابن اریقط نامی شخص تھا ، جو راستے کے بارے میں ان حضرات کو بتا رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدہ ام معبد خزاعیہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے ہوا ، وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتی نہیں تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اے ام معبد ! کیا تمہارے پاس دودھ ہے ؟ اس نے عرض کی : اللہ کی قسم ! بکریاں گئی ہوئی ہیں ( یا ان میں دودھ نہیں ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بکری کا کیا معاملہ ہے ؟ جسے میں گھر کے کونے میں دیکھ رہا ہوں ، اس خاتون نے بتایا : یہ ایک ایسی بکری ہے جو کمزوری کی وجہ سے دوسری بکریوں سے پیچھے رہ گئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم یہ اجازت دو گی کہ میں اس کا دودھ دوہ لوں ؟ اس خاتون نے کہا: اللہ کی قسم بھی کی بکرے نے اس کے ساتھ قربت نہیں کی ہے ، ویسے آپ اس کے ساتھ جو مرضی کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا ، اور پھر آپ نے ایک برتن منگوایا ، جسے زیادہ لوگ استعمال کر سکتے ہوں ، آپ نے اس میں دودھ دوہ لیا اور اس کو بھر دیا ، پھر آپ نے اپنے اصحاب کو اسے پلایا ، پھر آپ نے دوبارہ اس میں دودھ دوہ لیا اور وہ دودھ اس خاتون کے پاس چھوڑ کر آپ روانہ ہو گئے ، جب اس عورت کا شوہر شام کے وقت آیا ، تو اس نے خاتون سے کہا: اے ام معبد ! یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟ جبکہ گھر میں تو دودھ دوہنے کا کوئی انتظام ہی نہیں ہے ، اور بکریاں باہر گئی ہوئی تھیں ؟ اس خاتون نے جواب دیا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! معاملہ یہ ہے کہ ایک صاحب ہمارے پاس سے گزرے تھے ، جو وجیہہ و شکیل شخصیت کے مالک تھے ، ان کا چہرہ خوبصورت تھا ، ان کی پلکوں کے بال لمبے تھے ، ان کی آنکھیں سیاہ اور بڑی تھی ، ان کی آواز با رعب تھی ، وہ درمیانے قد و قامت کے مالک تھے ، وہ نہ تو لمبے تڑنگے محسوس ہوتے تھے اور نہ ہی چھوٹے قد کی وجہ سے آنکھ اُنہیں معیوب قرار دیتی تھی ، انہیں موٹاپا لاحق نہیں تھا ، اور نہ ہی وہ بالکل کمزور تھے ، ان کی گردن چاندی کی بنی ہوئی محسوس ہوتی تھی ، جب وہ دیکھتے تھے تو اُن پر نمایاں ہونا ظاہر ہوتا تھا ، اور جب خاموش ہوتے تھے ، تو ان پر وقار ہوتا تھا ، ان کی گفتگو موتیوں کی لڑی کی طرح تھی ، دیکھنے کے اعتبار سے وہ اپنے سب ساتھیوں سے زیادہ خوبصورت تھے ، اُن کا چہرہ سب سے زیادہ حسین تھا ، ان پر رشک کیا جا سکتا تھا ، اور وہ ایسے نہیں تھے کہ ان میں خرابی ہو ، ان کے ساتھ ان کے ساتھی بھی تھے ، جو انہیں گھیرے ہوئے تھے ، جب وہ ان ساتھیوں کو کوئی حکم دیتے تو وہ ساتھی لپک کر اس کی طرف جاتے ، اور جب وہ اُن ساتھیوں کو کسی چیز سے منع کرتے ، تو ان کے منع کرنے پر ، وہ ساتھی باز آ جاتے اس خاتون کے شوہر نے کہا: یہ تو قریش کے متعلقہ فرد ہیں ، اگر میں انہیں دیکھ لیتا ، تو ان کی پیروی کر لیتا ، اب میں پوری کوشش کروں گا کہ میں ایسا کر لوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مکہ میں لوگوں کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کون سی سمت کی طرف تشریف لے گئے ہیں ، یہاں تک کہ لوگوں نے جبل ابوقبیس پر کسی ہاتف کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے اور جزاء دینا ، اس کے ہاتھ میں ہے ، ان دو ساتھیوں کو ، جنہوں نے ام معبد کے خیمے میں پڑاؤ کیا تھا ، وہ دونوں نیکی کے ہمراہ وہاں ٹھہرے تھے اور پھر وہ دونوں وہاں سے روانہ ہو گئے ، تحقیق وہ شخص کامیاب ہو گیا ، جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی بن گیا ، کسی اونٹنی کے پالان پر کوئی ایسا شخص سوار نہیں ہوا ، جو ان سے زیادہ نیکی کرنے والا ہو اور ( ان سے زیادہ ) عہد کو پورا کرنے والا ہو ، انہوں نے آغاز سے پہلے حال کی چادر کو پہنایا ، اس شخص کے سر پر وہ چادر ڈالی ، جسے اس کی ضرورت تھی بنو کعب کو اپنی خاتون کی جگہ کے حوالے سے مبارکباد ہے ، جس خاتون کی رہائش گاہ ایمان والوں کے لئے محفوظ جگہ بنی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدینی ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی ہے ، امام حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، تو اس حوالے سے حیرت ہوتی ہے ، اس روایت کی سند میں اور بھی مجہول راوی ہیں ۔ اس سے پہلے یہ حدیث ” مغازی “ سے متعلق باب میں ، مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے جو دوسری سند کے ساتھ منقول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14030
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6510)»
حدیث نمبر: 14031
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا تَكَلَّمَ رُئِيَ كَالنُّورِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ ثَنَايَاهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کلام کرتے تھے ، تو یوں محسوس ہوتا تھا ، جیسے آپ کے سامنے والے دو دانتوں کے درمیان سے نور نکل رہا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابوثابت ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14031
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (771) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12181)»
حدیث نمبر: 14032
وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ قَالَ : لَمَّا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَا وَأُمِّي وَخَالَتِي وَرَجَعْنَا مِنْ عِنْدِهِ مُنْصَرِفِينَ قَالَتْ لِي أُمِّي وَخَالَتِي : يَا بُنَيَّ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ هَذَا الرَّجُلِ أَحْسَنَ مِنْهُ وَجْهًا ، وَلَا أَنْقَى ثَوْبًا ، وَلَا أَلْيَنَ كَلَامًا ، وَرَأَيْنَا كَأَنَّ النُّورَ يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی ، میں نے ، میری والدہ نے اور میری خالہ نے بیعت کی تھی ، اور ہم آپ کے پاس سے واپس آئے ، تو میری والدہ اور میری خالہ نے مجھ سے کہا: اے میرے بیٹے ! ہم نے ان جیسا کوئی فرد نہیں دیکھا ، جو ان کے چہرے سے زیادہ خوبصورت ہو ، اور ان سے زیادہ صاف کپڑے پہنتا ہو ، ان سے زیادہ نرم کلام کرتا ہو ، ہم نے یہ دیکھا کہ جیسے ان کے منہ سے نور نکل رہا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14032
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3518)»
حدیث نمبر: 14033
وَعَنْ جُبَيْرٍ - يَعْنِي ابْنَ مُطْعِمٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْتَفَتَ إِلَيْنَا بِوَجْهِهِ مِثْلَ شَقَّةِ الْقَمَرِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم چہرہ مبارک موڑ کر ہماری طرف متوجہ ہوئے ، تو وہ چاند کے ٹکڑے کی مانند تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14033
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1575)»
حدیث نمبر: 14034
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قُلْتُ لِلرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ : صِفِي لِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : لَوْ رَأَيْتَهُ رَأَيْتَ الشَّمْسَ طَالِعَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
ابوعبیدہ بن محمد بن بن عمار بن یاسر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ میرے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کریں ! تو انہوں نے فرمایا : ” اگر تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے ، تو یوں محسوس ہوتا جیسے سورج طلوع ہو رہا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14034
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (274/24)»
حدیث نمبر: 14035
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَمَا أَنْسَى بَيَاضَ وَجْهِهِ مَعَ شِدَّةِ سَوَادِ شَعْرِهِ ، إِنَّ مِنَ الرِّجَالِ مَنْ هُوَ أَطْوَلُ مِنْهُ ، وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ أَقْصَرُ مِنْهُ ، يَمْشِي وَيَمْشُونَ حَوْلَهُ ، فَقُلْتُ لِأُمِّي : مَنْ هَذَا ؟ قَالَتْ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، میں آپ کے بالوں کی سیاہی کے ہمراہ آپ کے چہرے کی سفیدی نہیں بھولا ، لوگوں میں ایسے لوگ بھی موجود تھے ، جو آپ سے طویل القامت تھے اور جو آپ سے کوتاہ قامت تھے آپ چل رہے تھے ، اور لوگ آپ کے اردگرد چل رہے ، میں نے اپنی والدہ سے دریافت کیا : یہ صاحب کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا : یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے صحیح میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14035
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2394)»
حدیث نمبر: 14036
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ : مَا نَظَرْتُ إِلَى بَطْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطُّ إِلَّا ذَكَرْتُ الْقَرَاطِيسَ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ” میں نے جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی طرف دیکھا ، تو مجھے یہی خیال آیا کہ جیسے قراطیس کو ایک دوسرے کے اوپر رکھا ہوا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14036
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (413/24)»
حدیث نمبر: 14037
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : كَانَتْ إِصْبَعُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَظَاهِرَةً . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ حَفْصٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں متظاہرہ تھیں ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن حفص ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14037
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14038
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ قَالَتْ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ إِصْبَعُهُ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ لَهَا فَضْلٌ فِي الطُّولِ عَلَى الْإِبْهَامِ . تَعْنِي : مِنَ الرِّجْلِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیده میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ کی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی انگوٹھے سے ذرا بڑی تھی ، راوی کہتے ہیں : اس خاتون کی مراد یہ تھی کہ پاؤں کی انگلیاں ایسی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14038
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (40/25) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (366/6)»
حدیث نمبر: 14039
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَصِفُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَانَ رَجُلًا رَبْعَةً وَهُوَ إِلَى الطُّولِ أَقْرَبُ ، شَدِيدَ الْبَيَاضِ ، أَسْوَدَ اللِّحْيَةِ ، حَسَنَ الشَّعْرِ ، أَهْدَبَ أَشْفَارِ الْعَيْنَيْنِ ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ ، يَطَأُ بِقَدَمَيْهِ جَمِيعًا لَيْسَ لَهُ أَخْمَصُ ، يُقْبِلُ جَمِيعًا ، وَيُدْبِرُ جَمِيعًا ، لَمْ أَرَ مِثْلَهُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے فرمایا : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے قد و قامت کے مالک تھے ، تاہم آپ طوالت کی طرف زیادہ قریب تھے ، آپ کا رنگ انتہائی سفید تھا اور داڑھی سیاہ تھی ، آپ کے بال خوبصورت تھے ، آنکھوں کی پلکیں لمبی تھیں ، کندھوں کے درمیان فاصلہ زیادہ تھا ، آپ دونوں پاؤں جما کر چلتے تھے ، آپ کا تلوا بالکل سیدھا تھا ، آپ مکمل طور پر سامنے آتے تھے اور مکمل طور پر مڑ جاتے تھے ، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کوئی نہیں دیکھا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14039
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2387)»
حدیث نمبر: 14040
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةُ هَكَذَا : لَحْمٌ نَاشِزٌ بَيْنَ كَتِفَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مہر نبوت کے بارے میں دریافت کیا گیا ، جو آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان تھی ، تو انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس طرح کچھ گوشت تھا ، جو دو کندھوں کے درمیان ابھرا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میسرہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14040
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (69/3)»
حدیث نمبر: 14041
وَعَنْ أَبِي زَيْدٍ - يَعْنِي عَمْرَو بْنَ أَخْطَبَ - قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا زَيْدٍ ، ادْنُ مِنِّي وَامْسَحْ ظَهْرِي " . وَكَشَفَ ظَهْرَهُ فَمَسَحْتُ ظَهْرَهُ ، وَجَعَلْتُ الْخَاتَمَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ قَالَ : فَغَمَزْتُهَا فَقِيلَ : وَمَا الْخَاتَمُ ؟ قَالَ : شَعْرٌ مُجْتَمِعٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : رَأَيْتُ الْخَاتَمَ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَكَذَا بِظَهْرِهِ كَأَنَّهُ يَخْتِمُ . وَأَحَدُ أَسَانِيدِهِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوزید عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے ابوزید ! میرے قریب ہو جاؤ ، اور میری پشت پر ہاتھ پھیرو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت سے کپڑا ہٹایا ، میں نے آپ کی پشت پر ہاتھ پھیرا ، تو میں نے مہر نبوت پر اپنی انگلیاں رکھیں ۔ راوی کہتے ہیں : ان سے دریافت کیا گیا : مہر نبوت سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : کچھ بال تھے جو اکٹھے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے اپنی ایک روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر مہر نبوت دیکھی ، جو آپ کی پشت پر اس طرح تھی کہ جیسے وہاں مہر لگائی گئی ہو ۔ “ اس کی اسانید میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14041
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (6846) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (77/5)»
حدیث نمبر: 14042
وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ كَانَ يَخْدِمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَاطَبَهُ يَهُودِيٌّ فَسَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبَيْهِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَكْرَهُ أَنْ يُرَى الْخَاتَمُ فَسَوَّيْتُهُ عَلَيْهِ فَقَالَ : " مَنْ فَعَلَ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : أَنَا قَالَ : " تَحَوُّلْ إِلَيَّ " . فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي فَأَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِي وَصَدْرِي وَقَالَ : " إِذَا أَتَانَا شَيْءٌ فَائْتِنِي " . فَأَتَيْتُهُ فَأَمَرَ لِي بِجَذَعَةٍ وَكَانَ الْخَاتَمُ عَلَى طَرَفِ كَتِفِهِ الْأَيْسَرِ كَأَنَّهُ رُكْبَةُ عَنْزٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباد بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ ایک یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا ، اس دوران آپ کے کندھے سے چادر گر گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ آپ کی مہر نبوت دکھائی دے ، میں نے آپ کی چادر درست کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ایسا کس نے کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : میں نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے سامنے آؤ ! تو میں آپ کے سامنے آ کے بیٹھ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور اسے میرے چہرے اور سینے تک پھیرا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جب ہمارے پاس کوئی چیز آئے گی ، تو تم میرے پاس آنا ، جب میں آپ کے پاس آیا ، تو آپ نے مجھے ایک جذعہ ( چار سال کا ہو کر پانچویں سال میں داخل ہونے والا اونٹ ) دینے کا حکم دیا ، وہ مہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں کندھے کی طرف تھی ، یوں لگتا تھا ، جیسے وہ کسی بکری کے بچہ کا گھٹنا ہو ( یعنی وہ چند بال تھے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14042
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14043
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَلْفِهِ لِأَنْظُرَ إِلَى مَوْضِعِ الْخَاتَمِ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيَّ أَلْقَى الرِّدَاءَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ . قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الْخَاتَمِ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں پیچھے کی طرف سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا ، تاکہ مہر نبوت کی جگہ کا جائزہ لوں ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو ، آپ نے چادر ہٹا دی اور میں نے اس کی زیارت کی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے مہر نبوت کے بارے میں ایک حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14043
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2066)»
حدیث نمبر: 14044
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْبَعُ ضَفَائِرَ فِي رَأْسِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں چار مینڈھیاں ہوتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14044
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1006)»
حدیث نمبر: 14045
وَعَنْهُ قَالَ : كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُمَّةٌ جَعْدَةٌ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال بڑے اور گھنگریالے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم اسدی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14045
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2390)»
حدیث نمبر: 14046
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْرَجَتْ لَهُ شَعَرَاتٍ مِنْ شَعْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ أَحْمَرُ مَصْبُوغٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
فضالہ بن عبید بیان کرتے ہیں : وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ بال نکال کر انہیں دکھائے ، تو وہ سرخ رنگ کے تھے اور اُن پر مہندی لگی ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14046
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (317/18)»
حدیث نمبر: 14047
وَعَنْ جَهْضَمِ بْنِ الضَّحَّاكِ قَالَ : مَرَرْتُ بِالرَّجِيعِ فَرَأَيْتُ بِهِ شَيْخًا قَالُوا : هَذَا الْعَدَّاءُ بْنُ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ فَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : صِفْهُ لِي فَقَالَ : كَانَ حَسَنَ السَّبَلَةِ ، وَكَانَتِ الْعَرَبُ تُسَمِّي اللِّحْيَةَ السَّبَلَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
جہضم بن ضحاک بیان کرتے ہیں : میں ” رجیع “ کے مقام سے گزرا ، تو میں نے وہاں بزرگ کو دیکھا ، تو لوگوں نے بتایا : یہ سیدنا عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ ہیں ، انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہوئی ہے ، میں نے کہا: آپ ان کا حلیہ میرے سامنے بیان کریں ، تو انہوں نے جواب دیا : وہ خوبصورت داڑھی کے مالک تھے ۔ راوی کہتے ہیں : عرب داڑھی کے لفظ ” سبلہ“ استعمال کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14047
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (14/18)»
حدیث نمبر: 14048
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا مَشَى مَشَى مُجْتَمِعًا لَيْسَ فِيهِ كَسَلٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَزَادَ : لَمْ يَلْتَفِتْ يُعْرَفُ فِي مَشْيِهِ أَنَّهُ غَيْرُ كَسِلٍ وَلَا وَهِنٍ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ التَّابِعِيَّ غَيْرُ مُسَمًّى وَقَدْ سَمَّاهُ الْبَزَّارُ وَهُوَ عِكْرِمَةُ وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تھے ، تو چاق و چوبند ہو کر چلتے تھے ، آپ میں کسل مندی نہیں ہوتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر ادھر توجہ نہیں دیتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چلنے سے یہ بات پتہ چل جاتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں کسل مندی یا کمزوری نہیں ہے ۔ “ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ تابعی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، امام بزار نے اس کا نام بیان کیا ہے ، اور وہ عکرمہ ہے ، اور وہ صحیح کے رجال میں سے ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14048
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2391) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (3034)»
حدیث نمبر: 14049
وَعَنْ أَبِي عِنَبَةَ قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا مَشَى مَشَى مَشْيًا يَقْلَعُ الصَّخْرَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعنبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تھے تو یوں چلتے تھے کہ پتھر کو توڑ دیں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14049
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2392)»
حدیث نمبر: 14050
وَعَنْ شَدَّادٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَإِذَا هِيَ أَلْيَنُ مِنَ الْحَرِيرِ وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ النَّصِيبِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا ، تو وہ ریشم سے زیادہ نرم اور برف سے زیادہ ٹھنڈا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن ایوب نصیبی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14050
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7110)»
حدیث نمبر: 14051
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْثَرَ مَا يَضْحَكُ إِلَّا حَتَّى تَرَى أَوْ تَبْدُوَ رَبَاعِيَّتُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسکراتے تھے ، تو آپ کے ” رباعیہ “ ( دانت ) نظر آ جایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14051
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14052
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْتِي أُمَّ سُلَيْمٍ وَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا ، وَكَانَ ثَقِيلَ النَّوْمِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں آتے تھے اور ان کے بچھونے پر سو جاتے تھے ، آپ کی نیند گہری ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی پوری حدیث نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 14052
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3769)»