مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا بُنِيَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامُ . باب: ان امور کا بیان، جن پر اسلام کی بنیاد ہے
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَمْسٌ مَنْ جَاءَ بِهِنَّ مَعَ إِيمَانٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ : مَنْ حَافَظَ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، عَلَى وُضُوئِهِنَّ وَرُكُوعِهِنَّ وَسُجُودِهِنَّ وَمَوَاقِيتِهِنَّ ، وَصَامَ رَمَضَانَ ، وَحَجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ، وَأَعْطَى الزَّكَاةَ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ ، وَأَدَّى الْأَمَانَةَ " قِيلَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَمَا أَدَاءُ الْأَمَانَةِ ؟ قَالَ : " الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ، إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمَنِ ابْنَ آدَمَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ دِينِهِ غَيْرِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤سیدنا ابودرداء روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” پانچ چیزیں ہیں ، جو شخص ایمان کے ہمراہ انہیں لائے گا ، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ، جو شخص پانچ نمازوں کی ، اُن کے وضو ، رکوع ، سجدوں اور اوقات سمیت ، حفاظت کرے ، رمضان کے روزے رکھے ، بیت اللہ کا حج کرے ، اگر وہ وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتا ہو ، اور اپنی خوشی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرے اور امانت ادا کرے ، عرض کی گئی : اے اللہ کے نبی ! امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنابت کے بعد غسل کرنا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو انسان کے دین کے حوالے سے ، اس کے علاوہ اور کسی چیز کے حوالے سے اندیشہ نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔