مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي دُعَائِهِ وَاشْتِرَاطِهِ فِيهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: نبی اکرم ﷺ کی دعا کے بارے میں اور آپ ﷺ کے اس دعا میں ایک شرط عائد کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : إِنَّ أَمْدَادَ الْعَرَبِ كَثُرُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى غَمُّوهُ ، وَقَامَ إِلَيْهِ الْمُهَاجِرُونَ يُفَرِّجُونَ عَنْهُ ، حَتَّى قَامَ عَلَى عَتَبَةِ عَائِشَةَ فَأَرْهَقُوهُ ، فَأَسْلَمَ رِدَاءَهُ فِي أَيْدِيهِمْ وَوَثَبَ عَنِ الْعَتَبَةِ فَدَخَلَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ الْعَنْهُمْ " ، قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَ الْقَوْمُ ، قَالَ : " كَلَّا - [ وَاللَّهِ ] - يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، إِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي شَرْطًا لَا خُلْفَ لَهُ ، قُلْتُ : إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَضِيقُ بِمَا يَضِيقُ بِهِ الْبَشَرُ ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ بَدَرَتْ إِلَيْهِ مِنِّي بَادِرَةٌ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً " ، قُلْتُ : لِعَائِشَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ لَمْ يُدْرِكْ عَائِشَةَ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : عربوں کے وفود بکثرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، یہاں تک کہ آپ پریشانی کا شکار ہو گئے ، مہاجرین اُٹھ کر آپ کے پاس آئے اور ان لوگوں کو آپ سے پرے کیا ، یہاں تک کہ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چوکھٹ کے پاس کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے ہاتھوں سے اپنی چادر چھڑوائی اور جلدی سے چوکھٹ پار کر کے اندر داخل ہو گئے ، پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ان پر لعنت کر ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ لوگ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہرگز نہیں ! اللہ کی قسم ! اے ابوبکر کی بیٹی ! میں نے ، اپنے پروردگار کے ساتھ یہ شرط طے کی ہے ، جس کی خلاف ورزی نہیں ہو گی ، میں نے یہ کہا: ہے : کہ میں ایک انسان ہوں ، میں اُسی طرح تنگی کا شکار ہو جاتا ہوں ، جس طرح کوئی انسان تنگی کا شکار ہوتا ہے ، تو مؤمنین میں سے جس کی طرف سے جلدبازی میں کوئی چیز چلی جائے تو اُس چیز کو اُس شخص کے لئے کفارہ بنا دینا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے منقول ہے ، تاہم وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس روایت کی سند حسن ہے ، البتہ محمد بن جعفر بن زبیر نامی راوی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔