مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَصَائِصِ . باب: ( نبی اکرم ﷺ کے ) خصائص کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ الضَّبِّيِّ أَنَّهُ أَتَى الْبَصْرَةَ وَبِهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَمِيرٌ ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي ظِلِّ الْقَصْرِ يَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . لَا يَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ : لَقَدْ أَكْثَرْتَ مِنْ قَوْلِكَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ! قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ إِنْ شِئْتَ لَأَخْبَرْتُكَ ، فَقُلْتُ : أَجَلْ ، فَقَالَ : إِذَنِ اجْلِسْ ، وَقَالَ : إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ مِنْ كَذَا وَكَذَا ، وَكَانَ شَيْخَانِ لِلْحَيِّ قَدِ انْطَلَقَ ابْنٌ لَهُمَا فَلَحِقَا بِهِ ، فَقَالَا : إِنَّكَ قَادِمُ الْمَدِينَةِ ، وَإِنَّ ابْنًا لَنَا قَدْ لَحِقَ بِهَذَا الرَّجُلِ ، فَائْتِهِ فَاطْلُبْهُ مِنْهُ ، فَإِنْ أَبَى إِلَّا الْفِدَاءَ فَافْتَدِهِ ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ شَيْخَيْنِ لِلْحَيِّ قَدْ أَمَرَانِي أَنْ أَطْلُبَ ابْنًا لَهُمَا عِنْدَكَ ، فَقَالَ : " تَعْرِفُهُ ؟ " ، فَقَالَ : أَعْرِفُ نَسَبَهُ ، فَدَعَا الْغُلَامَ فَجَاءَ ، فَقَالَ : " هُوَ ذَا فَائْتِ بِهِ أَبَاهُ " ، قُلْتُ : الْفِدَاءُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَنَا آلَ مُحَمَّدٍ أَنْ نَأْكُلَ ثَمَنَ أَحَدٍ مِنْ آلِ إِسْمَاعِيلَ " ،[ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَى كِتْفِي ] ثُمَّ قَالَ : " لَا أَخْشَى عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا " ، قُلْتُ : وَمَا لَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنْ طَالَ بِكَ عُمْرٌ رَأَيْتَهُمْ هَهُنَا ، حَتَّى تَرَى النَّاسَ بَيْنَهَا كَالْغَنَمِ بَيْنَ الْحَوْضَيْنِ مَرَّةً إِلَى هُنَا وَمَرَّةً إِلَى هُنَا " ، فَأَنَا أَرَى نَاسًا يَسْتَأْذِنُونَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَأَيْتُهُمُ الْعَامَ يَسْتَأْذِنُونَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَذَكَرْتُ قَوْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَعِمْرَانُ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤عمران بن حصین ضبی کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ بصرہ آئے ، وہاں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما گورنر تھے ، وہاں محل کے سائے میں ایک شخص کھڑا ہوا تھا ، اور یہ کہہ رہا تھا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ، وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ رہا تھا ، راوی کہتے ہیں : میں اس کے پاس گیا ، میں نے کہا: تم بکثرت یہ بات کہہ رہے ہو ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے ( اس کی وجہ کیا ہے ؟ ) اس نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر آپ چاہیں ، تو میں آپ کو اس بارے میں بتا دیتا ہوں ، میں نے کہا: ٹھیک ہے ، اس نے کہا: پھر آپ بیٹھ جائیں ، اس نے بتایا : ” ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں فلاں فلاں جگہ سے آیا تھا ، ہمارے قبیلے کے دو بوڑھوں کا لڑکا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملا تھا ، ان دونوں نے کہا: تم مدینہ منورہ جاؤ ! ہمارا بیٹا ان صاحب سے جا کے مل گیا ہے ، تم ان صاحب کے پاس جاؤ ، اور ان سے اس لڑکے کا مطالبہ کرو ، اگر وہ فدیہ لینا چاہیں ، تو تم انہیں فدیہ بھی دے دینا ، میں مدینہ منورہ آیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے قبیلے کے دو بوڑھے افراد نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں ان کے بیٹے کو آپ کے ہاں تلاش کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ راوی نے کہا: میں اس کا نسب پہچانتا ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کو بلوایا اور وہ آ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ہے وہ لڑکا ، تم اسے اس کے باپ کے پاس لے جاؤ ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس کا فدیہ کیا ہو گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمارے لئے یعنی آل محمد کے لئے یہ بات درست نہیں ہے کہ ہم اولاد اسماعیل میں سے کسی کی قیمت کھائیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : مجھے قریش کے بارے میں صرف ان کے اپنے حوالے سے ہی اندیشہ ہے ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! وہ کیوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہاری عمر طویل ہوئی ، تو تم اُن ( قریش ) کو دیکھو گے کہ وہ یہاں ( حکمران ) ہوں گے اور تم دوسرے لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ اُن کے درمیان یوں ہوں گے ، جیسے کوئی بکری ، دو حوضوں کے درمیان ہوتی ہے ، کبھی وہ اِدھر جاتی ہے ، کبھی اُدھر جاتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے ، اور پھر میں نے اُنہی لوگوں کو دیکھا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے ، تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد آ گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور عمران نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔