مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَعْثَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعُمُومِهَا وَنُزُولِ الْوَحْيِ . باب: آپ ﷺ کی بعثت ، آپ ﷺ کی بعثت کا عمومی ہونا اور وحی کے نزول کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13932
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ وَأَهْلُ الْغَنَمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بُعِثَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَرْعَى غَنَمًا [ عَلَى أَهْلِهِ ] ، وَبُعِثْتُ وَأَنَا أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي بِجِيَادٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اونٹ والوں اور بکری والوں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں ، فخر کا اظہار کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تھا ، تو وہ اپنے اہل خانہ کی بکریاں چراتے تھے اور جب مجھے مبعوث کیا گیا ، تو میں ” جیاد “ کے مقام پر اپنے اہل خانہ کی بکریاں چراتا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ مدلس ہے ۔