مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَعْثَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعُمُومِهَا وَنُزُولِ الْوَحْيِ . باب: آپ ﷺ کی بعثت ، آپ ﷺ کی بعثت کا عمومی ہونا اور وحی کے نزول کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ عَلِمْتَ أَنَّكَ نَبِيٌّ ؟ قَالَ : " مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ حَتَّى أَتَانِي مَلَكَانِ وَأَنَا بِبَعْضِ بَطْحَاءِ مَكَّةَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا : أَهْوَ هُوَ ؟ قَالَ : زِنْهُ بِرَجُلٍ ، [ فَوُزِنْتُ بِرَجُلٍ ]فَرَجَحْتُهُ ، قَالَ : فَزِنْهُ بِعَشَرَةٍ ، فَوَزَنَنِي بِعَشَرَةٍ فَوَزَنْتُهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : زِنْهُ بِمِائَةٍ ، فَوَزَنَنِي بِمِائَةٍ فَرَجَحْتُهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : زِنْهُ بِأَلْفٍ [ فَوَزَنَنِي بِأَلْفٍ ] فَرَجَحْتُهُمْ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ : لَوْ وَزَنْتَهُ بِأُمَّتِهِ لَرَجَحَهَا ، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : شُقَّ بَطْنَهُ ، فَشَقَّ بَطْنِي ثُمَّ أَخْرَجَ مِنْهُ مَغْمَزَ الشَّيْطَانِ وَعَلَقَ الدَّمِ فَطَرَحَهَا ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ : اغْسِلْ بَطْنَهُ غَسْلَ الْإِنَاءِ ، وَاغْسِلْ قَلْبَهُ غَسْلَ الْمُلَاءِ ، ثُمَّ دَعَا بِالسِّكِّينَةِ كَأَنَّهَا رَهْرَهَةٌ بَيْضَاءُ ، فَأُدْخِلَتْ قَلْبِي ، ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : خِطْ بَطْنَهُ . فَخَاطَ بَطْنِي وَجَعَلَا الْخَاتَمَ بَيْنَ كَتِفِي ، فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَلَّيَا عَنِّي كَأَنَّمَا أُعَايِنُ الْأَمْرَ مُعَايَنَةً " . وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ فِي حَدِيثِهِ : " فَجَعَلُوا يَنْتَثِرُونَ عَلَيَّ مِنْ كِفَّةِ الْمِيزَانِ " ، قُلْتُ : لِأَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي الْإِسْرَاءِ غَيْرُ هَذَا ، رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ كَبِيرٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَتَكَلَّمَ فِيهِ الْعُقَيْلِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کیسے پتہ چلا کہ آپ نبی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے پتہ نہیں تھا ، یہاں تک کہ مجھے یہ بات بتائی گئی ، میرے پاس دو فرشتے آئے ، میں اُس وقت مکہ کے میدان میں کسی جگہ موجود تھا ، ان میں سے ایک نے کہا: کیا یہ وہی ہیں ؟ پھر اس نے کہا: ایک شخص کے ساتھ ان کا وزن کرو ، جب میرا ایک شخص کے ساتھ وزن کیا گیا ، تو میرا پلڑا بھاری تھا ، اس نے کہا: دس افراد کے ساتھ ان کا وزن کرو ، اس نے دس افراد کے ساتھ میرا وزن کیا ، تو میرا وزن ان سے زیادہ تھا ، پھر اس نے کہا: ایک سو افراد کے ساتھ ان کا وزن کرو ، جب انہوں نے ایک سو افراد کے ساتھ میرا وزن کیا ، تو میرا وزن ان سے زیادہ تھا ، پھر اس نے کہا: ایک ہزار افراد کے ساتھ ان کا وزن کرو ، اس نے ایک ہزار افراد کے ساتھ میرا وزن کیا ، تو میرا پلڑا بھاری تھا ، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اگر تم ان کا وزن ان کی پوری امت کے ساتھ کرو گے ، تو بھی یہ ان سے بھاری ہوں گے ، پھر ان دونوں میں سے ایک نے کہا: ان کا پیٹ چیر دو ! پھر اس نے میرا پیٹ چیر دیا ، اور اس میں سے شیطان کا حصہ نکال دیا اور گوشت کا لوتھڑا نکالا ، اور اسے ایک طرف رکھ دیا ، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کے پیٹ کو دھو دو ! جس طرح برتن کو دھویا جاتا ہے ، اور ان کے دل کو دھو دو ! جس طرح چادر کو دھویا جاتا ہے ، پھر اس نے سکینت منگوائی ، وہ سفید چمک دار چیز کی مانند تھی ، وہ میرے دل میں داخل کر دی گئی ، پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: ان کے پیٹ کو سی دو ! تو اس نے میرے پیٹ کو سی دیا ، پھر میرے دونوں کندھوں کے درمیان انہوں نے مہر لگا دی ، اور پھر وہ میرے پاس سے چلے گئے ، اور یہ سب کچھ میں خود ملاحظہ کرتا رہا ۔ یہاں محمد بن معمر نے اپنی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” وہ لوگ ، میزان کے پلڑے سے میرے اوپر گرنے کے قریب تھے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ” صحیح “ میں واقعہ معراج سے متعلق باب میں مذکور ہے ، اور وہ اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن عبداللہ بن عثمان بن کبیر ہے ، جسے ابوحاتم رازی اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، عقیلی نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اور صحیح کے رجال ہیں ۔