مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَعْثَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعُمُومِهَا وَنُزُولِ الْوَحْيِ . باب: آپ ﷺ کی بعثت ، آپ ﷺ کی بعثت کا عمومی ہونا اور وحی کے نزول کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 13933
وَعَنْ وَرَقَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قُلْتُ : يَا مُحَمَّدُ ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الَّذِي يَأْتِيكَ ؟ يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِينِي مِنَ السَّمَاءِ جَنَاحَاهُ لُؤْلُؤٌ وَبَاطِنُ قَدَمَيْهِ أَخْضَرُ " ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ورقہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کے پاس جو فرشتہ آیا تھا ، وہ کیسے آپ کے پاس آیا تھا ؟ اُن کی مراد سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ آسمان سے میرے پاس آیا تھا ؟ اُس کے دونوں پَر موتیوں سے بنے ہوئے تھے ، اور اس کے دونوں پاؤں کا اندرونی حصہ سبز تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں ، اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔