مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَعْثَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعُمُومِهَا وَنُزُولِ الْوَحْيِ . باب: آپ ﷺ کی بعثت ، آپ ﷺ کی بعثت کا عمومی ہونا اور وحی کے نزول کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِخَدِيجَةَ : " إِنِّي أَرَى ضَوْءًا وَأَسْمَعُ صَوْتًا وَأَنَا أَخْشَى أَنْ يَكُونَ بِي جَنَنٌ " ، قَالَتْ : لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ يَا ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، ثُمَّ أَتَتْ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : إِنْ يَكُنْ صَادِقًا فَإِنَّ هَذَا نَامُوسٌ مِثْلَ نَامُوسِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ، وَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَيٌّ فَسَأُعَزِّرُهُ وَأَنْصُرُهُ وَأُومِنُ بِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مُتَّصِلًا وَمُرْسَلًا ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : وَأُعِينُهُ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : میں نے ایک روشنی دیکھی اور میں نے ایک آواز سنی ، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں مجھے جنون لاحق نہ ہو جائے ، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ایسا نہیں کرے گا ، اے سیدنا عبداللہ کے صاحبزادے ! پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ورقہ بن نوفل کے پاس آئیں اور ان کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو ورقہ نے کہا: اگر تو وہ سچ کہہ رہے ہیں ، تو پھر یہ وہی ” ناموس “ ( یعنی فرشتہ ) ہے ، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس آنے والے ” ناموس “ کی مانند ہے اگر انہیں ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) مبعوث کیا گیا اور میں اُس وقت زندہ ہوا ، تو میں اُن کی بھرپور تائید اور مدد کروں گا ، اور اُن پر ایمان لے آؤں گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ” متصل “ اور ” مرسل “ طور پر نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” میں اُن کی اعانت کروں گا “ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔