مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَخْبَرَ بِنُبُوَّتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: ان افراد کا بیان ، جنہوں نے آپ ﷺ کی نبوت کے بارے میں اطلاع دی
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْأَسَدِيِّ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ذَاتَ يَوْمٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ : حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ يُعْجِبُنِي . فَقَالَ : حَدَّثَنِي خُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ الْأَسَدِيُّ قَالَ : خَرَجْتُ فِي بُغَاءَ إِبِلٍ لِي فَأَصَبْتُهَا بِالْأَبْرَقِ ، أَبْرَقِ الْعَزَّافِ ، فَعَقَلْتُهَا وَتَوَسَّدْتُ ذِرَاعَ بَعِيرٍ مِنْهَا ، وَذَلِكَ حَدَثَانِ خُرُوجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قُلْتُ : أَعُوذُ بِكَبِيرِ هَذَا الْوَادِي ، أَعُوذُ بِعَظِيمِ هَذَا الْوَادِي - قَالَ : وَكَذَلِكَ كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ - فَإِذَا هَاتِفٌ يَهْتِفُ وَيَقُولُ : ¤ وَيْحَكَ عُذْ بِاللَّهِ ذِي الْجَلَالِ مُنَزِّلِ الْحَرَامِ وَالْحَلَالِ وَوَحِّدِ اللَّهَ وَلَا تُبَالِ ¤ مَا هَوْلُ ذِي الْجِنِّ مِنَ الْأَهْوَالِ إِذْ يُذْكَرُ اللَّهُ عَلَى الْأَمْيَالِ ¤ وَفِي سُهُولِ الْأَرْضِ وَالْجِبَالِ وَصَارَ كَيْدُ الْجِنِّ فِي سَفَالِ ¤ إِلَّا التُّقَى وَصَالِحَ الْأَعْمَالِ ¤ قَالَ : فَقُلْتُ : ¤ يَا أَيُّهَا الدَّاعِي أَلَا مَا تُحِيلُ أَرُشْدٌ عِنْدَكَ أَمْ تَضْلِيلُ ؟ ¤ قَالَ : ¤ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ ذُو الْخَيْرَاتِ جَاءَ بِيَاسِينَ وَحَامِيمَاتِ ¤ وَسُوَرٍ بَعْدُ مُفَصَّلَاتٍ مُحَرِّمَاتٍ وَمُحَلِّلَاتِ يَأْمُرُ بِالصَّوْمِ وَبِالصَّلَاةِ ¤ وَيَزْجُرُ النَّاسَ عَنِ الْهَنَاتِ قَدْ كُنَّ فِي الْأَيَّامِ مُنْكَرَاتِ ¤ قَالَ : قُلْتُ : مَنْ أَنْتَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ؟ قَالَ : أَنَا مَالِكٌ ، بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى جِنِّ أَهْلِ نَجْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لَوْ كَانَ لِي مَنْ يَكْفِينِي إِبِلِي هَذِهِ لَأَتَيْتُهُ حَتَّى أُؤْمِنَ بِهِ : قَالَ : أَنَا أَكْفِيكَهَا حَتَّى أُؤَدِّيَهَا إِلَى أَهْلِكَ سَالِمَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَاعْتَقَلْتُ بَعِيرًا مِنْهَا ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ ، فَوَافَقْتُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ ، فَقُلْتُ : يَقْضُونَ صَلَاتَهُمْ ثُمَّ أَدْخُلُ ، قَالَ : فَإِنِّي أُنِيخُ رَاحِلَتِي إِذْ خَرَجَ إِلَيَّ أَبُو ذَرٍّ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فَقَالَ لِي : يَقُولُ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ادْخُلْ " ، فَدَخَلْتُ ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : " مَا فَعَلَ الشَّيْخُ الَّذِي ضَمِنَ لَكَ أَنْ يُؤَدِّيَ إِبِلَكَ ؟ أَمَا إِنَّهُ قَدْ أَدَّاهَا سَالِمَةً " ، قَالَ : فَقُلْتُ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجَلْ رَحِمَهُ اللَّهُ " . فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤حسن بن زبیر اسدی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: تم مجھے کوئی ایسی بات بتاؤ ، جو مجھے پسند آئے ، تو انہوں نے بتایا : سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ” میں اپنے گمشدہ اونٹ کی تلاش میں نکلا ، میں ” ابرق “ کے مقام پر اس تک پہنچ گیا ، میں نے اسے باندھا ، اس اونٹ نے وہاں پاؤں بچھایا ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے زمانے کی بات ہے ، پھر میں نے بلند آواز میں کہا: میں اس وادی کے سب سے بڑے فرد کی پناہ لیتا ہوں ، میں اس وادی کے سب سے عظیم فرد کی پناہ لیتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : وہ لوگ زمانہ جاہلیت میں اسی طرح کہا: کرتے تھے تو اسی دوران کسی ہاتف غیبی نے یہ اشعار کہے : ” تمہارا ستیاناس ہو ، تم اللہ کی پناہ مانگو ، جو جلال والا ہے ، جو حرام اور حلال کا حکم نازل کرنے والا ہے ، تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرو ، اور اس بات کی پروا نہ کرو کہ جنات کی کیا ہولناکیاں ہوتی ہیں ، جب کوئی میلوں کے فاصلے پر اللہ کا ذکر کرے اور ہموار زمین اور پہاڑوں میں ذکر کرے ، تو جن کا فریب نیچے چلا جاتا ہے ، اور پرہیزگار شخص اور نیک عمل کا حکم مختلف ہے ( یعنی وہ نیچے نہیں جاتے ہیں ) ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں تو میں نے کہا: ” اے پکارنے والے شخص ! تم کس چیز کی طرف جانے کا کہہ رہے ہو ؟ کیا تمہارے پاس ہدایت ہے یا گمراہی ہے ؟ “ ۔ اُس نے جواب دیا : ” یہ اللہ کے رسول ہیں ، جو بھلائی والے ہیں ، یہ سورہ ” یٰس “ اور ” حم “ سے شروع ہونے والی سورتیں لے کے آئے ہیں ، اور ان کے علاوہ مفصل سورتیں ہیں ، جو حرام قرار دینے والی ہیں ، اور حلال قرار دینے والی ہیں ، یہ رسول روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں ، اور لوگوں کو برائیوں سے روکتے ہیں ، جو پہلے زمانے میں بھی منکر سمجھی جاتی تھیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: تم کون ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اس نے کہا: میں مالک بن مالک ہوں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اہل مسجد کے جنات کی طرف بھیجا ہے ، میں نے کہا: اگر میرے لئے کوئی ایسا فرد ہوتا ، جو میرے اس اونٹ کے حوالے سے میری کفایت کرتا ، تو میں ان کے پاس چلا جاتا ، یہاں تک کہ ان پر ایمان لے آتا ، اس نے کہا: میں اس اونٹ کے حوالے سے تمہاری کفایت کروں گا ، یہاں تک کہ اسے تمہارے گھر والوں تک سالم پہنچا دوں گا ، اگر اللہ نے چاہا ، تو میں نے اس اونٹ کو کھولا اور پھر میں مدینہ منورہ آ گیا ، میں جمعہ کے دن لوگوں کے پاس پہنچا ، وہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے ، میں نے کہا: یہ لوگ نماز ادا کر لیں گے ، پھر میں اندر جاؤں گا ، ابھی میں وہیں تھا اور اپنی سواری کو باندھ رہا تھا ، اسی دوران سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نکل کر میرے پاس آئے اور بولے : اللہ کے رسول تم سے یہ فرما رہے ہیں کہ تم اندر آ جاؤ ! میں اندر گیا ، جب آپ نے مجھے ملاحظہ کیا ، تو آپ نے فرمایا : اس بزرگ کا کیا حال ہے ؟ جس نے تمہیں یہ ضمانت دی تھی کہ وہ تمہارا اونٹ پہنچا دے گا ، کیا اس نے صحیح پہنچا دیا ہے ؟ تو میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے یہ کہا: کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔