حدیث نمبر: 13915
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ خُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا أُخْبِرُكَ كَيْفَ كَانَ بَدْءُ إِسْلَامِي ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَطُوفُ فِي طَلَبِ نَعَمٍ لِي ، إِذَا أَنَا مِنْهَا عَلَى أَثَرٍ ، إِذِ اجْتَنَّ اللَّيْلُ بِأَبْرَقِ الْعِرَاقِ فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي : أَعُوذُ بِعَزِيزِ هَذَا الْوَادِي مِنْ سُفَهَاءِ قَوْمِهِ ، فَإِذَا هَاتِفٌ يَهْتِفُ : ¤ وَيْحَكَ عُذْ بِاللَّهِ ذِي الْجَلَالِ وَالْمَجْدِ وَالنَّعْمَاءِ وَالْإِفْضَالِ وَاقْتِرْ آيَاتٍ مِنَ الْأَنْفَالِ ¤ وَوَحِّدِ اللَّهَ وَلَا تُبَالِ ¤ قَالَ : فَذُعِرْتُ ذُعْرًا شَدِيدًا ، فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى نَفْسِي قُلْتُ : ¤ يَا أَيُّهَا الْهَاتِفُ مَا تَقُولُ ؟ أَرُشْدٌ عِنْدَكَ أَمْ تَضْلِيلُ ¤ بَيِّنْ لَنَا هُدِيتَ مَا الْحَوِيلُ ¤ قَالَ : ¤ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ ذُو الْخَيْرَاتِ بِيَثْرِبَ يَدْعُو إِلَى النَّجَاةِ ¤ يَأْمُرُ بِالصَّوْمِ وَبِالصَّلَاةِ وَيَزَعُ النَّاسَ عَنِ الْهَنَاتِ ¤ قَالَ : فَانْبَعَثَتْ رَاحِلَتِي فَقُلْتُ : ¤ أَرْشِدْنِي رُشْدًا هُدِيتَ لَا جُعْتَ وَلَا عُرِّيتَ ¤ وَلَا بَرِحْتَ سَعِيدًا مَا بَقِيتَ وَلَا تُؤْثِرَنَّ عَلَيَّ الْخَيْرَ الَّذِي أُتِيتَ ¤ . ¤ قَالَ : فَاتَّبَعَنِي وَهُوَ يَقُولُ : . ¤ سَلَّمَكَ اللَّهُ وَسَلَّمَ نَفْسَكَا وَبَلَغَ الْأَهْلَ وَأَدَّى رَحْلَكَا ¤ آمِنْ بِهِ أَفْلَحَ رَبِّي حَقَّكَا وَانْصُرْهُ أَعَزَّ رَبِّي نَصْرَكَا ¤ . ¤ قَالَ : فَدَخَلْتُ الْمَدِينَةَ وَذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَاطَّلَعْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ لِي أَبُو بَكْرٍ الصَّدِيقُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : ادْخُلْ رَحِمَكَ اللَّهُ ، فَقَدْ بَلَغَنَا إِسْلَامُكَ ، فَقُلْتُ : لَا أُحْسِنُ الطَّهُورَ ، فَعَلَّمَنِي ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ كَأَنَّهُ الْبَدْرُ وَهُوَ يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً يُخَفِّفُهَا وَيَعْقِلُهَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، فَقَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : لَتَأْتِيَنَّ عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأُنَكِّلَنَّ بِكَ ، قَالَ : فَشَهِدَ شَيْخُ قُرَيْشٍ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَجَازَ شَهَادَتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِهِ . . . . قُلْتُ : وَيَأْتِي بَابُ أَخْبَارِ الذِّئْبِ وَالضَّبِّ وَالظَّبْيَةِ بِنُبُوَّتِهِ فِي الْمُعْجِزَاتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المؤمنین ! کیا میں آپ کو یہ نہ بتاؤں کہ میں نے کیسے اسلام قبول کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے بتایا : ایک مرتبہ میں اپنے جانوروں کی تلاش میں گھوم پھر رہا تھا ، اسی دوران تاریک رات میں مجھے ایک نشان نظر آیا ، تو میں نے بلند آواز میں پکار کر کہا: میں اس وادی کے معزز شخص کی پناہ مانگتا ہوں ، اس کی قوم کے بے وقوف لوگوں کے حوالے سے ، تو اسی دوران کسی ہاتف نے پکار کر کہا: ” تمہارا ستیاناس ہو ، تم اللہ کی پناہ لو ، جو جلال والا ہے ، بزرگی والا ، نعمتیں دینے والا ، کرم کرنے والا ہے ، اور اضافی چیزوں کی نشانیوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرو ، اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرو ، اور اس بارے میں کوئی پرواہ نہ کرو “ راوی کہتے ہیں : میں بہت زیادہ ڈر گیا ، جب میری طبیعت سنبھلی تو میں نے کہا: اسے ہاتف ! تم کیا کہہ رہے ہو ؟ کیا تمہارے پاس ہدایت ہے ، یا گمراہی ہے ، تم ہمارے سامنے یہ بات بیان کرو کہ اگر تمہیں ہدایت نصیب ہوئی ہے ، تو اس کا ذریعہ کیا ہے ؟ “ ۔ اُس نے جواب دیا : یہ اللہ کے رسول ہیں ، جو بھلائی والے ہیں ، وہ یثرب میں ہیں ، اور نجات کی طرف دعوت دیتے ہیں ، وہ نماز اور روزے کا حکم دیتے ہیں ، اور لوگوں کو برائیوں سے روکتے ہیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : میری اونٹنی کھڑی ہوئی ، تو میں نے کہا: ” تم اس ہدایت کے بارے میں میری رہنمائی کرو ، جو ہدایت تمہیں نصیب ہوئی ہے ، نہ تم بھوکے ہو ، نہ تمہیں لباس کی ضرورت ہے ، اور جب تک تم باقی رہو گے ، تم ہمیشہ سعادت مند رہو گے ، اور تم نے جو بھلائی کی ہے ، اس کے حوالے سے تم ترجیحی سلوک نہیں کرو گے “ راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ یہ کہتا ہوا میرے پیچھے آ گیا : ” اللہ تعالیٰ تمہیں سلامت رکھے اور تمہارے نفس کو سلامت رکھے اور تمہیں گھر والوں تک پہنچا دے ، اور تمہاری سواری واپس کر دے ، تم اس پر ایمان لاؤ ، میرا پروردگار تمہارے حق کو کامیابی عطا کرے گا ، تم ان کی مدد کرو ، میرا پروردگار تمہیں مدد سے نوازے گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : پھر میں مدینہ منورہ آیا ، یہ جمعہ کے دن کی بات ہے ، میں نے مسجد میں جھانک کر دیکھا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ باہر نکل کر میرے پاس آئے اور بولے : تم اندر آ جاؤ ! اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، ہمیں تمہارے اسلام قبول کرنے کے بارے میں اطلاع مل چکی ہے ، تو میں نے کہا: مجھے وضو کرنا نہیں آتا ، آپ مجھے تعلیم دیجئے پھر میں مسجد میں داخل ہوا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ منبر پر موجود تھے ، یوں لگ رہا تھا جیسے چودھویں کا چاند ہو ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے : ” جو بھی مسلمان وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے اور پھر نماز ادا کرے ، یوں کہ وہ اسے مناسب طور پر سمجھ کر ادا کرے تو وہ شخص جنت میں داخل ہو جائے گا ۔ “ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا تو تم اس بارے میں کوئی ثبوت پیش کرو ، ورنہ پھر میں تمہیں سزا دوں گا ، راوی کہتے ہیں : تو قریش سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں گواہی دی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی گواہی کو تسلیم کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : بھیڑیے ، گوہ اور ہرنی جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی گواہی دی تھی ، ان کے بارے میں واقعات سے متعلق روایات ، معجزات کے بیان میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13915
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4165)»