مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَخْبَرَ بِنُبُوَّتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: ان افراد کا بیان ، جنہوں نے آپ ﷺ کی نبوت کے بارے میں اطلاع دی
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ : بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ ، إِذْ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ فِي مُؤَخِّرِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَتَعْرِفُ هَذَا الْجَائِي ؟ قَالَ : لَا ، فَمَنْ هُوَ ؟ قَالَ : هَذَا سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ وَهُوَ [ رَجُلٌ ] مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، لَهُ فِيهِمْ شَرَفٌ وَمَوْضِعٌ ، قَدْ أَتَاهُ رَئِيُّهُ بِظُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : عَلَيَّ بِهِ ، فَدَعَا بِهِ فَقَالَ : أَنْتَ سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَنْتَ الَّذِي أَتَاكَ رَئِيُّكَ بِظُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنْتَ عَلَى مَا كُنْتَ عَلَيْهِ مِنْ كَهَانَتِكَ ؟ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا ، وَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا اسْتَقْبَلَنِي بِهَذَا أَحَدٌ مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا سُبْحَانَ اللَّهِ ، مَا كُنَّا عَلَيْهِ مِنَ الشِّرْكِ أَعْظَمُ مِمَّا كُنْتَ عَلَيْهِ مِنْ كَهَانَتِكَ ، أَخْبِرْنِي بِإِتْيَانِكَ رَئِيُّكَ بِظُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، بَيْنَا أَنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ ، إِذْ أَتَانِي رَئِيِّي فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ : قُمْ يَا سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ فَافْهَمْ وَاعْقِلْ إِنْ كُنْتَ تَعْقِلُ ، إِنَّهُ قَدْ بُعِثَ رَسُولٌ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ يَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى عِبَادَتِهِ ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ : ¤ عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَتَجْسَاسِهَا وَشَدِّهَا الْعِيسَ بِأَحْلَاسِهَا تَهْوِي إِلَى مَكَّةَ تَبْغِي الْهُدَى ¤ مَا خَيْرُ الْجِنِّ كَأَنْجَاسِهَا فَارْحَلْ إِلَى الصَّفْوَةِ مِنْ هَاشِمٍ ¤ وَاسْمُ بِعَيْنَيْكَ إِلَى رَاسِهَا ¤ قَالَ : فَلَمْ أَرْفَعْ بِقَوْلِهِ رَأْسًا وَقُلْتُ : دَعْنِي أَنَمْ فَإِنِّي أَمْسَيْتُ نَاعِسًا ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ التَّالِيَةُ ، أَتَانِي فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ : أَلَمْ أَقُلْ لَكَ يَا سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ : قُمْ وَافْهَمْ وَاعْقِلْ إِنْ كُنْتَ تَعْقِلُ ؟ إِنَّهُ قَدْ بُعِثَ رَسُولٌ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ يَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى عِبَادَتِهِ ثُمَّ أَنْشَأَ الْجِنِّيُّ يَقُولُ : ¤ عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَتَطْلَابِهَا وَشَدِّهَا الْعِيسَ بِأَقْتَابِهَا ¤ تَهْوِي إِلَى مَكَّةَ تَبْغِي الْهُدَى مَا صَادِقُ الْجِنِّ كَكَذَّابِهَا ¤ فَارْحَلْ إِلَى الصَّفْوَةِ مِنْ هَاشِمٍ لَيْسَ قُدَّامُهَا كَأَذْنَابِهَا ¤ قَالَ : فَلَمْ أَرْفَعْ لِقَوْلِهِ رَأْسًا ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّالِثَةُ أَتَانِي فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ ، وَقَالَ : أَلَمْ أَقُلْ لَكَ يَا سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ افْهَمْ وَاعْقِلْ إِنْ كُنْتَ تَعْقِلُ ؟ إِنَّهُ قَدْ بُعِثَ رَسُولٌ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ يَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى عِبَادَتِهِ ، ثُمَّ أَنْشَأَ الْجِنِّيُّ يَقُولُ : ¤ عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَأَخْبَارِهَا وَشَدِّهَا الْعِيسَ بَأَكْوَارِهَا ¤ تَهْوِي إِلَى مَكَّةَ تَبْغِي الْهُدَى مَا مُؤْمِنُو الْجِنِّ كَكُفَّارِهَا ¤ فَارْحَلْ إِلَى الصَّفْوَةِ مِنْ هَاشِمٍ بَيْنَ رَوَابِيهَا وَأَحْجَارِهَا ¤ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي حُبُّ الْإِسْلَامِ وَرَغِبْتُ فِيهِ ، فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحْتُ شَدَدْتُ عَلَى رَاحِلَتِي فَانْطَلَقْتُ مُتَوَجِّهًا إِلَى مَكَّةَ ، فَلَمَّا كُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ لِي : فِي الْمَسْجِدِ ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَعَقَلْتُ رَاحِلَتِي ، وَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ حَوْلَهُ قُلْتُ : اسْمَعْ مَقَالَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : ادْنُهْ ، ادْنُهْ ، فَلَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى صِرْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : هَاتِ فَأَخْبِرْنِي بِإِتْيَانِكَ رَئِيُّكَ ، فَقُلْتُ : ¤ أَتَانِي نَجِيِّي بَيْنَ هَدْءٍ وَرَقْدَةٍ وَلَمْ يَكُ فِيمَا قَدْ بَلَوْتُ بِكَاذِبٍ ¤ ثَلَاثَ لَيَالٍ كُلُّهُنَّ يَقُولُ لِي أَتَاكَ رَسُولٌ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ ¤ فَشَمَّرْتُ عَنْ ذَيْلِ الْإِزَارِ وَوَسَّطَتْ بِيَ الذِّعْلِبُ الْوَجْنَاءُ بَيْنَ السَّبَاسِبِ ¤ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ لَا رَبَّ غَيْرُهُ وَأَنَّكَ مَأْمُونٌ عَلَى كُلِّ غَائِبٍ ¤ وَأَنَّكَ أَوْلَى الْمُرْسَلِينَ وَسِيلَةً إِلَى اللَّهِ يَا ابْنَ الْأَكْرَمِينَ الْأَطَايِبِ ¤ فَمُرْنَا بِمَا يَأْتِيكَ يَا خَيْرَ مُرْسَلٍ وَإِنْ كَانَ فِيمَا جَاءَ شَيْبُ الذَّوَائِبِ ¤ وَكُنْ لِي شَفِيعًا يَوْمَ لَا ذُو شَفَاعَةٍ سِوَاكَ بِمُغْنٍ عَنْ سَوَادِ بْنِ قَارِبِ ¤ قَالَ : فَفَرِحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ بِإِسْلَامِي فَرَحًا شَدِيدًا حَتَّى رُؤِيَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ ، قَالَ : فَوَثَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِلَيْهِ وَالْتَزَمَهُ وَقَالَ : قَدْ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ هَذَا مِنْكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران مسجد کے پچھلے حصے میں سے ایک شخص ان کے پاس سے گزرا ، اس شخص نے کہا: اے امیر المؤمنین ! کیا آپ اس آنے والے شخص کو پہچانتے ہیں ؟ انہوں نے کہا: جی نہیں ! یہ کون ہے ؟ تو اس نے بتایا : یہ سواد بن قارب ہیں ، یہ اہل یمن سے تعلق رکھنے والے ایک فرد ہیں ، جنہیں یمن میں ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے ، اور ان کے مؤکل نے انہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بارے میں بتایا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے میرے پاس لے کر آؤ ، وہ انہیں بلا کے لائے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم سواد بن قارب ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم وہ شخص ہو ، جس کے مؤکل نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بارے میں بتایا تھا ، اس نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم پہلے جو کہانت کیا کرتے تھے ، کیا وہ اب بھی کر رہے ہو ؟ وہ شدید غصے میں آ گیا ، اس شخص نے کہا: اے امیر المؤمنین ! جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ، میں نے کبھی اس طرح کا کوئی کام نہیں کیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سبحان اللہ ! ہم جو شرک پر لوگ گامزن رہے ہیں ، یہ اس سے زیادہ بڑی چیز تھی ، جس پر تم اپنی کہانت کے حوالے سے گامزن رہے ہو ، پھر تم مجھے بتاؤ کہ تمہیں اس بارے میں پتہ چلا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہونے والا ہے ؟ اس نے کہا: جی ہاں ! اے امیر المؤمنین ! ایک رات میں سونے اور جاگنے کے درمیان کی کیفیت میں تھا ، اسی دوران میرا مؤکل میرے پاس آیا ، اس نے اپنا پاؤں مجھے مارا اور بولا: اے سواد بن قارب ! تم اُٹھ جاؤ ، بات سمجھ لو اور یاد ر کھو ، اگر تم سمجھ سکتے ہو ، لؤی بن غالب میں سے ، ایک رسول مبعوث ہو گئے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیں گے ، پھر اس نے یہ اشعار پڑھے : ” مجھے جن اور اس کے جاسوسی کرنے پر حیرانگی ہوتی ہے کہ اس نے اونٹ پر کپڑے ڈال لیے ہیں ، اور وہ مکہ کی طرف جا کر ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے ، اور جنوں میں سے بہتر ، ان ( جنات ) کے نجس کی مانند نہیں ہیں ، تو تم بھی ہاشم سے تعلق رکھنے والے منتخب فرد کی طرف سفر کرو ، اور اپنی دونوں آنکھوں کے ذریعے ، اُن کے سر پر نشان لگاؤ ( یعنی ان کی زیارت کرو ) ۔ “ سواد بن قارب کہتے ہیں : میں نے اس کی بات کی طرف توجہ نہیں کی ، میں نے کہا: چھوڑو بھی ، ابھی شام کے وقت میں اونگھ رہا تھا ، جب اگلی رات آئی ، تو پھر وہ میرے پاس آیا اس نے پھر مجھے پاؤں مارا اور کہا: اے سواد بن قارب ! کیا میں نے تمہیں کہا: نہیں تھا کہ تم اُٹھو اور سمجھ لو اور یاد رکھو ، اگر تم یاد رکھ سکتے ہو کہ لؤی بن غالب میں سے ایک رسول مبعوث ہو گئے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں ، پھر اس جنّ نے یہ اشعار پڑھے : ” مجھے جن اور اس کے تلاش کرنے پر حیرت ہوتی ہے کہ اس نے اونٹ پر پالان باندھ دیا ہے وہ مکہ کی طرف جا کر ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے ، اور سچا جن جھوٹے کی مانند نہیں ہوتا ہے ، تو تم ہاشم ( کے خاندان ) سے تعلق رکھنے والے برگزیدہ فرد کی طرف جاؤ اُس کا آگے والا حصہ ، اس کی دم ( یعنی پچھلے حصے ) کی مانند نہیں ہوتا ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے اس کی بات کی طرف توجہ نہیں دی ، جب تیسری رات آئی تو پھر وہ میرے پاس آیا اور اس نے اپنا پاؤں مجھے مارا اور اس نے کہا: اے سواد بن قارب ! کیا میں نے تمہیں کہا: نہیں تھا کہ تم سمجھ لو اور یاد رکھو ، اگر تم یاد رکھ سکتے ہو کہ لؤی بن غالب میں سے ایک رسول مبعوث ہو گئے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں ، پھر اس جنّ نے یہ اشعار پڑھے : ” مجھے جن اور اس کے خبر دینے پر حیرت ہوتی ہے کہ اس نے اونٹ پر متعلقہ چیزیں لاد دی ہیں ، اور وہ مکہ جا کر ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے ، مومن جن ، کافر جن کی مانند نہیں ہوتا ہے ، تو تم باشم ( کے خاندان ) سے تعلق رکھنے والے برگزیدہ فرد کی طرف جاؤ ، جو وہاں کے زمین کے بلند حصوں اور پتھروں کے درمیان ہیں ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو میرے دل میں اسلام کی محبت اور اس میں رغبت پیدا ہو گئی ، جب صبح ہوئی تو میں نے اپنی سواری پر پالان باندھا اور مکہ کی طرف روانہ ہو گیا ، راستے میں مجھے کسی جگہ پر یہ بات پتہ چلی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے گئے ہیں ، تو میں مدینہ منورہ آ گیا ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا ، تو بتایا گیا کہ وہ مسجد میں ہوں گے ، میں ، مسجد میں آیا ، میں نے اپنی سواری کو باندھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، آپ کے اردگرد لوگ موجود تھے ، میں نے کہا: یا رسول اللہ آپ میری بات سن لیجئے ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے قریب آنے دو ! میں قریب ہو گیا ، میں قریب ہوتا رہا ، یہاں تک کہ بالکل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بتاؤ ! تمہارے مؤکل نے آ کر کیا کہا: تھا ؟ تو میں نے یہ کہا: ” میرا مؤکل میرے پاس آیا ، جبکہ میں نیند اور بیداری کے درمیان کی حالت میں تھا ، اس سے پہلے میں نے اسے جب بھی آزمایا ، تو وہ جھوٹا ثابت نہیں ہوا ، وہ تین راتوں تک میرے پاس آتا رہا ، اور ہر مرتبہ وہ مجھ سے یہی کہتا رہا : لؤی بن غالب سے تعلق رکھنے والے رسول تمہارے پاس آ گئے ہیں ، تو میں نے سفر کی تیاری شروع کی اور ایک موٹی تازی اونٹنی ، جس کا منہ بڑا تھا ، وہ مجھے لے کر صحراؤں میں سے گزری ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے کہ جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ ہر غیر موجود کے حوالے سے محفوظ ہیں ، رسولوں میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلے کے طور پر ، ہونے کے اعتبار سے ، آپ سب سے زیادہ قریبی ( یا موزوں ) ہیں ، اے سب سے زیادہ معزز اور پاکیزہ لوگوں کے صاحبزادے ! جو ( دین ) آپ کے پاس آیا ہے ، آپ اُس کے حوالے سے ہمیں حکم دیں ، اسے سب رسولوں سے بہتر ! اگرچہ جو ( دین یا حکم ) آیا ہے ، اس میں بال سفید ہونے کا امکان کیوں نہ ہو ، اور آپ اس دن میری شفاعت کرنے والے بن جائیں ، جس دن آپ کے علاوہ اور کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہو گا ، جو سواد بن قارب کے کام آ سکے ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو میرے اسلام قبول کرنے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب بہت خوش ہوئے ، یہاں تک کہ ان کے چہروں سے یہ بات محسوس ہو رہی تھی ۔ ( جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں انہوں نے یہ واقعہ بیان کر دیا ، تو ) راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اُٹھ کر ان کی طرف بڑھے ، انہوں نے ان کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور بولے : میں یہ چاہتا تھا کہ میں تمہاری زبانی یہ بات سنوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔