مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَخْبَرَ بِنُبُوَّتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: ان افراد کا بیان ، جنہوں نے آپ ﷺ کی نبوت کے بارے میں اطلاع دی
وَعَنْ مَازِنِ بْنِ الْغَضُوبَةِ قَالَ : كُنْتُ أَسْدُنُ صَنَمًا يُقَالُ لَهُ : بَاحِرٌ بِسَمَائِلَ قَرْيَةٍ بِعُمَانَ ، فَعَبَرْنَا ذَاتَ يَوْمٍ وَعِنْدَهُ عُنَيْزَةٌ - وَهِيَ الذَّبِيحَةُ - فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ الصَّنَمِ يَقُولُ :
يَا مَازِنُ اسْمَعْ تُسَرْ ظَهَرَ خَيْرٌ وَبَطَنَ شَرْ بُعِثَ نَبِيٌّ مِنْ مُضَرْ بِدِينِ اللَّهِ الْأَكْبَرْ فَدَعْ نَحِيتًا مِنْ حَجَرْ تَسْلَمْ مِنْ حَرِّ سَقَرْ
قَالَ : فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ وَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا لَعَجَبٌ ، ثُمَّ عَبَرْتُ بَعْدَ أَيَّامٍ فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ الصَّنَمِ يَقُولُ :
أَقْبِلْ إِلَيَّ أَقْبِلْ تَسْمَعْ مَا لَا تَجْهَلْ هَذَا نَبِيٌّ مُرْسَلْ جَاءَ بِحَقٍّ مُنْزَلْ آمِنْ بِهِ كَيْ تَعْدِلْ عَنْ حَرِّ نَارٍ تُشْعَلْ وَقُودُهَا بِالْجَنْدَلْ
فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا لَعَجَبٌ وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ يُرَادُ بِي ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ قَدِمَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الْحِجَازِ فَقُلْنَا : مَا الْخَبَرُ وَرَاءَكَ ؟ قَالَ : ظَهَرَ رَجُلٌ [ يُقَالُ لَهُ أَحْمَدُ ] يَقُولُ لِمَنْ أَتَاهُ : " أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ " ، فَقُلْتُ : هَذَا نَبَأُ مَا قَدْ سَمِعْتُ ، فَسِرْتُ إِلَى الصَّنَمِ فَكَسَرْتُهُ [ أَجْذَاذًا ] وَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَرَحَ لِي الْإِسْلَامَ فَأَسْلَمْتُ وَقُلْتُ :
كَسَرْتُ نَاجِزًا َجُذَاذًا وَكَانَ لَنَا رَبًّا نَطِيفُ بِهِ عُمْيًا بِضَلَالِ بِالْهَاشِمِيِّ هُدِينَا مِنْ ضَلَالَتِهِ
وَلَمْ يَكُنْ دِينُهُ مِنِّي عَلَى بَالِ يَا رَاكِبًا بَلِّغَنْ عَمْرًا وَإِخْوَتَهُ
أَنِّي لَمَنْ قَالَ : رَبِي نَاجِزٌ قَالِ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ الصَّلْتِ وَإِخْوَتَهُ بَنِي خُطَامَةَ ، قَالَ مَازِنٌ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرُؤٌ مُولَعٌ بِالطَّرَبِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ وَالْهَلُوكِ - قَالَ ابْنُ الْكَلْبِي : وَالْهَلُوكُ الْفَاجِرَةُ مِنَ النِّسَاءِ - وَأَلَحَّتْ عَلَيْنَا السُّنُونَ ، فَأَذْهَبَتِ الْأَمْوَالَ وَأَهْزَلَتِ الذَّرَارِيَ ، وَلَيْسَ لِي وَلَدٌ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ عَنِّي مَا أَجِدُ ، وَيَأْتِيَنِي بِالْحَيَاءِ وَيَهَبُ لِي وَلَدًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ أَبْدِلْهُ بِالطَّرَبِ قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ ، وَبِالْحَرَامِ الْحَلَالَ ، وَبِالْعُهْرِ عِفَّةَ الْفَرْجِ ، وَبِالْخَمْرِ رَيًّا لَا إِثْمَ فِيهِ ، وَآتِهِمْ بِالْحَيَا ، وَهَبَ لَهُ وَلَدًا " ، قَالَ مَازِنٌ : فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَنِّي مَا كُنْتُ أَجِدُ وَوَهَبَ اللَّهُ لِي حَبَارَ بْنَ مَازِنٍ ، وَأَنْشَأَ يَقُولُ :
إِلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ خَبَّتْ مَطِيَّتِي تَجُوبُ الْفَيَافِي مِنْ عُمَانَ إِلَى الْعَرْجِ
لِتَشْفَعَ لِي يَا خَيْرَ مَنْ وَطِئَ الْحَصَى فَيَغْفِرَ لِي رَبِّي فَأَرْجِعَ بِالْفَلْجِ
إِلَى مَعْشَرٍ خَالَفْتُ فِي اللَّهِ دِينَهُمْ فَلَا رَأْيُهُمْ رَأْيِي وَلَا شَرْحُهُمْ شَرْحِي
وَكُنْتُ امْرَءًا بِالْعُهْرِ وَالْخَمْرِ مُولَعًا حَيَاتِيَ حَتَّى آذَنَ الْجِسْمُ بِالنَّهْجِ
فَبَدَّلَنِي بِالْخَمْرِ خَوْفًا وَخَشْيَةً وَبِالْعُهْرِ إِحْصَانًا فَحَصَّنَ لِي فَرْجِي
[ فَأَصْبَحْتُ هَمِّي مِنَ الْجِهَادِ وَنِيَّتِي فَلِلَّهِ مَا صَوْمِي وِلِلَّهِ مَا حَجِّي ]
.
فَلَمَّا أَتَيْتُ قَوْمِي أَنَّبُونِي وَشَتَمُونِي ، وَأَمَرُوا شَاعِرَهُمْ فَهَجَانِي ، فَقُلْتُ : إِنْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ [ فَ ] إِنَّمَا أَهْجُو نَفْسِي فَاعْتَزَلْتُهُمْ إِلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ وَقُلْتُ :
بُغْضُكُمْ عِنْدَنَا مُرَمَّدًا فِيهِ وَبُغْضُنَا عِنْدَكُمْ يَا قَوْمَنَا لَبَنُ
لَا نَفْطُنُ الدَّهْرَ إِنْ بَانَتْ مَعَايِبُكُمْ وَكُلُّكُمْ حِينَ يَبْدُو عَيْبُنَا فَطِنُ
شَاعِرُنَا مُعْجَمٌ عَنْكُمْ وَشَاعِرُكُمْ فِي حَرْبِنَا مُولَعٌ فِي شَتْمِنَا لَسِنُ
مَا فِي الْقُلُوبِ عَلَيْكُمْ فَاعْلَمُوا وَغَرٌ وَفِي صُدُورِكُمُ الْبَغْضَاءُ وَالْإِحَنُ
.
فَأَتَتْنِي مِنْهُمْ أَزْفَلَةٌ عَظِيمَةٌ ، فَقَالُوا : يَا ابْنَ عَمِّنَا عِبْنَا عَلَيْكَ أَمْرًا وَكَرِهْنَاهُ لَكَ ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَشَأْنَكَ وَدِينَكَ ، فَارْجِعْ فَقُمْ بِأُمُورِنَا ، وَكُنْتُ الْقَيِّمَ بِأُمُورِهِمْ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ ثُمَّ هَدَاهُمُ اللَّهُ بَعْدُ إِلَى الْإِسْلَامِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، مِنْ طَرِيقِ هِشَامِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا مَتْرُوكٌ .
سیدنا مازن بن غضوبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں عمان کی ایک بستی سمائل میں ” باحر “ نامی بت کا نگران تھا ، ایک دن ہم وہاں آئے ، اس کے پاس ایک ذبیحہ موجود تھا ، اسی دوران میں نے بت میں سے آواز سنی جو کہہ رہا تھا : ” اے مازن تم سنو ! تمہیں خوشی ہو گی ، بھلائی ظاہر ہو گئی اور شر چھپ گیا ، مضر ( قبیلے ) سے تعلق رکھنے والے نبی مبعوث ہو گئے ہیں ( وہ ) سب سے بڑے اللہ کے دین کے ہمراہ ( مبعوث ہوئے ہیں ) تم پتھر کے بتوں کو چھوڑ دو ، تم جہنم کی گرمی سے بچ جاؤ گے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں پریشان ہو گیا ، میں نے کہا: یہ بڑی حیران کن بات ہے ، پھر اس کے کچھ دن بعد میں آیا ، تو میں نے بت میں سے آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا : ” آؤ میری طرف آؤ ، وہ سن لو ، جس سے تم ناواقف نہیں ہو ، یہ نبی مرسل ہیں ، جو نازل شدہ حق لے کر آئے ہیں ، ان پر ایمان لے آؤ تاکہ تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ کی تپش سے پھیر دیا جائے ، جس کا ایندھن جندل ( یعنی زمین ) میں ہے ۔ “ تو میں نے کہا: یہ تو بڑی حیران کن بات ہے ، اور یہ ایک بھلائی ہے ، جو میرے بارے میں مراد لی جا رہی ہے ، ابھی ہم وہاں اسی حالت میں تھے کہ ایک شخص حجاز سے ہمارے پاس آیا ، ہم نے کہا: تمہارے پیچھے کیا خیر خبر ہے ؟ اس نے کہا: ایک صاحب کا ظہور ہوا ہے ، جن کا نام ” أحمد “ ہے ، جو اُن کے پاس جاتا ہے ، وہ اس سے یہ کہتے ہیں : اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات کو قبول کرو ، میں نے کہا: یہ تو وہ خبر ہے کہ جس کے بارے میں میں سن چکا ہوں ، پھر میں اپنے بت کی طرف گیا ، اور میں نے اسے ٹکڑوں میں توڑ دیا ، پھر میں اپنی سواری پر سوار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے لئے شرح صدر عطا کیا ، اور میں نے اسلام قبول کیا ، پھر میں نے یہ اشعار کہے : ” میں نے بت کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ، اس کو جو ہمارا معبود ہوا کرتا تھا ، گمراہی کے اندھے پن کی وجہ سے طواف کیا کرتے تھے ، اور اس گمراہی سے نجات ، ہمیں ایک ہاشمی کے ذریعے ملی جن کے دین کو میں پہلے کوئی توجہ نہیں دیتا تھا ، اے سوار ! تم عمرو اور اس کے بھائیوں تک یہ پیغام پہنچا دو کہ میں اس شخص کو ناپسند کرنے والا ہوں ، جو یہ کہے : کہ بت میرا معبود ہے ۔ ان کی مراد عمرو بن صلت اور بنو خطامہ سے تعلق رکھنے والے اس کے بھائی تھے ۔ سیدنا مازن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ایسا شخص ہوں ، جو موسیقی کا دلدادہ ہے ، شراب پیتا ہے ، زنا کرتا ہے اور ہم پر قحط سالی کے سال گزرے ہیں ، جس نے اموال ختم کر دیے ہیں ، غلاموں اور کنیزوں کو کمزور کر دیا ہے ، میری کوئی اولا دبھی نہیں ہے ، تو آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ مجھے جس صورت حال کا سامنا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو ختم کر دے ، مجھے حیاء نصیب کر دے اور مجھے اولاد نصیب کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! اس کی گائیگی کی جگہ اسے قرآن کی قرأت عطا کر دے ، حرام کی جگہ حلال عطا کر دے ، زنا کی جگہ شرمگاہ کی عفت عطا کر دے ، شراب کو چھڑوا کر اسے ایسی چیز کے ذریعے سیراب کر دے جس میں کوئی گناہ نہ ہو اور اسے حیاء نصیب کر دے اور اسے اولاد نصیب کر دے ۔ “ سیدنا مازن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے جو چیزیں مجھے محسوس ہوتی تھیں ، وہ سب اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیں ، اس نے مجھے حیاء عطا کر دی ، میں نے قرآن کے ایک بڑے حصے کا علم حاصل کر لیا اور اسی دوران عمان میں قحط سالی ختم ہو گئی ، میں حج کرنے کے لئے گیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے حیان بن مازن ( یعنی بیٹا عطا کر دیا ) پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ” یا رسول اللہ ! میری سواری آپ کی طرف تیزی سے چلتی ہوئی گئی ہے ، اس نے عمان سے عرج تک بڑے بڑے صحراؤں کو عبور کیا ہے ، تاکہ آپ میری شفاعت کریں ، اے وہ فرد جو ان سب سے بہتر ہیں ، جو کنکریوں پر چلتے ہیں ، اور میرا پروردگار میری مغفرت کر دے ، اور میں کامیابی کے ہمراہ لوٹ جاؤں ، اس گروہ کی طرف کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں میرا عقیدہ ان کے دین سے مختلف ہے ، تو جو ان کی رائے ہے وہ میری نہیں ہے ، اور جو ان کا طبقہ ہے وہ میرا نہیں ہے ، میں ایک ایسا شخص تھا جو زنا اور شراب نوشی کا ، زندگی بھر دلدادہ رہا ، یہاں تک کہ جسم بوسیدہ ہو گیا ، تو اس ( اللہ تعالیٰ ) نے مجھے شراب کی جگہ خوف اور خشیت عطا کر دیے اور زناکاری کی جگہ پاکدامنی عطا کر کے میری شرمگاہ کو محفوظ کر دیا ، تو اب میری تمام تر توجہ کا مرکز اور میری نیت جہاد ہے ، اور میرا روزہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور میرا حج اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ۔ “ جب میں اپنی قوم کے پاس آیا ، تو انہوں نے مجھے برا بھلا کہا: اور انہوں نے اپنے شاعر سے کہا: ، تو اس نے میری ہجو بیان کی ، میں نے سوچا : اگر میں نے ان لوگوں کو جواب دیا ، تو اس طرح تو میں اپنے آپ کی ہجو بیان کروں گا ، تو میں ان لوگوں سے الگ ہو کے سمندر کے ساحل کی طرف آ گیا اور میں نے کہا: ” ہمارے نزدیک تم سے بغض رکھنا ہلاکت ہے ، اور اے ہماری قوم ہم سے بغض رکھنا تمہارے نزدیک ، دودھ ہے ( یا کمزوری ہے ) تمہارے عیوب ظاہر ہوئے تو ایک عرصے تک ہمیں اس کا پتہ ہی نہیں چل سکا اور جب ہمارا عیب ظاہر ہوتا تو تم سب فوراً سمجھ جاتے تھے ، ہمارا شاعر گونگا تھا اور ہمارے ساتھ جنگ کے دوران تمہارا شاعر ہمیں برا کہنے میں بڑھ چڑھ کر زبان دراز تھا ، تم لوگ یہ بات جان لو کہ دلوں میں تمہارے خلاف اشتعال نہیں ہے ، لیکن تمہارے دلوں میں بغض اور دشمنی ہے ۔ “ اس کے بعد اُن لوگوں میں سے بہت سے لوگ میرے پاس آئے اور بولے : اے چچازاد ! ہم نے تم پر اعتراض کیا تھا اور تمہارے لئے اس چیز کو ناپسندیدہ قرار دیا تھا ، اگر تم نہیں مانتے تو ٹھیک ہے ، تم اپنے دین پر گامزن رہو ، تم واپس آؤ اور ہمارے معاملات کی دیکھ بھال کرو ، تو میں ان کے معاملات کا نگران بن گیا ، پھر میں ان لوگوں کے پاس واپس آ گیا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بھی اسلام کی طرف ہدایت نصیب کر دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ہشام بن محمد بن سائب کلبی کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ، اور یہ دونوں متروک ہیں ۔