حدیث نمبر: 13911
وَعَنْ مَازِنِ بْنِ الْغَضُوبَةِ قَالَ : كُنْتُ أَسْدُنُ صَنَمًا يُقَالُ لَهُ : بَاحِرٌ بِسَمَائِلَ قَرْيَةٍ بِعُمَانَ ، فَعَبَرْنَا ذَاتَ يَوْمٍ وَعِنْدَهُ عُنَيْزَةٌ - وَهِيَ الذَّبِيحَةُ - فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ الصَّنَمِ يَقُولُ : ¤ يَا مَازِنُ اسْمَعْ تُسَرْ ظَهَرَ خَيْرٌ وَبَطَنَ شَرْ بُعِثَ نَبِيٌّ مِنْ مُضَرْ بِدِينِ اللَّهِ الْأَكْبَرْ فَدَعْ نَحِيتًا مِنْ حَجَرْ تَسْلَمْ مِنْ حَرِّ سَقَرْ ¤ قَالَ : فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ وَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا لَعَجَبٌ ، ثُمَّ عَبَرْتُ بَعْدَ أَيَّامٍ فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ الصَّنَمِ يَقُولُ : ¤ أَقْبِلْ إِلَيَّ أَقْبِلْ تَسْمَعْ مَا لَا تَجْهَلْ هَذَا نَبِيٌّ مُرْسَلْ جَاءَ بِحَقٍّ مُنْزَلْ آمِنْ بِهِ كَيْ تَعْدِلْ عَنْ حَرِّ نَارٍ تُشْعَلْ وَقُودُهَا بِالْجَنْدَلْ ¤ فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا لَعَجَبٌ وَإِنَّهُ لَخَيْرٌ يُرَادُ بِي ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ قَدِمَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الْحِجَازِ فَقُلْنَا : مَا الْخَبَرُ وَرَاءَكَ ؟ قَالَ : ظَهَرَ رَجُلٌ [ يُقَالُ لَهُ أَحْمَدُ ] يَقُولُ لِمَنْ أَتَاهُ : " أَجِيبُوا دَاعِيَ اللَّهِ " ، فَقُلْتُ : هَذَا نَبَأُ مَا قَدْ سَمِعْتُ ، فَسِرْتُ إِلَى الصَّنَمِ فَكَسَرْتُهُ [ أَجْذَاذًا ] وَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَرَحَ لِي الْإِسْلَامَ فَأَسْلَمْتُ وَقُلْتُ : ¤ كَسَرْتُ نَاجِزًا َجُذَاذًا وَكَانَ لَنَا رَبًّا نَطِيفُ بِهِ عُمْيًا بِضَلَالِ بِالْهَاشِمِيِّ هُدِينَا مِنْ ضَلَالَتِهِ ¤ وَلَمْ يَكُنْ دِينُهُ مِنِّي عَلَى بَالِ يَا رَاكِبًا بَلِّغَنْ عَمْرًا وَإِخْوَتَهُ ¤ أَنِّي لَمَنْ قَالَ : رَبِي نَاجِزٌ قَالِ يَعْنِي عَمْرَو بْنَ الصَّلْتِ وَإِخْوَتَهُ بَنِي خُطَامَةَ ، قَالَ مَازِنٌ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرُؤٌ مُولَعٌ بِالطَّرَبِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ وَالْهَلُوكِ - قَالَ ابْنُ الْكَلْبِي : وَالْهَلُوكُ الْفَاجِرَةُ مِنَ النِّسَاءِ - وَأَلَحَّتْ عَلَيْنَا السُّنُونَ ، فَأَذْهَبَتِ الْأَمْوَالَ وَأَهْزَلَتِ الذَّرَارِيَ ، وَلَيْسَ لِي وَلَدٌ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ عَنِّي مَا أَجِدُ ، وَيَأْتِيَنِي بِالْحَيَاءِ وَيَهَبُ لِي وَلَدًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ أَبْدِلْهُ بِالطَّرَبِ قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ ، وَبِالْحَرَامِ الْحَلَالَ ، وَبِالْعُهْرِ عِفَّةَ الْفَرْجِ ، وَبِالْخَمْرِ رَيًّا لَا إِثْمَ فِيهِ ، وَآتِهِمْ بِالْحَيَا ، وَهَبَ لَهُ وَلَدًا " ، قَالَ مَازِنٌ : فَأَذْهَبَ اللَّهُ عَنِّي مَا كُنْتُ أَجِدُ وَوَهَبَ اللَّهُ لِي حَبَارَ بْنَ مَازِنٍ ، وَأَنْشَأَ يَقُولُ : ¤ إِلَيْكَ رَسُولَ اللَّهِ خَبَّتْ مَطِيَّتِي تَجُوبُ الْفَيَافِي مِنْ عُمَانَ إِلَى الْعَرْجِ ¤ لِتَشْفَعَ لِي يَا خَيْرَ مَنْ وَطِئَ الْحَصَى فَيَغْفِرَ لِي رَبِّي فَأَرْجِعَ بِالْفَلْجِ ¤ إِلَى مَعْشَرٍ خَالَفْتُ فِي اللَّهِ دِينَهُمْ فَلَا رَأْيُهُمْ رَأْيِي وَلَا شَرْحُهُمْ شَرْحِي ¤ وَكُنْتُ امْرَءًا بِالْعُهْرِ وَالْخَمْرِ مُولَعًا حَيَاتِيَ حَتَّى آذَنَ الْجِسْمُ بِالنَّهْجِ ¤ فَبَدَّلَنِي بِالْخَمْرِ خَوْفًا وَخَشْيَةً وَبِالْعُهْرِ إِحْصَانًا فَحَصَّنَ لِي فَرْجِي ¤ [ فَأَصْبَحْتُ هَمِّي مِنَ الْجِهَادِ وَنِيَّتِي فَلِلَّهِ مَا صَوْمِي وِلِلَّهِ مَا حَجِّي ] ¤ . ¤ فَلَمَّا أَتَيْتُ قَوْمِي أَنَّبُونِي وَشَتَمُونِي ، وَأَمَرُوا شَاعِرَهُمْ فَهَجَانِي ، فَقُلْتُ : إِنْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ [ فَ ] إِنَّمَا أَهْجُو نَفْسِي فَاعْتَزَلْتُهُمْ إِلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ وَقُلْتُ : ¤ بُغْضُكُمْ عِنْدَنَا مُرَمَّدًا فِيهِ وَبُغْضُنَا عِنْدَكُمْ يَا قَوْمَنَا لَبَنُ ¤ لَا نَفْطُنُ الدَّهْرَ إِنْ بَانَتْ مَعَايِبُكُمْ وَكُلُّكُمْ حِينَ يَبْدُو عَيْبُنَا فَطِنُ ¤ شَاعِرُنَا مُعْجَمٌ عَنْكُمْ وَشَاعِرُكُمْ فِي حَرْبِنَا مُولَعٌ فِي شَتْمِنَا لَسِنُ ¤ مَا فِي الْقُلُوبِ عَلَيْكُمْ فَاعْلَمُوا وَغَرٌ وَفِي صُدُورِكُمُ الْبَغْضَاءُ وَالْإِحَنُ ¤ . ¤ فَأَتَتْنِي مِنْهُمْ أَزْفَلَةٌ عَظِيمَةٌ ، فَقَالُوا : يَا ابْنَ عَمِّنَا عِبْنَا عَلَيْكَ أَمْرًا وَكَرِهْنَاهُ لَكَ ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَشَأْنَكَ وَدِينَكَ ، فَارْجِعْ فَقُمْ بِأُمُورِنَا ، وَكُنْتُ الْقَيِّمَ بِأُمُورِهِمْ ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ ثُمَّ هَدَاهُمُ اللَّهُ بَعْدُ إِلَى الْإِسْلَامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، مِنْ طَرِيقِ هِشَامِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ السَّائِبِ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ وَكِلَاهُمَا مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا مازن بن غضوبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں عمان کی ایک بستی سمائل میں ” باحر “ نامی بت کا نگران تھا ، ایک دن ہم وہاں آئے ، اس کے پاس ایک ذبیحہ موجود تھا ، اسی دوران میں نے بت میں سے آواز سنی جو کہہ رہا تھا : ” اے مازن تم سنو ! تمہیں خوشی ہو گی ، بھلائی ظاہر ہو گئی اور شر چھپ گیا ، مضر ( قبیلے ) سے تعلق رکھنے والے نبی مبعوث ہو گئے ہیں ( وہ ) سب سے بڑے اللہ کے دین کے ہمراہ ( مبعوث ہوئے ہیں ) تم پتھر کے بتوں کو چھوڑ دو ، تم جہنم کی گرمی سے بچ جاؤ گے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : میں پریشان ہو گیا ، میں نے کہا: یہ بڑی حیران کن بات ہے ، پھر اس کے کچھ دن بعد میں آیا ، تو میں نے بت میں سے آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا : ” آؤ میری طرف آؤ ، وہ سن لو ، جس سے تم ناواقف نہیں ہو ، یہ نبی مرسل ہیں ، جو نازل شدہ حق لے کر آئے ہیں ، ان پر ایمان لے آؤ تاکہ تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ کی تپش سے پھیر دیا جائے ، جس کا ایندھن جندل ( یعنی زمین ) میں ہے ۔ “ تو میں نے کہا: یہ تو بڑی حیران کن بات ہے ، اور یہ ایک بھلائی ہے ، جو میرے بارے میں مراد لی جا رہی ہے ، ابھی ہم وہاں اسی حالت میں تھے کہ ایک شخص حجاز سے ہمارے پاس آیا ، ہم نے کہا: تمہارے پیچھے کیا خیر خبر ہے ؟ اس نے کہا: ایک صاحب کا ظہور ہوا ہے ، جن کا نام ” أحمد “ ہے ، جو اُن کے پاس جاتا ہے ، وہ اس سے یہ کہتے ہیں : اللہ کی طرف دعوت دینے والے کی بات کو قبول کرو ، میں نے کہا: یہ تو وہ خبر ہے کہ جس کے بارے میں میں سن چکا ہوں ، پھر میں اپنے بت کی طرف گیا ، اور میں نے اسے ٹکڑوں میں توڑ دیا ، پھر میں اپنی سواری پر سوار ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے لئے شرح صدر عطا کیا ، اور میں نے اسلام قبول کیا ، پھر میں نے یہ اشعار کہے : ” میں نے بت کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ، اس کو جو ہمارا معبود ہوا کرتا تھا ، گمراہی کے اندھے پن کی وجہ سے طواف کیا کرتے تھے ، اور اس گمراہی سے نجات ، ہمیں ایک ہاشمی کے ذریعے ملی جن کے دین کو میں پہلے کوئی توجہ نہیں دیتا تھا ، اے سوار ! تم عمرو اور اس کے بھائیوں تک یہ پیغام پہنچا دو کہ میں اس شخص کو ناپسند کرنے والا ہوں ، جو یہ کہے : کہ بت میرا معبود ہے ۔ ان کی مراد عمرو بن صلت اور بنو خطامہ سے تعلق رکھنے والے اس کے بھائی تھے ۔ سیدنا مازن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک ایسا شخص ہوں ، جو موسیقی کا دلدادہ ہے ، شراب پیتا ہے ، زنا کرتا ہے اور ہم پر قحط سالی کے سال گزرے ہیں ، جس نے اموال ختم کر دیے ہیں ، غلاموں اور کنیزوں کو کمزور کر دیا ہے ، میری کوئی اولا دبھی نہیں ہے ، تو آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ مجھے جس صورت حال کا سامنا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو ختم کر دے ، مجھے حیاء نصیب کر دے اور مجھے اولاد نصیب کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! اس کی گائیگی کی جگہ اسے قرآن کی قرأت عطا کر دے ، حرام کی جگہ حلال عطا کر دے ، زنا کی جگہ شرمگاہ کی عفت عطا کر دے ، شراب کو چھڑوا کر اسے ایسی چیز کے ذریعے سیراب کر دے جس میں کوئی گناہ نہ ہو اور اسے حیاء نصیب کر دے اور اسے اولاد نصیب کر دے ۔ “ سیدنا مازن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے جو چیزیں مجھے محسوس ہوتی تھیں ، وہ سب اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیں ، اس نے مجھے حیاء عطا کر دی ، میں نے قرآن کے ایک بڑے حصے کا علم حاصل کر لیا اور اسی دوران عمان میں قحط سالی ختم ہو گئی ، میں حج کرنے کے لئے گیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے حیان بن مازن ( یعنی بیٹا عطا کر دیا ) پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ” یا رسول اللہ ! میری سواری آپ کی طرف تیزی سے چلتی ہوئی گئی ہے ، اس نے عمان سے عرج تک بڑے بڑے صحراؤں کو عبور کیا ہے ، تاکہ آپ میری شفاعت کریں ، اے وہ فرد جو ان سب سے بہتر ہیں ، جو کنکریوں پر چلتے ہیں ، اور میرا پروردگار میری مغفرت کر دے ، اور میں کامیابی کے ہمراہ لوٹ جاؤں ، اس گروہ کی طرف کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں میرا عقیدہ ان کے دین سے مختلف ہے ، تو جو ان کی رائے ہے وہ میری نہیں ہے ، اور جو ان کا طبقہ ہے وہ میرا نہیں ہے ، میں ایک ایسا شخص تھا جو زنا اور شراب نوشی کا ، زندگی بھر دلدادہ رہا ، یہاں تک کہ جسم بوسیدہ ہو گیا ، تو اس ( اللہ تعالیٰ ) نے مجھے شراب کی جگہ خوف اور خشیت عطا کر دیے اور زناکاری کی جگہ پاکدامنی عطا کر کے میری شرمگاہ کو محفوظ کر دیا ، تو اب میری تمام تر توجہ کا مرکز اور میری نیت جہاد ہے ، اور میرا روزہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور میرا حج اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ۔ “ جب میں اپنی قوم کے پاس آیا ، تو انہوں نے مجھے برا بھلا کہا: اور انہوں نے اپنے شاعر سے کہا: ، تو اس نے میری ہجو بیان کی ، میں نے سوچا : اگر میں نے ان لوگوں کو جواب دیا ، تو اس طرح تو میں اپنے آپ کی ہجو بیان کروں گا ، تو میں ان لوگوں سے الگ ہو کے سمندر کے ساحل کی طرف آ گیا اور میں نے کہا: ” ہمارے نزدیک تم سے بغض رکھنا ہلاکت ہے ، اور اے ہماری قوم ہم سے بغض رکھنا تمہارے نزدیک ، دودھ ہے ( یا کمزوری ہے ) تمہارے عیوب ظاہر ہوئے تو ایک عرصے تک ہمیں اس کا پتہ ہی نہیں چل سکا اور جب ہمارا عیب ظاہر ہوتا تو تم سب فوراً سمجھ جاتے تھے ، ہمارا شاعر گونگا تھا اور ہمارے ساتھ جنگ کے دوران تمہارا شاعر ہمیں برا کہنے میں بڑھ چڑھ کر زبان دراز تھا ، تم لوگ یہ بات جان لو کہ دلوں میں تمہارے خلاف اشتعال نہیں ہے ، لیکن تمہارے دلوں میں بغض اور دشمنی ہے ۔ “ اس کے بعد اُن لوگوں میں سے بہت سے لوگ میرے پاس آئے اور بولے : اے چچازاد ! ہم نے تم پر اعتراض کیا تھا اور تمہارے لئے اس چیز کو ناپسندیدہ قرار دیا تھا ، اگر تم نہیں مانتے تو ٹھیک ہے ، تم اپنے دین پر گامزن رہو ، تم واپس آؤ اور ہمارے معاملات کی دیکھ بھال کرو ، تو میں ان کے معاملات کا نگران بن گیا ، پھر میں ان لوگوں کے پاس واپس آ گیا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بھی اسلام کی طرف ہدایت نصیب کر دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ہشام بن محمد بن سائب کلبی کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ، اور یہ دونوں متروک ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13911
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً