مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَخْبَرَ بِنُبُوَّتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: ان افراد کا بیان ، جنہوں نے آپ ﷺ کی نبوت کے بارے میں اطلاع دی
وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيِّ قَالَ : كَانَ إِسْلَامُ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ أَنَّهُ كَانَ بِعُمْرَةٍ فِي لَقَاحٍ لَهُ نِصْفَ النَّهَارِ ، إِذْ طَلَعَتْ لَهُ نَعَامَةٌ بَيْضَاءُ مِثْلَ الْقُطْنِ عَلَيْهَا رَاكِبٌ عَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ مِثْلَ الْقُطْنِ ، فَقَالَ : يَا عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ السَّمَاءَ كَفَتْ أَحْرَاسَهَا ، وَأَنَّ الْحَرْبَ جُرِّعَتْ أَنْفَاسُهَا ، وَأَنَّ الْخَيْلَ وُضِعَتْ أَحْلَاسُهَا ، وَأَنَّ الَّذِي نَزَلَ بِالْبِرِّ وَالْهُدَى لَفِي يَوْمِ الِاثْنَيْنِ لَيْلَةِ الثُّلَاثَاءَ صَاحِبُ النَّاقَةِ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ مَرْعُوبًا قَدْ رَاعَنِي مَا رَأَيْتُ وَسَمِعْتُ ، حَتَّى جِئْتُ وَثَنًا لَنَا كَانَ يُدْعَى : الضِّمَادَ ، وَكُنَّا نَعْبُدُهُ وَيُكَلِّمُ مِنْ جَوْفِهِ فَكَنَسْتُ مَا حَوْلَهُ وَتَمَسَّحْتُ بِهِ وَقَبَّلْتُهُ ، فَإِذَا صَائِحٌ يَصِيحُ مِنْ جَوْفِهِ : يَا عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ : ¤ قُلْ لِلْقَبَائِلِ مِنْ سُلَيْمٍ كُلِّهَا هَلَكَ الصِّمَادُ وَفَازَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ إِنَّ الَّذِي جَاءَ بِالنُّبُوَّةِ وَالْهُدَى بَعْدَ ابْنِ مَرْيَمَ مِنْ قُرَيْشٍ مُهْتَدِ هَلَكَ الصِّمَادُ وَكَانَ يُعْبَدُ مَرَّةً قَبْلَ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدِ ¤ قَالَ : فَخَرَجْتُ مَرْعُوبًا حَتَّى جِئْتُ قَوْمِي ، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِمُ الْقِصَّةَ وَأَخْبَرْتُهُمُ الْخَبَرَ ، فَخَرَجْتُ فِي ثَلَاثِمِائَةِ رَاكِبٍ مِنْ قَوْمِي مِنْ بَنِي حَارِثَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ ، فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ : " يَا عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ ، كَيْفَ كَانَ إِسْلَامُكُ ؟ " ، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ : " صَدَقْتَ " ، فَسُرَّ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَأَسْلَمْتُ أَنَا وَقَوْمِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوَثَّقَهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقَالَ : كَانَ مَالِكٌ يَرْضَاهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤سیدنا عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ یہ ہے کہ وہ دوپہر کے وقت ” غمرہ “ کے مقام پر اپنی اونٹنیوں میں موجود تھے ، اسی دوران سفید رنگ کا ایک شتر مرغ ان کے سامنے آیا ، جو روئی کی طرح تھا ، اس پر ایک شخص سوار تھا ، جس پر روئی کی طرح کے سفید کپڑے تھے ، اس نے کہا: اے عباس بن مرداس ! کیا تم نے دیکھا نہیں ہے ؟ کہ آسمان نے اپنے محافظوں کو پیچھے کر دیا ہے ، اور جنگ نے سانسیں لینا شروع کر دی ہیں ، اور گھوڑوں پر زمینیں رکھ دی گئی ہیں ، اور وہ دین نازل ہو گیا ہے ، جو نیکی اور ہدایت کے ہمراہ ہے ، وہ پیر کے دن اور منگل کی رات میں ہوا ہے ، جو اونٹنی والے شخص ہیں ، راوی کہتے ہیں : میں پریشانی کے عالم میں وہاں سے نکلا ، میں نے جو چیز سنی تھی اور جو چیز دیکھی تھی اس نے مجھے خوف زدہ کر دیا تھا ، یہاں تک کہ میں اپنے بت کے پاس آیا ، جس کا نام ” ضماد “ تھا ، ہم اس کی عبادت کیا کرتے تھے اور اس کے پیٹ میں سے آواز آیا کرتی تھی ، میں نے اس کے اردگرد جھاڑو دیا ، اس پر ہاتھ پھیرا ، اس کو بوسہ دیا ، اسی دوران اس کے پیٹ میں سے کسی نے چیخ کر کہا: ” اے عباس بن مرداس ! تم سلیم ( بڑے قبیلے ) کے تمام ( چھوٹے ) قبیلوں سے کہہ دو ، ضماد ہلاکت کا شکار ہو گئے اور مسجد والے کامیاب ہو گئے ، قریش سے تعلق رکھنے والے وہ صاحب جو سیدنا عیسیٰ بن مریم کے بعد نبوت اور ہدایت لے کر آئے ہیں ، وہ ہی ہدایت یافتہ ہیں ، ضماد ہلاکت کا شکار ہو گئے ، نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے پہلے تک ، اس ( ضماد ) ایک عرصہ تک عبادت کی جاتی رہی ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں وہاں سے پریشانی کے عالم میں نکلا ، یہاں تک کہ میں اپنی قوم کے پاس آیا اور میں نے انہیں سارا واقعہ سنایا ، انہیں پوری بات کے بارے میں بتایا ، پھر میں اپنی قوم بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے تین سو افراد کے ساتھ سوار ہو کر نکلا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، ہم لوگ مسجد میں داخل ہوئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عباس بن مرداس ! تمہارا اسلام کیسے ہوا ؟ میں نے آپ کو پورا واقعہ سنایا ، تو آپ نے فرمایا : تم نے ٹھیک کہا: ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس حوالے سے خوش ہوئے ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے اور میری قوم نے اسلام قبول کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور سعید بن منصور نے اسے ثقہ کہا: ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : مالک اس سے راضی تھے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔