مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَخْبَرَ بِنُبُوَّتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: ان افراد کا بیان ، جنہوں نے آپ ﷺ کی نبوت کے بارے میں اطلاع دی
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ : خَرَجْتُ حَاجًّا فِي جَمَاعَةٍ مِنْ قَوْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ وَأَنَا بِمَكَّةَ نُورًا سَاطِعًا مِنَ الْكَعْبَةِ حَتَّى وَصَلَ إِلَى جِبَالِ يَثْرِبَ أَشْعَرَ جُهَيْنَةَ ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا فِي النُّورِ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ انْقَشَعَتِ الظَّلْمَاءُ وَسَطَعَ الضِّيَاءُ وَبُعِثَ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ ¤ ثُمَّ أَضَاءَ إِضَاءَةً أُخْرَى حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى قُصُورِ الْحِيرَةِ وَأَبْيَضِ الْمَدَائِنِ فَسَمِعْتُ صَوْتًا فِي النُّورِ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ ظَهَرَ الْإِسْلَامُ وَكُسِرَتِ الْأَصْنَامُ وَوُصِلَتِ الْأَرْحَامُ ¤ فَانْتَبَهْتُ فَزِعًا وَقُلْتُ لِقَوْمِي : وَاللَّهِ لَيَحْدُثَنَّ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ حَدَثٌ . وَأَخْبَرْتُهُمْ بِمَا رَأَيْتُ ، فَقَالَ : " يَا عَمْرُو بْنَ مُرَّةَ ، أَنَا النَّبِيُّ الْمُرْسَلُ إِلَى الْعِبَادِ كَافَّةً ، أَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ ، وَآمُرُهُمْ بِحَقْنِ الدِّمَاءِ ، وَصِلَةِ الْأَرْحَامِ ، وَعِبَادَةِ اللَّهِ وَرَفْضِ الْأَصْنَامِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا ، فَمَنْ أَجَابَ فَلَهُ الْجَنَّةُ ، وَمَنْ عَصَى فَلَهُ النَّارُ ، فَآمِنْ بِاللَّهِ يَا عَمْرُو يُؤَمِّنُكَ اللَّهُ مِنْ هَوْلِ جَهَنَّمَ " ، قُلْتُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَآمَنْتُ بِكُلِّ مَا جِئْتَ بِهِ مِنْ حَلَالٍ وَحَرَامٍ ، وَأَنْ أُرْغِمَ ذَلِكَ كَثِيرًا مِنَ الْأَقْوَامِ ، ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ أَبْيَاتًا ، قُلْتُ حِينَ سَمِعْتُ بِهِ وَكَانَ لَنَا صَنَمٌ ، وَكَانَ أَبِي سَادِنًا لَهُ ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَكَسَرْتُهُ ، ثُمَّ لَحِقْتُ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَقُولُ : ¤ شَهِدْتُ بِأَنَّ اللَّهَ حَقٌّ وَإِنَّنِي لِآلِهَةِ الْأَحْجَارِ أَوَّلُ تَارِكٍ وَشَمَّرْتُ عَنْ سَاقِي الْإِزَارَ مُهَاجِرًا ¤ إِلَيْكَ أَحُوزُ الْفَوْزَ بَعْدَ الدَّكَادِكِ لِأَصْحَبَ خَيْرَ النَّاسِ نَفْسًا وَوَالِدًا ¤ رَسُولَ مَلِيكِ النَّاسِ فَوْقَ الْحَبَائِكِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرْحَبًا [ بِكَ ] يَا عَمْرُو بْنَ مُرَّةَ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، ابْعَثْنِي إِلَى قَوْمِي لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُؤَمِّرَنِي عَلَيْهِمْ كَمَا مَنَّ بِكَ عَلَيَّ ، فَبَعَثَنِي عَلَيْهِمْ فَقَالَ : " عَلَيْكَ بِالرِّفْقِ وَالْقَوْلِ السَّدِيدِ ، وَلَا تَكُنْ فَظًّا وَلَا مُتَكَبِّرًا وَلَا حَسُودًا " ، فَأَتَيْتُ قَوْمِي فَقُلْتُ : يَا بَنِي رِفَاعَةَ ، يَا مَعَاشِرَ جُهَيْنَةَ ، إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ أَدْعُوكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَأُحَذِّرُكُمُ النَّارَ ، وَآمُرُكُمْ بِحَقْنِ الدِّمَاءِ وَصِلَةِ الْأَرْحَامِ ، وَعِبَادَةِ اللَّهِ وَرَفْضِ الْأَصْنَامِ ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ، وَصِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرٌ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا ، فَمَنْ أَجَابَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ عَصَى فَلَهُ النَّارُ . يَا مَعْشَرَ جُهَيْنَةَ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَكُمْ خِيَارَ مَنْ أَنْتُمْ مِنْهُ ، وَبَغَّضَ إِلَيْكُمْ فِي جَاهِلِيَّتِكُمْ مَا حَبَّبَ إِلَى غَيْرِكُمْ ، مِنْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ ، وَيَخْلُفُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ عَلَى امْرَأَةِ أَبِيهِ ، وَالْغَزَاةِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، فَأَجِيبُوا هَذَا النَّبِيَّ الْمُرْسَلَ مِنْ بَنِي لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ ، تَنَالُوا شَرَفَ الدُّنْيَا وَكَرَامَةَ الْآخِرَةِ ، وَسَارِعُوا فِي ذَلِكَ يَكُنْ لَكُمْ فَضِيلَةٌ عِنْدَ اللَّهِ ، فَأَجَابُوهُ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا قَالَ : يَا عَمْرُو بْنَ مُرَّةَ - أَمَرَّ اللَّهُ عَيْشَكَ - تَأْمُرُنَا أَنْ نَرْفُضَ آلِهَتَنَا ، وَنُفَرِّقَ جَمَاعَتَنَا ، وَنُخَالِفَ دِينَ آبَائِنَا إِلَى مَا يَدْعُو إِلَيْهِ هَذَا الْقُرَشِيُّ مِنْ أَهْلِ تِهَامَةَ ؟ لَا ، وَلَا حُبًّا وَلَا كَرَامَةَ ، ثُمَّ أَنْشَأَ الْخَبِيثُ يَقُولُ : ¤ إِنَّ ابْنَ مُرَّةَ قَدْ أَتَى بِمَقَالَةٍ لَيْسَتْ مَقَالَةَ مَنْ يُرِيدُ صَلَاحَا إِنِّي لَأَحْسَبُ قَوْلَهُ وَفِعَالَهُ يَوْمًا وَإِنْ طَالَ الزَّمَانُ رِيَاحَا أَيُسَفَّهُ الْأَشْيَاخُ مِمَّنْ قَدْ مَضَى ؟ مَنْ رَامَ ذَاكَ فَلَا أَصَابَ فَلَاحَا . ¤ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ : الْكَاذِبُ مِنِّي وَمِنْكَ أَمَرَّ اللَّهُ فَمَهُ ، وَأَبْكَمَ لِسَانَهُ ، وَأَكْمَهَ عَيْنَيْهِ ، وَأَسْقَطَ أَسْنَانَهُ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ : فَوَاللَّهِ مَا مَاتَ حَتَّى سَقَطَ فُوهُ ، وَكَانَ لَا يَجِدُ طَعْمَ الطَّعَامِ ، وَعُمِيَ وَخُرِسَ ، فَخَرَجَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ وَمَنْ تَبِعَهُ مِنْ قَوْمِهِ حَتَّى أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَحَّبَ بِهِمْ وَحَبَاهُمْ وَكَتَبَ لَهُمْ كِتَابًا هَذِهِ نُسْخَتُهُ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ عَلَى لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِتَابٌ صَادِقٌ وَحَقٌّ نَاطِقٌ لِعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ لِجُهَيْنَةَ بْنِ زَيْدَانَ ، لَكُمْ بُطُونُ الْأَرْضِ وَسُهُولُهَا وَتِلَاعُ الْأَوْدِيَةِ وَظُهُورُهَا ، تَرْعَوْنَ نَبَاتَهُ وَتَشْرَبُونَ صَافِيَهِ عَلَى أَنْ تُقِرُّوا بِالْخَمْسِ ، وَتُصَلُّوا صَلَاةَ الْخَمْسِ ، وَفِي السِّعَةِ وَالصُّرَيْمَةِ شَاتَانِ إِذَا اجْتَمَعَتَا ، وَإِنْ تَفَرَّقَتَا فَشَاةٌ شَاةٌ ، لَيْسَ عَلَى أَهْلِ الْمُثِيرَةِ صَدَقَةٌ " . وَشَهِدَ عَلَى نَبِيِّنَا وَمَنْ حَضَرَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِكِتَابِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، فَذَلِكَ حِينَ يَقُولُ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجُهَنِيُّ : ¤ أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَظْهَرَ دِينَهُ وَبَيَّنَ بُرْهَانَ الْقُرْآنِ لِعَامِرِ كِتَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ يَجْعَلُنَا مَعًا وَأَخْلَافُنَا فِي كُلِّ بَادٍ وَحَاضِرِ إِلَى خَيْرِ مَنْ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا وَأَفْضَلِهَا عِنْدَ اعْتِكَارِ الضَّرَائِرِ أَطَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ لَمَّا تَقَطَّعَتْ بُطُونُ الْأَعَادِي بِالظِّبَاءِ الْخَوَاطِرِ فَنَحْنُ قَبِيلٌ قَدْ بَنَى الْمَجْدُ حَوْلَنَا إِذَا اجْتُلِيَتْ فِي الْحَرْبِ هَامُ الْأَكَابِرِ بَنُو الْحَرْبِ نَفْرِيهَا بِأَيْدٍ طَوِيلَةٍ وَبِيضٍ تَلَأْلَأُ فِي أَكُفِّ الْمَغَاوِرِ وَمِنْ حَوْلِهِ الْأَنْصَارُ يَحْمُوا أَمِيرَهُمْ بِسُمْرِ الْعَوَالِي وَالسُّيُوفِ الْبَوَاتِرِ إِذَا الْحَرْبُ دَارَتْ عِنْدَ كُلِّ عَظِيمَةٍ وَدَارَتْ رَحَاهَا لِلُّيُوثِ الْهَوَاصِرِ تَبَلَّجَ مِنْهُ اللَّوْنُ وَازْدَانَ وَجْهُهُ كَمِثْلِ ضِيَاءِ الْبَدْرِ بَيْنَ الزَّوَاهِرِ . ¤ وَذَكَرَ يَاسِرُ بْنُ سُوَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَّهَهُ فِي خَيْلٍ أَوْ سَرِيَّةِ وَامْرَأَتُهُ حَامِلٌ ، فَوَلَدَتْ لَهُ مَوْلُودًا فَحَمَلَتْهُ أُمُّهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ وُلِدَ هَذَا الْمَوْلُودُ وَأَبَوْهُ فِي الْخَيْلِ ، فَسَمِّهِ ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَمَرَّ يَدَهُ عَلَيْهِ وَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ رِجَالَهُمْ ، وَأَقِلَّ أَيَّامَهُمْ ، وَلَا تُحْوِجَهُمْ ، وَلَا تُرِ أَحَدًا مِنْهُمْ خَصَاصَةً " ، فَقَالَ : " سَمِّيهِ مُسْرِعًا فَقَدْ أَسْرَعَ فِي الْإِسْلَامِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ، میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ہمراہ حج کرنے کے لئے نکلا ، میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ میں موجود ہوں ، اور خانہ کعبہ میں سے ایک نور چمک رہا ہے ، یہاں تک کہ وہ یثرب کے پہاڑوں تک پہنچ گیا ، جو اشعر جہینہ نامی پہاڑ ہے ، پھر میں نے اس نور میں ایک آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا : ” تاریکیاں چھٹ گئی ہیں اور روشنی چمک رہی ہے ، اور انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے مبعوث ہو گئے ہیں ۔ “ پھر ایک اور روشنی ہوئی ، یہاں تک کہ میں نے ” حیرہ “ کے محلات اور ” مدائن “ کی سفیدی دیکھ لی اور میں نے اس نور میں ایک آواز سنی ، جو یہ کہہ رہا تھا : ” اسلام غالب آ گیا ، بت توڑ دیے گئے اور صلہ رحمی کر لی گئی ۔ “ میں پریشانی کے عالم میں بیدار ہوا ، میں نے اپنی قوم سے کہا: قریش کے قبیلے میں کوئی نئی صورت حال سامنے آئی ہے ، پھر میں نے انہیں اس خواب کے بارے میں بتایا جو میں نے دیکھا تھا ، جب ہم اپنے علاقے میں پہنچے تو ہمیں یہ اطلاع ملی کہ ایک صاحب جن کا نام أحمد ہے ، وہ مبعوث ہو گئے ہیں ، میں ان کے پاس آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، جو میں نے خواب دیکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عمرو بن مرہ ! میں وہ نبی ہوں ، جسے تمام بندوں کی طرف بھیجا گیا ہے ، میں ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں انہیں قتل و غارت گری سے بچنے اور صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتا ہوں ، اللہ کی عبادت کرنے اور بتوں کو پرے کرنے کا حکم دیتا ہوں اور بیت اللہ کا حج کرنے اور سال کے بارہ مہینوں میں سے ایک رمضان کے مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیتا ہوں ، جو شخص اس بات کو مان لے گا ، اُسے جنت ملے گی اور جو شخص نافرمانی کرے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ، تو اے عمرو ! تم اللہ پر ایمان لے آؤ ، وہ تمہیں جہنم کی ہولناکیوں سے محفوظ رکھے گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، اور میں ہر اس چیز پر ایمان رکھتا ہوں ، جو آپ لے کر آئے ہیں ، جس کا تعلق حلال اور حرام سے ہے ، اگرچہ یہ بات لوگوں کو کتنی ہی بری کیوں نہ لگے ، پھر میں نے آپ کو وہ اشعار سنائے ، جو میں نے اُس وقت کہے تھے ، جب میں نے اس بارے میں سنا تھا ، ہمارا ایک بت ہوتا تھا ، میرے والد اس کے نگران تھے ، میں اُٹھا اور میں نے اسے توڑ دیا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے یہ اشعار پڑھے : ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے ، اور میں بت معبودوں کو چھوڑنے والا پہلا فرد ہوں ، میں نے اپنی پنڈلی سے تہبند ہٹا کے تیاری شروع کر دی ہے ، تاکہ میں آپ کی طرف ہجرت کروں اور یہ ہجرت ویرانوں کو طے کر کے کروں ، تاکہ میں ان صاحب کا ساتھی بن جاؤں ، جو اپنے وجود اور اپنے والد کے حوالے سے ، سب لوگوں سے بہتر ہیں ، اور آسمانوں کے اوپر موجود لوگوں کے بادشاہ ( یعنی خدا ) کے رسول ہیں“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمرو بن مرہ ! تمہیں خوش آمدید ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ مجھے میری قوم کی طرف بھیجئے ، تاکہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعے اُن لوگوں پر احسان کرے ، جس طرح اس نے آپ کے ذریعے مجھ پر احسان کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان لوگوں کی طرف بھیجا ، آپ نے فرمایا : تم نے نرمی سے کام لینا ہے ، اور اچھی بات کہنی ہے ، تم نے سختی کا مظاہرہ نہیں کرنا ، تکبر نہیں کرنا ، حسد نہیں کرنا ، میں اپنی قوم کے پاس آیا ، میں نے کہا: ” اے بنو رفاعہ ! اے جہینہ قبیلے کے لوگو ! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کے طور پر تمہارے پاس آیا ہوں ، میں تمہیں جنت کی طرف دعوت دیتا ہوں اور تمہیں جہنم سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں ، اور میں تمہیں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ جانوں کی حفاظت کی جائے ، صلہ رحمی کی جائے ، اللہ کی بندگی کی جائے ، بتوں کو پرے کر دیا جائے ، بیت اللہ کا حج کیا جائے ، رمضان کے مہینے کے روزے رکھے جائیں ، جو بارہ مہینوں میں ایک مہینہ ہے ، جو شخص اس بات کو مان لے گا اسے جنت ملے گی اور جو شخص نافرمانی کرے گا ، اسے جہنم ملے گی ، اے جہنیہ قبیلے کے گروہ ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں بہتر صورت حال میں رکھا ہے ، اور زمانہ جاہلیت میں دوسرے لوگوں کے نزدیک جو چیز پسندیدہ ہوتی تھی ، وہ تم لوگوں کے نزدیک ناپسندیدہ رکھی ہے ، جیسے وہ لوگ دو بہنوں کو نکاح میں جمع کر لیتے تھے ، یا کوئی شخص اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیتا تھا ، یا حرمت والے مہینے میں جنگ کر لیتا تھا ( تو تم لوگوں کے اندر یہ چیزیں نہیں پائی جاتی ہیں ) تو تم لوگ بنو لؤی بن غالب سے تعلق رکھنے والے اس ” مرسل ، نبی “ کی بات کو قبول کرو ، تاکہ تم دنیا کا شرف اور آخرت کی عزت کو حاصل کرو ، اور تم اس بارے میں جلدی کرو ، تمہیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فضیلت حاصل ہو گی ۔ “ اُن لوگوں نے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کی بات مان لی ، صرف ایک شخص نے نہیں مانی ، اس نے کہا: اے عمرو بن مرہ ! اللہ تعالیٰ تمہاری زندگی کو ناگوار کر دے ، تم ہمیں یہ حکم دے رہے ہو کہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟ اور اپنے اجتماع کے اندر علیحدگی اختیار کر لیں اور اپنے آباؤ اجداد کے دین کی مخالفت کریں اور اس چیز کی طرف جائیں ، جس کی دعوت اہل تہامہ سے تعلق رکھنے والا وہ قریشی شخص دے رہا ہے ، جی نہیں ! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ، پھر اس خبیث نے یہ اشعار کہے : ” ابن مرہ ایک ایسی بات لے کر آیا ہے ، جو کسی ایسے شخص کی بات نہیں ہو سکتی جو بہتری کا ارادہ رکھتا ہو ، میں اس کے قول اور فعل کو بے حیثیت ہی سمجھتا ہوں اگرچہ کتنا ہی زمانہ گزر جائے ، کیا وہ گزرے ہوئے مشائخ کو بیوقوف قرار دیتا ہے ، جو اس بات کا قصد کرے تو وہ کبھی فلاح تک نہیں پہنچ سکتا ۔ “ تو سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اور مجھ میں سے جو شخص جھوٹا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے منہ کو کڑوا کر دے ، اُس کی زبان کو گونگا کر دے ، اُس کی آنکھوں کو نابینا کر دے اور اس کے دانت گرا دے ۔ سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس شخص کے مرنے سے پہلے اس کا منہ گر گیا ( یعنی زبان کا ذائقہ خراب ہو گیا ) اسے کسی کھانے کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا تھا ، وہ نابینا بھی ہو گیا ، گونگا بھی ہو گیا ، پھر سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ اور ان کی قوم سے تعلق رکھنے والے ان کے پیروکار لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوش آمدید کہا: ، آپ نے انہیں تحائف دیئے ، اور آپ نے ان کے لئے ایک تحریر لکھوائی ، جس کے الفاظ یہ ہیں : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ اللہ کی طرف سے ، اُس کے نبی کی زبانی ایک تحریر ہے ، جو سچی تحریر ہے ، اور سچی بات ہے ، یہ عمرو بن مرہ جہنی کے لئے ہے ، جو جہینہ بن زیدان سے تعلق رکھتے ہیں ، تم لوگوں کو زمین کا ہموار حصہ اور اس کے ٹیلے اور ان کی پشتیں ملتی ہیں ، تم وہاں نباتات اگاؤ گے اور صاف پانی پیو گے ، اس شرط پر کہ تم پانچ چیزیں برقرار رکھو گے ( یا تم خمس ادا کرو گے ) تم لوگ پانچ نمازیں پڑھنا اگر سعہ اور صریمہ اکٹھی ہو جائیں ، تو اس میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی ، اور اگر یہ الگ الگ ہوں ، تو ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی ، اور چادروں والوں پر زکوۃ لازم نہیں ہو گی ۔ “ تو سیدنا قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی لکھی ہوئی اس تحریر پر ، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہاں موجود مسلمان گواہ بنے تھے ، اسی لئے سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے ہیں : ” کیا تم نے دیکھا نہیں ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کر دیا ہے ، اور آباد کرنے والے کے لیے قرآن کی ، اپنی برہان کو بیان کر دیا ہے ، جو رحمن کی طرف سے آنے والی کتاب ہے ، اس نے ہم سب کو اکٹھا کر دیا ہے ، جبکہ ہمارے اخلاف ( یہاں مراد حلیف ہیں ) ہر دیہاتی اور شہری میں ہیں ، اور ہم اس ہستی کی طرف آ گئے ہیں ، جو زمین پر چلنے والوں میں سب سے بہتر ہیں ، اور مختلف پریشان کن مسائل درپیش آنے کے وقت سب سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ، ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی ، اس وقت جب درندوں کے پیٹ ہرنوں کے ذریعے کاٹ دیے گئے ، تو ہم ایک ایسا قبیلہ ہیں کہ بزرگی ہمارے اردگرد تیار کی گی ہے ، جب جنگ کے دوران بڑوں بڑوں کے سر کاٹ دیے جاتے ہیں ، ہم جنگ آزما ہیں ، ہم لمبے ہاتھوں اور غارتگری کرنے والوں کے ہاتھوں میں موجود خودوں کے ذریعے اس کو بھڑکاتے ہیں ، اور ان کے اردگرد انصار ہیں ، جو تیز نیزوں اور کاٹ دینے والی تلواروں کے ذریعے اپنے امیر کی رکھوالی کرتے ہیں ، جب جنگ ہر بڑی چیز کے قریب گھومتی ہے ، تو اس کی چکی کو توڑ پھوڑ کرنے والے شیر گھماتے ہیں ، ان سے رنگ روشن ہوتا ہے ، اور ان کا چہرہ آراستہ ہوتا ہے ، جیسے ستاروں کے درمیان میں چودھویں کا چاند ہوتا ہے ۔ “ یاسر بن سوید نے یہ بات ذکر کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی جنگی مہم پر روانہ کیا ، ان کی بیوی حاملہ تھی ، اس نے بچے کو جنم دیا ، اس بچے کی والدہ اُسے اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ہاں یہ بچہ پیدا ہوا ہے ، اس کے والد جنگ میں گئے ہوئے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا نام رکھ دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو لیا ، آپ نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا اور پھر یہ فرمایا : ” اے اللہ ! ان کے افراد کو زیادہ کر دے ، ان کی تنگی کو کم کر دے اور تو انہیں محتاج نہ کرنا ، اور تو ان کی طرف سے کسی کو لالچ نہ دکھانا ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کا نام ” مسرع “ رکھو ! کیونکہ یہ اسلام کی طرف تیزی سے آیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔