حدیث نمبر: 13908
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : كُنَّا حَوْلَ صَنَمٍ لَنَا قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَهْرٍ وَقَدْ نَحَرْنَا جَزُورًا ، إِذْ صَاحَ صَائِحٌ مِنْ جَوْفِهِ : اسْمَعُوا الْعَجَبَ ، ذَهَبَ الشِّرْكُ وَالرِّجْزُ ، وَرُمِيَ بِالشُّهُبِ ، لِنَبِيٍّ بِمَكَّةَ اسْمُهُ أَحْمَدُ ، وَمُهَاجَرُهُ إِلَى يَثْرِبَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ایک ماہ پہلے ہم اپنے بت کے اردگرد موجود تھے ، ہم نے ایک اونٹ قربان کیا تھا ، اسی دوران بت کے پیٹ میں سے کسی پکارنے والے نے یہ کہا: حیران کن بات سن لو ، شرک اور بت ختم ہو گئے ، انہیں شہاب مارے جا رہے ہیں ، مکہ میں آنے والے ایک نبی کی وجہ سے ، جن کا نام أحمد ہے ، اور ان کی ہجرت کی جگہ یثرب ہو گی ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13908
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2430)»