حدیث نمبر: 13906
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ خَبَرٍ قَدِمَ عَلَيْنَا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ امْرَأَةً كَانَ لَهَا تَابِعٌ ، قَالَ : فَأَتَاهَا فِي صُورَةِ طَيْرٍ فَوَقَعَ عَلَى جِذْعٍ لَهُمْ ، قَالَ : فَقَالَتْ : أَلَا تَنْزِلُ لِتُخْبِرَنَا وَنُخْبِرَكَ ؟ قَالَ : إِنَّهُ قَدْ خَرَجَ بِمَكَّةَ رَجُلٌ حَرَّمَ عَلَيْنَا الزِّنَا وَمَنَعَ مِنَّا الْقَرَارَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہمارے پاس جو سب سے پہلی اطلاع آئی تھی ، اس کا پس منظر یہ ہے کہ ایک عورت جس کا ایک تابع ( یعنی جنّ یا مؤکل ) تھا ، وہ پرندے کی شکل میں اس کے پاس آیا ، اور ان کے کھجور کے درخت پر بیٹھ گیا ، اس عورت نے کہا: کیا تم نیچے نہیں آؤ گے ؟ تاکہ ہم تمہیں خبر دیں اور تم ہمیں خبر دو ، تو اس نے کہا: ” مکہ میں ایک صاحب کا ظہور ہوا ہے ، جنہوں نے ہم پر زنا کو حرام قرار دے دیا ہے ، اور انہوں نے ہمیں کسی ایک جگہ ٹھہرنے سے روک دیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13906
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (356/3)»