مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ . باب: بلا عنوان
وَعَنْ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، أَنَّ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ قَالَ لِأَحْبَارِ الْيَهُودِ : إِنِّي أُحْدِثُ بِمَسْجِدِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَهْدًا ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ فَوَافَاهُ وَقَدِ انْصَرَفُوا مِنَ الْحَجِّ ، فَوَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ ، فَقُمْتُ مَعَ النَّاسِ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " ادْنُ " ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ قَالَ : " أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ أَمَا تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " ، فَقُلْتُ : انْعَتْ رَبَّنَا ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ) " ، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ ابْنُ سَلَامٍ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ابْنُ سَلَامٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَتَمَ إِسْلَامَهُ ، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا فَوْقَ نَخْلَةٍ لِي أَجُدُّهَا فَسَمِعْتُ رَجَّةً فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ [ فَ ] قَالُوا : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ قَدِمَ ، فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ ، ثُمَّ خَرَجْتُ أَحْضُرُ حَتَّى أَتَيْتُهُ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ ، فَقَالَتْ أُمِّي : لِلَّهِ أَنْتَ ، لَوْ كَانَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مَا كَانَ بِذَلِكَ تُلْقِي نَفْسَكَ مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ ؟ فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأَنَا أَشَدُّ فَرَحًا بِقُدُومِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مُوسَى إِذْ بُعِثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ يُوسُفَ لَمْ يُدْرِكْ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ . ¤حمزه بن یوسف بن عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں : ان کے دادا سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے علماء سے کہا: میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی بنائی ہوئی مسجد سے ہو کے آیا ہوں ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے ، ان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت ملاقات ہوئی تھی ، جب لوگ حج کر کے واپس جا رہے تھے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں پایا ، آپ کے اردگرد لوگ موجود تھے ، وہ کہتے ہیں : میں لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو گیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو دریافت کیا : تم عبداللہ بن سلام ہو ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم قریب ہو جاؤ ، میں قریب ہو گیا تو آپ نے فرمایا : اے عبداللہ بن سلام ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم نے تورات میں یہ نہیں پایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ تو میں نے کہا: آپ ہمارے پروردگار کے بارے میں ہمارے سامنے بیان کیجئے ! تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو گئے اور انہوں نے یہ کہا: آپ یہ پڑھیں : ” تم یہ فرما دو ! کہ اللہ ایک ہے ، اللہ بے نیاز ہے ، اس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور اسے جنم نہیں دیا گیا اور کوئی اس کا کفو نہیں ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھیں ، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ واپس مدینہ منورہ چلے گئے ، انہوں نے یہودیوں سے اپنا اسلام چھپائے رکھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی اور آپ مدینہ منورہ آ گئے ، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں کھجور کے ایک درخت پر چڑھا ہوا تھا اور اس سے کھجوریں اتار رہا تھا ، اسی دوران میں نے شور و غل کی آواز سنی ، تو دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ، تو میں نے کھجور کے درخت سے چھلانگ لگا دی ، پھر میں نکلا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو سلام کیا ، پھر میں واپس آیا ، تو میری والدہ نے کہا: اگر اُن کی جگہ سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام ہوتے ، تو تم نے اس وجہ سے کھجور کے درخت سے چھلانگ نہیں لگانی تھی ، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر ، اس سے زیادہ خوش ہوا ہوں ، جتنا سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بعثت پر ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ حمزہ بن یوسف نامی راوی نے اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔