مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ . باب: بلا عنوان
وَعَنِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ : كُنَّا قُعُودًا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَخَصَ بَصَرُهُ إِلَى رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ : " يَا فُلَانُ " ، فَقَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَلَا يُنَازِعُهُ الْكَلَامَ إِلَّا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ وَالْإِنْجِيلَ ، قَالَ : " وَالْقُرْآنَ ؟ " ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَشَاءُ لَقَرَأْتُهُ ، قَالَ : ثُمَّ نَاشَدَهُ : " هَلْ تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ ؟ " ، قَالَ : أَجِدُ مِثْلَكَ وَمِثْلَ هَيْأَتِكَ وَمِثْلَ مُخْرَجِكَ ، وَكُنَّا نَرْجُو أَنْ يَكُونَ مِنَّا ، فَلَمَّا خَرَجْتَ تَحَيَّرْنَا أَنْ يَكُونَ أَنْتَ هُوَ ، فَنَظَرْنَا فَإِذَا لَيْسَ أَنْتَ هُوَ ، قَالَ : " وَلِمَ ذَاكَ ؟ " ، قَالَ : إِنَّ مَعَهُ مِنْ أُمَّتِهِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ، وَمَعَكَ نَفَرٌ يَسِيرٌ ، قَالَ : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَأَنَا هُوَ وَإِنَّهُمْ لَأُمَّتِي إِنَّهُمْ لَأَكْثَرُ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا وَسَبْعِينَ أَلْفًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ مِنْ أَحَدِ الطَّرِيقَيْنِ . ¤سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران آپ نے نگاہ اُٹھا کر مسجد میں موجود ایک شخص کی طرف دیکھا اور فرمایا : اے فلاں ! اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، اس نے اور کوئی بات نہیں کی ، صرف یہ کہا: یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے تورات پڑھی ہوئی ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! اور انجیل بھی پڑھی ہوئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اور قرآن ؟ اس نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر میں چاہوں ، تو اُسے بھی پڑھ سکتا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے واسطہ دے کر دریافت کیا : تم نے تورات اور انجیل میں میرا ذکر پایا ہے ؟ اس نے کہا: میں نے آپ کی مثل اور آپ کی ہیئت کی مثل چیز پائی ہے ، لیکن ہم لوگوں کو یہ امید تھی کہ وہ نبی ہمارے خاندان میں سے ہوں گے ، جب آپ کا ظہور ہوا ، تو ہم حیران ہو گئے کہ آپ وہ نبی کیسے ہو سکتے ہیں ؟ جب ہم نے اس بارے میں تحقیق کی تو آپ وہ فرد نہیں ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا: کیونکہ اس نبی کے ساتھ ، تو اُس کی امت کے ستر ہزار ایسے لوگ ہونے تھے ، جو جنت میں کسی حساب اور عذاب کے بغیر داخل ہوتے ، اور آپ کے ساتھ تو تھوڑے سے لوگ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ ” نبی “ میں ہی ہوں ، اور وہ میری ہی امت کے لوگ ہوں گے ، اور وہ ستر ہزار اور مزید ستر ہزار سے بھی زیادہ تعداد میں ہوں گے ( جو کسی حساب و کتاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں جو دو طریقوں میں سے ایک طریق کے ہیں ۔