مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ . باب: بلا عنوان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَقْبَلَتِ الْيَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، إِنَّا نَسْأَلُكَ عَنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ ، فَإِنْ أَنْبَأْتَنَا بِهِنَّ عَرَفْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ وَاتَّبَعْنَاكَ ، فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ إِسْرَائِيلُ عَلَى بَنِيهِ إِذْ قَالُوا : ( اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ ) قَالَ : " هَاتُوا " ، [ قَالُوا : أَخْبِرْنَا عَنْ عَلَامَةِ النَّبِيِّ ؟ قَالَ : " تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ " ] قَالُوا : خَبِّرْنَا كَيْفَ تُؤَنِّثُ الْمَرْأَةُ وَكَيْفَ تُذَكِّرُ ؟ قَالَ : " يَلْتَقِي الْمَاآنِ ، فَإِذَا عَلَا مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَتْ ، وَإِذَا عَلَا مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ أَنَّثَتْ " ، قَالُوا : أَخْبِرْنَا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ ؟ قَالَ : " كَانَ يَشْتَكِي عِرْقَ النَّسَا ، فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا أَلْبَانَ كَذَا وَكَذَا - قَالَ بَعْضُهُمْ : يَعْنِي الْإِبِلَ - فَحَرَّمَ لُحُومَهَا " ، قَالُوا : صَدَقْتَ ، قَالُوا : أَخْبِرْنَا مَا هَذَا الرَّعْدُ ؟ قَالَ : " مَلَكٌ مِنْ مَلَائِكَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ ، بِيَدِهِ ، أَوْ فِي يَدِهِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ يَزْجُرُ بِهِ السَّحَابَ ، يَسُوقُهُ حَيْثُ أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " ، قَالُوا : فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي نَسْمَعُ ؟ قَالَ : " صَوْتُهُ " ، قَالُوا : صَدَقْتَ إِنَّمَا بَقِيَتْ وَاحِدَةٌ ، إِنَّمَا نُبَايِعُكَ إِنْ أَخْبَرْتَنَا [ بِهَا فَ ] أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ مَنْ يَأْتِيهِ بِالْخَبَرِ ، فَأَخْبِرْنَا عَنْ صَاحِبِكَ ؟ قَالَ : " جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ " ، قَالُوا : جِبْرِيلُ ! ذَلِكَ الَّذِي يَنْزِلُ بِالْعَذَابِ وَالْحَرْبِ وَالْقِتَالِ وَهُوَ عَدُوُّنَا ، لَوْ قُلْتَ : مِيكَائِيلُ الَّذِي يَنْزِلُ بِالرَّحْمَةِ وَالنَّبَاتِ وَالْقَطْرِ لَكَانَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ ) الْآيَةَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : کچھ یہودی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : اے ابوالقاسم ! ہم آپ سے پانچ چیزوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں ، اگر آپ نے ہمیں ان چیزوں کے بارے میں بتا دیا ، تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ آپ نبی ہیں ، اور ہم آپ کی پیروی کر لیں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہ عہد لیا ، جو سیدنا اسرائیل ( یعنی سیدنا یعقوب علیہ السلام ) نے اپنے بیٹوں سے لیا تھا ، جب انہوں نے یہ کہا: تھا : کہ جو ہم کہہ رہے ہیں ، اس بارے میں اللہ تعالیٰ گواہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ سوال پیش کرو ! انہوں نے کہا: آپ ہمیں نبی کی علامت کے بارے میں بتائیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی آنکھیں سو جاتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا ہے ، انہوں نے کہا: آپ ہمیں یہ بتائیے کہ مؤنث کیسے پیدا ہوتی ہے ؟ اور مذکر کیسے پیدا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دونوں کا نطفہ ملتا ہے ، جب مرد کا نطفہ عورت کے نطفے پر غالب آ جائے ، تو بیٹا ہوتا ہے اور جب عورت کا نطفہ مرد کے نطفے پر غالب آ جائے تو بیٹی ہوتی ہے ۔ “ ان لوگوں نے کہا: آپ ہمیں یہ بتائیے کہ سیدنا اسرائیل علیہ السلام ( یعنی سیدنا یعقوب علیہ السلام نے ) اپنے لئے کیا چیز حرام قرار دی تھی ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہیں عرق النساء کی شکایت ہو گئی تھی ، تو اس کے لئے انہیں صرف فلاں فلاں چیز کا دودھ موافق ہوا ، راوی کہتے ہیں : یعنی اونٹنیوں کا دودھ ، تو انہوں نے ان کا گوشت حرام قرار دے دیا ، ان لوگوں نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ، پھر انہوں نے کہا: آپ ہمیں گرج چمک کے بارے میں بتائیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے ، جو بادل پر مقرر ہے ، اس کے ہاتھ میں آگ کا بنا ہوا کوڑا ہوتا ہے ، جس کے ذریعے وہ بادل کو ڈانٹتا ہے ، اور اس کے ذریعے اسے وہاں لے کر جاتا ہے جہاں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہوا ہو ، انہوں نے کہا: پھر وہ آواز کیا ہوتی ہے ؟ جو ہم سنتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اس فرشتے کی آواز ہوتی ہے ، تو انہوں نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ، اب ایک چیز باقی رہ گئی ہے ، ہم آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیں گے ، اگر آپ نے ہمیں اس کے بارے میں بھی بتا دیا ، ہر نبی کے لئے کوئی نہ کوئی ایسا فرشتہ ہوتا ہے ، جو اس کے پاس اطلاعات لے کر آتا ہے ، تو آپ ہمیں اپنے متعلقہ فرشتے کے بارے میں بتائیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل ہے ، ان لوگوں نے کہا: جبرائیل ، وہ تو عذاب ، جنگ اور لڑائی لے کر نازل ہوتا ہے ، وہ تو ہمارا دشمن ہے ، اگر آپ میکائیل کہہ دیتے ، جو رحمت ، نباتات اور بارش لے کر نازل ہوتا ہے ، تو ٹھیک ہونا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” تم یہ فرما دو ! کہ جو شخص جبرائیل کا دشمن ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔