مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ . باب: بلا عنوان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : مَرَّ يَهُودِيٌّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ ، قَالَ : فَقَالَتْ قُرَيْشٌ : يَا يَهُودِيُّ ، إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ؟ قَالَ : لَأَسْأَلَنَّهُ عَنْ شَيْءٍ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا نَبِيٌّ ، قَالَ : فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مِمَّ يُخْلَقُ الْإِنْسَانُ ؟ قَالَ : " يَا يَهُودِيُّ ، مِنْ كُلٍّ يُخْلَقُ ، مِنْ نُطْفَةِ الرَّجُلِ وَمِنْ نُطْفَةِ الْمَرْأَةِ ، فَأَمَّا نُطْفَةُ الرَّجُلِ فَنُطْفَةٌ غَلِيظَةٌ مِنْهَا الْعَظْمُ وَالْعَصَبُ ، وَأَمَّا نُطْفَةُ الْمَرْأَةِ فَنُطْفَةٌ رَقِيقَةٌ مِنْهَا اللَّحْمُ وَالدَّمُ " . فَقَامَ الْيَهُودِيُّ فَقَالَ : هَكَذَا كَانَ يَقُولُ مَنْ قَبْلَكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ وَفِي أَحَدِ إِسْنَادَيْهِ عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الْجَمَاعَةِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک یہودی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، آپ اس وقت اپنے اصحاب کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، قریش نے کہا: اے یہودی ! ان صاحب کا یہ کہنا ہے کہ یہ نبی ہیں ، تو اس یہودی نے کہا: میں ان سے ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کروں گا ، جس کا علم صرف کسی نبی کو ہو سکتا ہے ، پھر وہ شخص آیا اور بیٹھ گیا ، اس نے کہا: اے سیدنا محمد ! انسان کی تخلیق کس چیز سے ہوئی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے یہودی ! ہر شخص کو مرد کے نطفے اور عورت کے نطفے سے پیدا کیا جاتا ہے ، جہاں تک مرد کے نطفے کا تعلق ہے ، تو وہ گاڑھا نطفہ ہوتا ہے ، اس کے ذریعے ہڈیاں اور پٹھے بنتے ہیں ، جہاں تک عورت کے نطفے کا تعلق ہے ، تو وہ پتلا ہوتا ہے ، اس سے گوشت اور خون بنتا ہے ۔ “ تو یہودی کھڑا ہو گیا اور بولا: آپ سے پہلے کے ( انبیاء ) بھی اسی طرح بیان کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی عامر بن مدرک ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور راویوں کی جماعت میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔