حدیث نمبر: 13898
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا أَرَادَ هَدْيَ زَيْدِ بْنِ سَعْنَةَ ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ : مَا مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُهَا فِي وَجْهِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ ، إِلَّا اثْنَتَيْنِ لَمْ أُخْبَرْهُمَا مِنْهُ : يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ ، وَلَا تَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلَّا حِلْمًا ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا مِنَ الْحُجُرَاتِ وَمَعَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَى رَاحِلَةٍ كَالْبَدَوِيِّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِي نَفَرٌ فِي قَرْيَةِ بَنِي فُلَانٍ قَدْ أَسْلَمُوا وَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ ، وَكُنْتُ حَدَّثْتُهُمْ إِنْ أَسْلَمُوا أَتَاهُمُ الرِّزْقُ رَغَدًا ، وَقَدْ أَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ وَشِدَّةٌ وَقَحْطٌ مِنَ الْغَيْثِ ، فَأَنَا أَخْشَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ الْإِسْلَامِ طَمَعًا كَمَا دَخَلُوا فِيهِ طَمَعًا ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تُرْسِلَ إِلَيْهِمْ بِشَيْءٍ تُغِيثَهُمْ بِهِ فَعَلْتَ ، فَنَظَرَ إِلَى رَجُلٍ إِلَى جَانِبِهِ - أَرَاهُ عَلِيًّا - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ : فَدَنَوْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ : يَا مُحَمَّدُ ، هَلْ لَكَ أَنْ تَبِيعَنِي تَمْرًا مَعْلُومًا فِي حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ، إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : " لَا تُسَمِّي حَائِطَ بَنِي فُلَانٍ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَبَايَعَنِي ، فَأَطْلَقْتُ هِمْيَانِي فَأَعْطَيْتُهُ ثَمَانِينَ مِثْقَالًا مِنْ ذَهَبٍ فِي تَمْرٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلِ كَذَا وَكَذَا ، فَأَعْطَى الرَّجُلَ وَقَالَ : " اعْدِلْ عَلَيْهِمْ وَأَغِثْهُمْ بِهَا " ، قَالَ زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ : فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ مَحَلِّ الْأَجَلِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ وَدَنَا إِلَى الْجِدَارِ لِيَجْلِسَ إِلَيْهِ أَتَيْتُهُ فَأَخَذْتُ بِمَجَامِعِ قَمِيصِهِ وَرِدَائِهِ ، وَنَظَرْتُ إِلَيْهِ بِوَجْهٍ غَلِيظٍ ، قُلْتُ لَهُ : يَا مُحَمَّدُ ، أَلَا تَقْضِينِي حَقِّي ؟ فَوَاللَّهِ مَا عُلِمْتُمْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلَّا مُطْلٌ ، وَلَقَدْ كَانَ بِمُخَالَطَتِكُمْ عِلْمٌ ، وَنَظَرْتُ إِلَى عُمَرَ وَعَيْنَاهُ تَدُورَانِ فِي وَجْهِهِ كَالْفَلَكِ الْمُسْتَدِيرِ ، ثُمَّ رَمَانِي بِبَصَرِهِ فَقَالَ : يَا عَدُوَّ اللَّهِ ، أَتَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَسْمَعُ وَتَصْنَعُ بِهِ مَا أَرَى ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْلَا مَا أُحَاذِرُ فَوْتَهُ لَضَرَبْتُ بِسَيْفِي رَأْسَكَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْظُرُ إِلَيَّ فِي سُكُونٍ وَتُؤَدَةٍ ، فَقَالَ : " يَا عُمَرُ أَنَا وَهُوَ كُنَّا أَحْوَجَ إِلَى غَيْرِ هَذَا ، أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الْأَدَاءِ وَتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ اتِّبَاعِهِ ، اذْهَبْ بِهِ يَا عُمَرُ ، فَأَعْطِهِ حَقَّهُ ، وَزِدْهُ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ مَكَانَ مَا رُعْتَهُ " ، قَالَ زَيْدٌ : فَذَهَبَ بِي عُمَرُ فَأَعْطَانِي حَقِّي وَزَادَنِي عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ الزِّيَادَةُ يَا عُمَرُ ؟ قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَزِيدَكَ مَكَانَ مَا رُعْتُكَ ، قَالَ : وَتَعْرِفُنِي يَا عُمَرُ ؟ قَالَ : لَا [ مَنْ أَنْتَ ] ، قُلْتُ : أَنَا زَيْدُ بْنُ سَعْنَةَ ، قَالَ : الْحَبْرُ ؟ قُلْتُ : الْحَبْرُ ، قَالَ : فَمَا دَعَاكَ إِلَى أَنْ فَعَلْتَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا فَعَلْتَ ، وَقُلْتَ لَهُ مَا قُلْتَ ؟ قُلْتُ : يَا عُمَرُ ، لَمْ يَكُنْ مِنْ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ شَيْءٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ ، إِلَّا اثْنَتَيْنِ لَمْ أُخْبَرْهُمَا مِنْهُ : يَسْبِقُ حِلْمُهُ جَهْلَهُ ، وَلَا تَزِيدُهُ شِدَّةُ الْجَهْلِ عَلَيْهِ إِلَّا حِلْمًا ، وَقَدِ اخْتَبَرْتُهُمَا ، فَأُشْهِدُكَ يَا عُمَرُ أَنِّي قَدْ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، وَأُشْهِدُكَ أَنَّ شَطْرَ مَالِي - فَإِنِّي أَكْثَرُهَا مَالًا - صَدَقَةٌ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عُمَرُ : أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ ، فَإِنَّكَ لَا تَسَعُهُمْ ؟ قُلْتُ : أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ ، فَرَجَعَ عُمَرُ وَزَيْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ زَيْدٌ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَآمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَبَايَعَهُ وَشَهِدَ مَعَهُ مَشَاهِدَ كَثِيرَةً ، ثُمَّ تُوُفِّيَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ ، رَحِمَ اللَّهُ زَيْدًا . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ طَرَفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت دینے کا ارادہ کیا ، تو زید بن سعنہ نے کہا: نبوت کی علامات سے متعلق جو بھی چیز ہے ، وہ مجھے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں پتہ چل گئی ، جب میں نے ان کی طرف دیکھا تھا ، البتہ دو چیزوں کا معاملہ مختلف ہے ، ان کے حوالے سے میں انہیں آزما لیتا ہوں ، ایک یہ کہ اُن کی بردباری ، ان کی سختی پر سبقت لے جاتی ہو گی اور ان کے خلاف جتنی شدت کے ساتھ بدتمیزی کی جائے گی ، وہ اتنے ہی زیادہ بردبار ہوں گے ، تو میں ان کے ساتھ رہنے لگا ، تاکہ ان کے ساتھ گھل مل کے سختی کے مقابلے میں ، اُن کی بردباری کا جائزہ لوں ، زید بن سعنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجروں سے تشریف لائے ، آپ کے ساتھ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ایک شخص سواری پر سوار ہو کے آپ کے پاس آیا ، وہ بدوی لگ رہا تھا ، اس نے کہا: یا رسول اللہ ! بنوفلاں کے علاقے میں ، میرے ساتھی کچھ لوگ ہیں ، وہ اسلام قبول کر چکے ہیں ، وہ لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں ، میں نے انہیں یہ بتایا تھا کہ جب وہ اسلام قبول کر لیں گے ، تو ان کے پاس بہت سا رزق آئے گا ، لیکن انہیں تو قحط سالی اور مصیبت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ، اور بارش ہو نہیں رہی ہیں ، یا رسول اللہ ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ جس طرح لالچ کی بنیاد پر اسلام میں داخل ہوئے تھے ، اسی طرح لالچ کی وجہ سے اسلام سے نکل جائیں گے ، تو اگر آپ مناسب سمجھیں کہ ان کی طرف کوئی چیز بھیج دیں ، جس کے ذریعے آپ ان لوگوں کی مدد کر دیں ، تو یہ مناسب ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلو میں موجود شخص کی طرف دیکھا ، میرا خیال ہے وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ کوئی بھی چیز باقی نہیں ہے ، زید بن سعنہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، میں نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ متعین مدت کے بعد بنو فلاں کے باغ میں لگنے والی متعین کھجوروں کے عوض میں میرے ساتھ سودا کر لیں ، اور اس کی مدت اتنی اتنی ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! اے یہودی ! میں تمہارے ساتھ کھجوروں کا سودا کروں گا ، جو متعین ہوں گی اور اس کی مدت متعین ہو گی ، جو فلاں مدت ہو گی ، لیکن تم اس میں کسی مخصوص باغ کو متعین نہیں کر سکتے ، میں نے کہا: ٹھیک ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ یہ سودا طے کیا ، میں نے اپنی تھیلی کو کھولا اور اس میں سے متعین کھجوروں کے عوض میں متعین مدت کے معاہدے کے ساتھ سونے کے اسّی مثقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیدیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مثقال ان صاحب کو دیے اور فرمایا : تم ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان کے ذریعے اُن لوگوں کی مدد کرو ۔ سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اس متعین مدت کے ختم ہونے میں دو یا تین دن باقی رہ گئے تو ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے اور کچھ دیگر اصحاب تھے ، آپ نے نماز جنازہ ادا کی ، پھر آپ ایک دیوار کی طرف بڑھ گئے ، تاکہ اس کے پاس بیٹھ جائیں ، میں آپ کے پاس آیا ، میں نے آپ کی قمیص کے گریبان اور آپ کی چادر کو پکڑا اور سخت نظروں سے آپ کی طرف دیکھا اور آپ سے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ میرا حق مجھے کیوں نہیں ادا کر رہے ہیں ؟ آپ لوگوں ، بنو عبدالمطلب کے بارے میں مجھے پتہ ہے کہ آپ لوگ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں اور آپ لوگوں کے ساتھ میل جول رکھ کر مجھے اس بات کا پتہ چل چکا ہے ، پھر میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا ، تو ان کی آنکھیں اُبل رہی تھیں ، انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا: اے اللہ کے دشمن ! کیا تم اللہ کے رسول کو یہ بات کہہ رہے ہو ؟ جو میں سن رہا ہوں اور ان کے ساتھ یہ کر رہے ہو ، جو میں دیکھ رہا ہوں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر وہ چیز نہ ہوتی جس کے ضائع ہونے سے میں بچ رہا ہوں تو میں نے اپنی تلوار کے ذریعے تمہارا سر اُڑا دینا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سکون اور نرمی کے ساتھ میری طرف دیکھتے رہے ، آپ نے فرمایا : اے عمر ! میں اور یہ ، ہم اس کے علاوہ صورت حال کے بارے میں زیادہ محتاج ہیں ، اور وہ یہ ہے کہ تم مجھ سے یہ کہو : کہ آپ اچھے طریقے سے ادائیگی کریں ، اور تم اس کو یہ کہو : کہ یہ اچھے طریقے سے وصولی کرے ، اور اے عمر ! تم اسے لے جاؤ اسے اس کا حق دے دو ، اور اسے کھجوروں کے بیس صاع زیادہ دینا ، جو اُس چیز کا بدلہ ہوں گے ، جو تم نے اسے دھمکی دی ہے ۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھے ساتھ لے گئے ، انہوں نے میرا حق مجھے ادا کیا اور کھجوروں کے مزید بیس صاع مجھے دیے ، تو میں نے کہا: اے عمر ! یہ اضافی ادائیگی کس لئے ہے ؟ انہوں بتایا کہ اللہ کے رسول نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں نے جو تمہیں دھمکی دی تھی ، اس کی جگہ میں تمہیں مزید ادائیگی کروں ، تو سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر ! کیا تم مجھے جانتے ہو ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں ! تم کون ہو ؟ میں نے کہا: میں زید بن سعنہ ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ جو یہودیوں کا بڑا عالم ہے ؟ میں نے کہا: ہاں ! یہودیوں کا بڑا عالم ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیوں کیا ؟ اور جو بات کہی تھی ، اس طرح کی بات کیوں کی ؟ تو میں نے کہا: اے عمر ! نبوت کی علامات سے متعلق ہر چیز ، میں اللہ کے رسول کے چہرے میں پہچان چکا تھا ، جب میں نے انہیں دیکھا تھا ، لیکن دو چیزیں باقی رہ گئی تھیں ، جن کے بارے میں ، میں اُن کے حوالے سے تحقیق کرنا چاہتا تھا ، وہ یہ کہ ان کی بردباری ان کی سختی پر سبقت لے جاتی ہو گی ، اور ان کے سامنے جتنی زیادہ سختی کے ساتھ بدتمیزی کی جائے گی ، اُن کی بردباری اتنی ہی زیادہ ہو گی ، تو اب میں نے ان دونوں چیزوں کو آزما لیا ہے ، اور میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں اے عمر ! کہ میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی ہوں ، اور میں آب کو اس بات پر بھی گواہ بنا رہا ہوں کہ میرا نصف مال سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے صدقہ ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس ( مال ) کا کچھ حصہ کر لو ، تم اس کی گنجائش نہیں رکھو گے ، میں نے کہا: یا پھر اس کا کچھ حصہ ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے اور آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت سے غزوات میں شریک ہوئے ، پھر وہ غزوہ تبوک کے موقع پر دشمن کی طرف رخ کر کے پیٹھ پھیرے بغیر شہید ہوئے تھے ، اللہ تعالیٰ سیدنا زید رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13898
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5147)»