حدیث نمبر: 13897
وَعَنْ كُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ قَالَ : قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفْدُ نَصَارَى نَجْرَانَ ، مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ مِنْ أَشْرَافِهِمْ ، وَالْأَرْبَعَةُ وَالْعِشْرُونَ مِنْهُمْ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَيْهِمْ يَئُولُ أَمْرُهُمْ ، الْعَاقِبُ : أَمِيرٌ لِلْقَوْمِ وَذُو رَأْيِهِمْ وَصَاحِبُ مَشُورَتِهِمْ وَالَّذِي لَا يَصْدُرُونَ إِلَّا عَنْ رَأْيِهِ وَأَمْرِهِ ، وَاسْمُهُ عَبْدُ الْمَسِيحِ ، وَالسَّيِّدُ : عَالِمُهُمْ وَصَاحِبُ رَحْلِهِمْ وَمُجْتَمَعِهِمْ ، وَأَبُو حَارِثَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخُو بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، أُسْقُفُهُمْ وَحَبْرُهُمْ وَإِمَامُهُمْ وَصَاحِبُ مُدَارَسَتِهِمْ ، وَكَانَ أَبُو حَارِثَةَ قَدْ شَرُفَ فِيهِمْ حَتَّى حَسُنَ عِلْمُهُ فِي دِينِهِمْ ، وَكَانَتْ مُلُوكُ النَّصْرَانِيَّةِ قَدْ سَرَقُوهُ وَقَتَلُوهُ وَبَنَوْا لَهُ الْكَنَائِسَ وَبَسَطُوا عَلَيْهِ الْكَرَامَاتِ لِمَا يَبْلُغُهُمْ مِنَ اجْتِهَادِهِ فِي دِينِهِمْ ، فَلَمَّا وَجَّهُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ نَجْرَانَ ، جَلَسَ أَبُو حَارِثَةَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ مُوَجَّهًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِلَى جَنْبِهِ أَخٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ : كُرْزُ بْنُ عَلْقَمَةَ يُسَائِلُهُ إِذْ عَثَرَتْ بَغْلَةُ أَبِي حَارِثَةَ فَقَالَ كُرْزٌ : تَعِسَ الْأَبْعَدُ ، يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : بَلْ أَنْتَ تَعِسْتَ ، قَالَ : وَلِمَ يَا أَخِ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّهُ النَّبِيُّ الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ ، قَالَ لَهُ كُرْزٌ : مَا يَمْنَعُكَ وَأَنْتَ تَعْلَمُ هَذَا ؟ قَالَ : مَا صَنَعَ بِنَا هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ ، شَرَّفُونَا وَأَكْرَمُونَا وَقَدْ أَبَوْا إِلَّا خِلَافَهُ ، وَلَوْ قَدْ فَعَلْتُ نَزَعُوا مِنَّا كُلَّ مَا تَرَى ، وَأَضْمَرَ عَلَيْهَا أَخُوهُ كُرْزُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، يَعْنِي : أَسْلَمَ بَعْدَ ذَلِكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بُرَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نجران کے عیسائیوں کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وفد میں ان کے چوبیس سرکردہ افراد تھے ، اور ان چوبیس افراد میں سے تین افراد ایسے تھے ، جن کی طرف ان لوگوں کے معاملات میں رجوع کیا جاتا تھا ، ان میں سے ایک ” عاقب “ نام کا شخص تھا ، جو ان لوگوں کا امیر تھا اور ان کا تجربہ کار آدمی اور مشورہ دینے والا فرد تھا ، وہ لوگ اس کی رائے اور اس کے حکم سے عدول نہیں کرتے تھے ، اس کا نام عبدالمسیح تھا ، ایک شخص کا نام ” سید “ تھا ، وہ ان کا عالم تھا اور ان کے امور کا نگران تھا ، ایک شخص ” ابوحارثہ بن علقمہ “ تھا ، جو بکر بن وائل سے تعلق رکھتا تھا ، وہ ان کا پادری ان کا بڑا عالم اور ان کا پیشوا اور ان کے درس و تدریس کے امور کا نگران تھا ، ابوحارثہ کو ان کے درمیان نمایاں حیثیت حاصل تھی ، ان لوگوں کے دین کے بارے میں وہ بھرپور عالم تھا ، عیسائیوں کے بادشاہ اسے عزت دیتے تھے ، اس کی بات کو قبول کرتے تھے ، ان لوگوں نے اس کے لئے عبادت خانے تعمیر کیے تھے ، اور دین میں اس کی بھرپور کوشش کی وجہ سے اسے بہت سے اعزاز و احترام سے نوازا تھا ۔ جب یہ لوگ نجران سے چل کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوئے ، تو ابوحارثہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے کے لئے اپنے خچر پر بیٹھا ، اس کے پہلو میں اس کا بھائی تھا ، جس کا نام کرز بن علقمہ تھا ، وہ اس سے بات چیت کر رہا تھا ، اسی دوران ابوحارثہ کے خچر کو ٹھوکر لگی تو کرز نے کہا: دور کا شخص ، برباد ہو جائے ، اس کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، تو ابوحارثہ نے کہا: بلکہ تم برباد ہو جاؤ ! کرز نے دریافت کیا : وہ کیوں اے بھائی جان ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ وہی نبی ہیں ، جن کا ہم انتظار کر رہے تھے ، کرز نے اس سے دریافت کیا : جب تم یہ بات جانتے ہو ، تو پھر تمہارے لئے رکاوٹ کیا ہے ؟ اس نے کہا: رکاوٹ یہ ہے کہ جو ان ( عیسائی ) لوگوں نے ہمارے ساتھ سلوک کیا ہوا ہے ، ان لوگوں نے ہمیں عزت دی ہے ، یہ لوگ ہمارا احترام کرتے ہیں اور یہ لوگ اس بات کو نہیں مانیں گے کہ ہم اُن ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیروی کریں ، اگر میں ایسا کر لیتا ہوں ، تو وہ مجھ سے ہر وہ چیز لے لیں گے ، جو تم دیکھ رہے ہو ۔ تو اس کے بھائی کرز بن علقمہ نے اس حوالے سے یہ بات پوشیدہ رکھی ، راوی کہتے ہیں : یعنی انہوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بریدہ بن سفیان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13897
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف