حدیث نمبر: 13899
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : كُنْتُ مِنْ أَبْنَاءِ أَسَاوِرَةِ فَارِسَ ، قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ فَانْطَلَقْتُ تَرْفَعُنِي أَرْضٌ وَتَخْفِضُنِي أُخْرَى ، حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى قَوْمٍ [ مِنْ الْأَعْرَابِ ] فَاسْتَعْبَدُونِي فَبَاعُونِي ، حَتَّى اشْتَرَتْنِي امْرَأَةٌ ، فَسَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ الْعَيْشُ عَزِيزًا فَقُلْتُ لَهَا : هَبِي لِي يَوْمًا ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ فَصَنَعْتُ طَعَامًا ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " ، فَقُلْتُ : صَدَقَةٌ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " كُلُوا " ، وَلَمْ يَأْكُلْ ، فَقُلْتُ : هَذِهِ مِنْ عَلَامَاتِهِ ، ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَمْكُثَ ، فَقُلْتُ لِمَوْلَاتِي : هِبِي لِي يَوْمًا ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، فَصَنَعْتُ طَعَامًا فَأَتَيْتُهُ بِهِ وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " ، فَقُلْتُ : هَدِيَّةٌ ، فَوَضَعَ يَدَهُ ، وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " خُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ " ، وَقُمْتُ خَلْفَهُ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ ، فَإِذَا خَاتَمُ النُّبُوَّةِ ، فَقُلْتُ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " ، فَحَدَّثْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ ، فَقُلْتُ لَهُ : أَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ ؟ فَقَالَ : " لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ أَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرا تعلق فارس کے خوشحال لوگوں سے تھا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کے یہ الفاظ ہیں : ” میں مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا کچھ لوگوں کے پاس آیا ، جو دیہاتی تھے انہوں نے مجھے غلام بنا لیا اور مجھے فروخت کر دیا ، یہاں تک کہ ایک عورت نے مجھے خرید لیا ، میں نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے سنا تو زندگی ٹھیک جا رہی تھی ، ایک دن میں نے اپنی مالکن سے کہا: آپ مجھے ایک دن کی چھٹی دے دیں ، اس نے کہا: ٹھیک ہے ، میں گیا ، میں نے لکڑیاں اکٹھی کیں ، انہیں فروخت کیا ، ان کے ذریعے کھانا تیار کیا اور وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ، میں نے عرض کی : یہ صدقہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ کھا لو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے نہیں کھایا ، تو میں نے سوچا : یہ ان کی مخصوص علامات میں سے ایک ہے ۔ پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا اتنا عرصہ گزر گیا ، پھر میں نے اپنی مالکن سے کہا: آپ مجھے ایک دن کی چھٹی دے دیں ، اس نے کہا: ٹھیک ہے ، میں گیا ، میں نے لکڑیاں اکٹھی کیں ، انہیں زیادہ قیمت میں فروخت کیا ، ان کے ذریعے کھانا تیار کیا ، اسے لے کر آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، وہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا ، آپ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ، میں نے عرض کی یہ تحفہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس میں رکھا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا : تم لوگ اللہ کا نام لے کر کھاؤ ، میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوا ، آپ نے چادر ہٹائی تو مہر نبوت نظر آ گئی ، میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کس وجہ سے ؟ تو میں نے آپ کو اس شخص کے بارے میں بتایا ، میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ شخص جنت میں جائے گا ؟ جس نے مجھے یہ بتایا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں صرف مسلمان جان داخل ہو گی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے مجھے یہ بتایا تھا کہ آپ نبی ہیں ، تو کیا وہ جنت میں ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں صرف مسلمان داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13899
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6155) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (438/5)»