حدیث نمبر: 13896
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : أُخْرِجَ جَيْشٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنَا أَمِيرُهُمْ ، حَتَّى نَزَلْنَا الْإِسْكَنْدَرِيَّةَ فَقَالَ عَظِيمٌ مِنْ عُظَمَائِهِمْ : أَخْرِجُوا إِلَيَّ رَجُلًا أُكَلِّمُهُ وَيُكَلِّمُنِي ، فَقُلْتُ : لَا يَخْرُجُ إِلَيْهِ غَيْرِي ، فَخَرَجْتُ مَعَ تُرْجُمَانِهِ حَتَّى وُضِعَ لَنَا مِنْبَرَانِ ، فَقَالَ : مَا أَنْتُمْ ؟ فَقُلْنَا : نَحْنُ الْعَرَبُ ، وَنَحْنُ أَهْلُ الشَّوْكِ وَالْقَرَظِ ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتِ اللَّهِ ، كُنَّا أَضْيَقَ النَّاسِ أَرْضًا وَأَشَدَّهُ عَيْشًا ، نَأْكُلُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ ، وَيُغِيرُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ بِشَرِّ عَيْشٍ عَاشَ بِهِ النَّاسُ ، حَتَّى خَرَجَ فِينَا رَجُلٌ لَيْسَ بِأَعْظَمِنَا يَوْمَئِذٍ شَرَفًا وَلَا بِأَكْثَرِنَا مَالًا ، قَالَ : أَنَا رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ ، يَأْمُرُنَا بِأَشْيَاءَ لَا نَعْرِفُ ، وَيَنْهَانَا عَمَّا كُنَّا عَلَيْهِ وَكَانَ عَلَيْهِ آبَاؤُنَا ، فَشَنِفْنَا لَهُ وَكَذَّبْنَاهُ وَرَدَدْنَا عَلَيْهِ مَقَالَتَهُ ، حَتَّى خَرَجَ إِلَيْهِ قَوْمٌ مِنْ غَيْرِنَا فَقَالُوا : نَحْنُ نُصَدِّقُكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَتَّبِعُكَ وَنُقَاتِلُ مَنْ قَاتَلَكَ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ وَخَرَجْنَا إِلَيْهِ فَقَاتَلْنَاهُ ، فَظَهَرَ عَلَيْنَا وَغَلَبَنَا ، وَتَنَاوَلَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الْعَرَبِ فَقَاتَلَهُمْ حَتَّى ظَهَرَ عَلَيْهِمْ ، فَلَوْ يَعْلَمُ مَنْ وَرَائِيَ مِنَ الْعَرَبِ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ حَتَّى جَاءَكُمْ حَتَّى يُشَارِكَكُمْ فِيمَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ ، فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ صَدَقَ ، قَدْ جَاءَتْنَا رُسُلُنَا بِمِثْلِ الَّذِي جَاءَ بِهِ رَسُولُكُمْ ، فَكُنَّا عَلَيْهِ حَتَّى ظَهَرَتْ فِينَا فِتْيَانٌ فَجَعَلُوا يَعْمَلُونَ فِينَا بِأَهْوَائِهِمْ وَيَتْرُكُونَ أَمْرَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَإِنْ أَنْتُمْ أَخَذْتُمْ بِأَمْرِ نَبِيِّكُمْ لَمْ يُقَاتِلْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبْتُمُوهُ ، وَلَمْ يُشَارِرْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا ظَهَرْتُمْ عَلَيْهِ ، فَإِذَا فَعَلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي فَعَلْنَا ، وَتَرَكْتُمْ أَمْرَ نَبِيِّكُمْ ، وَعَمِلْتُمْ مِثْلَ الَّذِي عَمِلُوا بِأَهْوَائِهِمْ ، فَهُمْ لَمْ يَكُونُوا أَكْثَرَ عَدَدًا مِنَّا وَلَا أَشَدَّ قُوَّةً مِنَّا ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : فَمَا كَلَّمْتُ رَجُلًا أَنْكَرَ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

علقمہ بن وقاص بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ مسلمانوں کا ایک لشکر بھیجا گیا ، میں ان لوگوں کا امیر تھا ، ہم نے اسکندریہ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، تو دشمن کے ایک بڑے فرد نے یہ کہا: کسی شخص کو میرے پاس بھیجو تاکہ میں اس کے ساتھ بات چیت کروں اور وہ میرے ساتھ بات کرے ( سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) تو میں نے کہا: میرے علاوہ اور کوئی اس کی طرف نہیں جائے گا ، تو میں اس کے قاصد کے ہمراہ نکلا ، یہاں تک کہ ہمارے لئے دو منبر رکھے گئے ، اس نے دریافت کیا : تم لوگ کون ہو ؟ میں نے جواب دیا : ہم عرب ہیں ، ہم کانٹوں اور پتوں میں رہنے والے لوگ ہیں ، ہم اللہ کے گھر کے پاس رہنے والے لوگ ہیں ، ہم روئے زمین پر سب سے زیادہ تنگی کا شکار لوگ تھے ، اور ہماری زندگی سب سے زیادہ مشکل تھی ، ہم مردار اور خون کھا لیا کرتے تھے اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہو جایا کرتے تھے ، ہم اس سب سے برے طریقے سے زندہ رہے تھے جس کے ساتھ لوگ رہ سکتے ہیں ، یہاں تک کہ ہمارے درمیان ایک صاحب کا ظہور ہوا ، جو نہ تو معاشرتی طور پر سب سے زیادہ نمایاں حیثیت کے مالک تھے اور نہ ہی سب سے زیادہ مال دار تھے ، انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کی طرف اللہ کا رسول ہوں ، انہوں نے ہمیں ایسی باتوں کا حکم دیا ، جن سے ہم واقف نہیں تھے اور انہوں نے ہمیں ایسی چیزوں سے منع کیا جن پر ہم عمل پیرا تھے ، اور ہمارے آباؤ اجداد ان پر عمل پیرا تھے ، تو ہم نے ان کی مخالفت کی ، ان کی تکذیب کی ، ان کی بات کو مسترد کیا ۔ یہاں تک کہ ہمارے علاوہ ایک اور قوم ان کے پاس آئی اور اس قوم کے لوگوں نے کہا: کہ ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں اور آپ پر ایمان لاتے ہیں اور آپ کی پیروی کرتے ہیں ، جو شخص آپ کے ساتھ لڑائی کرے گا ، ہم اس کے ساتھ جنگ کریں گے ، تو وہ صاحب ان لوگوں کے پاس تشریف لے گئے ، پھر ہم ان کے پیچھے گئے ، ہم نے ان کے ساتھ لڑائی کی ، تو وہ ہم پر غالب آ گئے اور پھر انہوں نے عربوں کے دیگر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے لڑائی کی ، یہاں تک کہ وہ ان پر بھی غالب آ گئے ، اگر میرے پیچھے موجود عرب لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ تم لوگ کس طرح کی خوشحال زندگی گزار رہے ہو ، تو وہ سب لوگ تمہارے پاس آ جائیں گے اور تم لوگ جس خوشحال زندگی کو بسر کر رہے ہو ، وہ اس میں تمہارے حصے دار بن جائیں گے ۔ تو دشمن کا امیر ہنس پڑا اور بولا: بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ کہا: ہے ، ہمارے پاس بھی رسول اسی کی مانند تعلیمات لے کے آئے تھے ، جو تمہارے رسول لے کے آئے ہیں ، اور ہمارے بڑے ان تعلیمات پر عمل پیرا رہے ، یہاں تک کہ ہمارے درمیان کچھ لوگ آئے ، جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشات پر عمل کرنا شروع کر دیا اور انبیاء کے حکم کو ترک کر دیا ، جب تک تم لوگ اپنے نبی کے حکم پر عمل پیرا رہو گے ، جو بھی تمہارے مقابلے میں آئے گا ، تم اس پر غالب آ جاؤ گے اور جو بھی تمہارے سامنے آئے گا ، تم اس پر غلبہ پا لو گے اور جب تم لوگ اس طرح کے کام کرو گے ، جس طرح کے ہم نے کیے اور تم لوگ اپنے نبی کے حکم کو ترک کر دو گے اور اس کی مانند عمل کرو گے جو ان لوگوں نے عمل کیا جو اپنی نفسانی خواہشات پر عمل کرتے تھے ، تو پھر تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دیا جائے گا کیونکہ تم تعداد میں ہم سے زیادہ نہیں ہو ، اور قوت میں ہم سے زیادہ مضبوط نہیں ہو ۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اُس سے زیادہ سمجھ دار کسی شخص سے بات نہیں کی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ راوی ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13896
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7353)»