حدیث نمبر: 13895
وَعَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ أَنَّهُ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكِتَابٍ إِلَى قَيْصَرَ ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَأَعْطَيْتُهُ الْكِتَابَ وَعِنْدَهُ ابْنُ أَخٍ لَهُ أَحْمَرُ أَزْرَقُ سَبِطُ الرَّأْسِ ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ كَانَ فِيهِ : " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى هِرَقْلَ صَاحِبِ الرُّومِ " ، قَالَ : فَنَخَرَ ابْنُ أَخِيهِ نَخْرَةً ، وَقَالَ : لَا يُقْرَأُ هَذَا الْيَوْمَ ، فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ : لِمَ ؟ قَالَ : إِنَّهُ بَدَأَ بِنَفْسِهِ وَكَتَبَ : " صَاحِبَ الرُّومِ " ، وَلَمْ يَكْتُبْ : مَلِكَ الرُّومِ ، فَقَالَ قَيْصَرُ : لَتَقْرَأَنَّهُ ، فَلَمَّا قَرَأَ الْكِتَابَ وَخَرَجُوا مِنْ عِنْدِهِ ، أَدْخَلَنِي عَلَيْهِ وَأَرْسَلَ إِلَى الْأُسْقُفِ ، وَهُوَ صَاحِبُ أَمْرِهِمْ ، فَأَخْبَرُوهُ وَأَخْبَرَهُ وَأَقْرَأَهُ الْكِتَابَ ، فَقَالَ لَهُ الْأُسْقُفُ : هَذَا الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُ وَبَشَّرَنَا بِهِ عِيسَى ، قَالَ لَهُ قَيْصَرُ : كَيْفَ تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ لَهُ الْأُسْقُفُ : أَمَّا أَنَا فَمُصَدِّقُهُ وَمُتَّبِعُهُ ، فَقَالَ لَهُ قَيْصَرُ : أَمَّا أَنَا إِنْ فَعَلْتُ ذَلِكَ ذَهَبَ مُلْكِي ، ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ ، فَأَرْسَلَ قَيْصَرُ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَهُ ، قَالَ : حَدِّثْنِي عَنْ هَذَا الَّذِي خَرَجَ بِأَرْضِكُمْ ، مَا هُوَ ؟ قَالَ : شَابٌّ ، قَالَ : فَكَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ ؟ قَالَ : هُوَ فِي حَسَبٍ مِنَّا لَا يُفَضَّلُ عَلَيْهِ أَحَدٌ ، قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ ، قَالَ : كَيْفَ صِدْقُهُ ؟ قَالَ : مَا كَذَبَ قَطُّ ، قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ مَنْ خَرَجَ مِنْ أَصْحَابِكُمْ إِلَيْهِ ، هَلْ يَرْجِعُ إِلَيْكُمْ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ ، قَالَ : أَرَأَيْتَ مَنْ خَرَجَ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَيْكُمْ ، هَلْ يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ ، قَالَ : هَلْ يَنْكُبُ أَحْيَانًا إِذَا قَاتَلَ هُوَ فِي أَصْحَابِهِ ؟ قَالَ : قَدْ قَاتَلَهُ قَوْمٌ فَهَزَمَهُمْ وَهَزَمُوهُ ، قَالَ : هَذِهِ آيَةُ النُّبُوَّةِ ، قَالَ : ثُمَّ دَعَانِي فَقَالَ : أَبْلِغْ صَاحِبَكَ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ، وَلَكِنْ لَا أَتْرُكُ مُلْكِي ، قَالَ : وَأَمَّا الْأُسْقُفُ فَإِنَّهُ كَانُوا يَجْتَمِعُونَ إِلَيْهِ فِي كُلِّ أَحَدٍ ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُذَكِّرُهُمْ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحَدِ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ وَقَعَدَ إِلَى يَوْمِ الْأَحَدِ الْآخَرِ ، فَكُنْتُ أَدْخُلُ إِلَيْهِ فَيُكَلِّمُنِي وَيَسْأَلُنِي ، فَلَمَّا جَاءَ الْأَحَدُ الْآخَرُ انْتَظَرُوهُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ ، وَاعْتَلَّ عَلَيْهِمْ بِالْمَرَضِ ، وَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا ، وَبَعَثُوا إِلَيْهِ : لَتَخْرُجَنَّ إِلَيْنَا أَوْ لَنَدْخُلَنَّ عَلَيْكَ فَنَقْتُلَكَ ، فَإِنَّا قَدْ أَنْكَرْنَاكَ مُنْذُ قَدِمِ هَذَا الْعَرَبِيُّ ، فَقَالَ الْأُسْقُفُ : خُذْ هَذَا الْكِتَابَ وَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِكَ ، فَاقْرَأْ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنِّي قَدْ آمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُهُ وَاتَّبَعْتُهُ وَأَنَّهُمْ قَدْ أَنْكَرُوا عَلَيَّ ذَلِكَ ، فَبَلِّغْهُ مَا تَرَى ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَتَلُوهُ ، ثُمَّ خَرَجَ دِحْيَةُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ رُسُلُ عُمَّالِ كِسْرَى عَلَى صَنْعَاءَ ، بَعَثَهُمْ إِلَيْهِ وَكَتَبَ إِلَى صَاحِبِ صَنْعَاءَ يَتَوَعَّدُهُ يَقُولُ : لِتَكْفِنِي رَجُلًا خَرَجَ بِأَرْضِكَ يَدْعُونِي إِلَى دِينِهِ أَوْ أُؤَدِّي الْجِزْيَةَ ، أَوْ لَأَقْتُلَنَّكَ - أَوْ قَالَ : لَأَفْعَلَنَّ بِكَ - فَبَعَثَ صَاحِبُ صَنْعَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَةَ عَشَرَ رَجُلًا ، فَوَجَدَهُمْ دِحْيَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا قَرَأَ كِتَابَ صَاحِبِهِمْ تَرَكَهُمْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ، فَلَمَّا مَضَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً تَعَرَّضُوا لَهُ ، فَلَمَّا رَآهُمْ دَعَاهُمْ فَقَالَ : " اذْهَبُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ فَقُولُوا لَهُ : إِنَّ رَبِّي قَتَلَ رَبَّهُ اللَّيْلَةَ " ، فَانْطَلَقُوا فَأَخْبَرُوهُ بِالَّذِي صَنَعَ فَقَالَ : أَحْصُوا هَذِهِ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : أَخْبِرُونِي كَيْفَ رَأَيْتُمُوهُ ؟ قَالُوا : مَا رَأَيْنَا مَلِكًا أَهْيَأَ مِنْهُ ، يَمْشِي فِيهِمْ لَا يَخَافُ شَيْئًا ، مُبْتَذِلًا لَا يُحْرَسُ ، وَلَا يَرْفَعُونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَهُ ، قَالَ دِحْيَةُ : ثُمَّ جَاءَ الْخَبَرُ أَنَّ كِسْرَى قُتِلَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک مکتوب دے کر قیصر کے پاس بھیجا ، جب میں اس کے پاس آیا ، اور میں نے اسے مکتوب دیا ، تو اس وقت اس کے پاس اس کا ایک بھتیجا موجود تھا ، جو سرخ رنگت کا ، نیلی آنکھوں کا مالک تھا ، اس کے سر کے بال بالکل سیدھے تھے ، جب اس نے مکتوب پڑھنا شروع کیا ، تو اس میں یہ تحریر تھا : ” یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ، روم کے متعلقہ فرد ، ہرقل کے نام ہے “ راوی کہتے ہیں : تو اس کا بھتیجا غصے میں آ گیا اور بولا: اس کو آج نہیں پڑھا جائے گا ، قیصر نے اس سے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اس نے کہا: ایک بات تو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ذات کا ذکر کر کے آغاز کیا ہے ، دوسرا یہ کہ انہوں نے لکھا ہے روم کے متعلقہ فرد ، انہوں نے یہ نہیں لکھا کہ روم کے بادشاہ ، تو قیصر نے کہا: تم اسے پڑھو ، جب اس نے اس مکتوب کو پڑھا تو وہ لوگ اس کے پاس سے اٹھ کے چلے گئے ، اس نے مجھے اپنے پاس بلوایا اور ایک پادری کو بلوایا جو ان کے معاملے سے متعلقہ فرد تھا ، اس نے اس بارے میں اس پادری کو بتایا اور اسے وہ خط پڑھایا تو اس پادری نے اس سے کہا: یہ وہی صاحب ہیں جن کا ہم انتظار کر رہے تھے اور جن کے بارے میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں بشارت دی تھی ، قیصر نے اس سے کہا: تم اس بارے میں مجھے کیا ہدایت کرتے ہو ؟ پادری نے اس سے کہا: جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ، تو میں ان کی تصدیق کروں گا اور ان کی پیروی کروں گا ، قیصر نے اس سے کہا: لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو اگر میں ایسا کر لیتا ہوں تو میری حکومت ختم ہو جائے گی ، پھر ہم اس کے پاس سے اٹھ کے آ گئے ، قیصر نے ابوسفیان کو پیغام بھیجا جو ان دنوں وہاں ہی تھے ۔ اس نے کہا: آپ مجھے ان صاحب کے بارے میں بتائیے جو آپ کے علاقے میں مبعوث ہوئے ہیں وہ کون ہیں ، ابوسفیان نے بتایا وہ ایک نوجوان ہیں ، اس نے دریافت کیا : آپ لوگوں کے درمیان ان کا حسب نسب کیسا ہے ، ابوسفیان نے بتایا کہ وہ حسب نسب کے اعتبار سے ایسے ہیں کہ کوئی ان پر فضیلت نہیں رکھتا ، قیصر نے کہا: یہ نبوت کی ایک نشانی ہے ، اس نے دریافت کیا : ان کی سچائی کیسی ہے ، ابوسفیان نے کہا: انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا: ، قیصر نے کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے ، پھر قیصر نے دریافت کیا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ تمہارے ساتھیوں میں سے جو شخص نکل کر ان کی طرف گیا ہو ، کیا وہ تمہاری طرف واپس بھی آ جاتا ہے ؟ ابوسفیان نے کہا: جی نہیں ، تو قیصر نے کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے ، پھر اس نے کہا: اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ ان کے ساتھیوں میں سے کوئی نکل کر تمہاری طرف آ جائے تو وہ لوگ ان کی طرف واپس چلے جاتے ہیں ، ابوسفیان نے جواب دیا : جی ہاں ، تو قیصر نے کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے ، پھر قیصر نے دریافت کیا : کیا کبھی ایسا بھی ہوا ، انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے لڑائی کی ہو ، تو ابوسفیان نے بتایا کہ ان کے مخالفین نے ان کے ساتھ لڑائی کی ، کبھی انہوں نے اپنے مخالفین کو پسپا کر دیا ، اور کبھی ان کے مخالفین نے انہیں پسپا کر دیا ، قیصر نے کہا: یہ نبوت کی نشانی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر قیصر نے مجھے بلایا اور بولا: تم اپنے آقا تک یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم پہچان گئے ہیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں لیکن میں اپنی حکومت نہیں چھوڑ سکتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جہاں تک اس پادری کا تعلق ہے ، تو اس کا یہ معاملہ تھا ، لوگ ہر ہفتے میں ایک دن اس کے پاس اکٹھے ہوتے تھے ، وہ نکل کر ان کے پاس آتا تھا اور ان کے ساتھ بات چیت کرتا تھا ، انہیں وعظ و نصیحت کرتا تھا ، جب ہفتے کا دن آیا تو وہ اس مرتبہ نکل کر ان کے پاس نہیں آیا اور اگلا ہفتہ آنے تک وہ اپنی جگہ پر موجود رہا ، میں اس کے پاس جاتا تھا ، وہ میرے ساتھ بات چیت کرتا تھا وہ میرے ساتھ سوال و جواب کرتا تھا ، جب اگلے ہفتے کا دن آیا اور لوگ انتظار کر رہے تھے کہ وہ نکل کر ان کے پاس آئے گا ، تو وہ نکل کر ان کے پاس نہیں گیا اور ان کے سامنے یہ عذر پیش کیا کہ وہ بیمار ہے ، ایسا چند مرتبہ ہوا ، تو ان لوگوں نے اسے پیغام بھیجا کہ یا تو تم نکل کر ہمارے پاس آ جاؤ ! ورنہ ہم اندر تمہارے پاس آ کر تمہیں قتل کر دیں گے ، کیونکہ جب سے یہ عربی شخص آیا ہے ہمیں تمہاری صورت حال بدلی ہوئی محسوس ہو رہی ہے ، تو اس پادری نے مجھ سے کہا: تم یہ مکتوب لو اور اسے لے کر اپنے آقا کے پاس جاؤ اور انہیں سلام کہنا اور انہیں یہ بتانا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہیں ، میں ان پر ایمان لاتا ہوں ، ان کی تصدیق کرتا ہوں ، ان کی پیروی کرتا ہوں ، لیکن یہ لوگ میری اس بات کی پیروی نہیں کریں گے ، تو تم جو صورت حال دیکھو گے ، اس کے بارے میں انہیں بتا دینا ، پھر وہ نکل کر ان لوگوں کے پاس گیا اور ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا ۔ پھر سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گئے ، اس وقت صنعاء میں موجود کسریٰ کے مقرر کردہ گورنر کے نمائندے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، آپ نے ان لوگوں کو کسریٰ کی طرف بھیجا تھا اور اس نے صنعاء کے گورنر کو خط لکھا تھا ، جس میں اس سے یہ کہا: تھا : کہ تم ان صاحب پر ق ابوپا لو ، جو تمہاری سرزمین پر مبعوث ہوئے ہیں ، اور مجھے اپنے دین کی طرف دعوت دے رہے ہیں کہ یا تو میں ان کا دین قبول کر لوں ، یا جزیہ دے دوں ، ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گا ، یا میں تمہیں یہ کروں گا ، تو صنعاء کے گورنر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پندرہ افراد بھیجے ، سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ نے ان افراد کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پایا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے آقا کا مکتوب پڑھا ، تو آپ نے پندرہ دن انہیں ایسے ہی رہنے دیا ، جب پندرہ دن گزر گئے تو ایک رات آپ ان کے پاس آئے ، جب آپ نے انہیں ملاحظہ کیا تو انہیں بلایا اور ارشاد فرمایا : تم اپنے آقا ( یعنی صنعاء کے گورنر ) کے پاس جاؤ ! اور اس سے یہ کہو کہ میرے پروردگار نے گزشتہ رات اس کے آقا ( یعنی کسریٰ ) کو قتل کر دیا ہے ، وہ لوگ گئے اور اس بارے میں اس گورنر کو بتایا ، تو اس نے کہا: تم لوگ اس رات کا حساب لگاؤ کہ وہ کون سی رات تھی ؟ اس نے یہ بھی کہا: کہ تم لوگ بتاؤ کہ تم نے ان کو کیسا پایا ؟ تو ان لوگوں نے بتایا : کہ ہم نے ان سے زیادہ ہیبت ناک ( یعنی بارعب ) کوئی بادشاہ نہیں دیکھا ، وہ لوگوں کے درمیان چلتے ہیں اور انہیں کسی سے کوئی خوف نہیں ہوتا ، وہ عام کی حالت میں رہتے ہیں ، ان کی حفاظت نہیں کی جاتی ، لیکن ان کے پاس آواز بھی بلند نہیں کی جاتی ، سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر یہ اطلاع آ گئی کہ اُس رات کسریٰ قتل ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابراہیم بن یحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13895
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2374)»