مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا كَانَ عِنْدَ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ أَمْرِ نُبُوَّتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: اہل کتاب کے پاس نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے حوالے سے کیا علم تھا ؟
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ : رَأَيْتُ التَّنُوخِيَّ رَسُولَ هِرَقْلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحِمْصَ وَكَانَ جَارًا لِي ، شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ بَلَغَ الْفَنَاءَ أَوْ قَرُبَ ، فَقُلْتُ : أَلَا تُخْبِرُنِي عَنْ رِسَالَةِ هِرَقْلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرِسَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى هِرَقْلَ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبُوكَ وَبَعَثَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ إِلَى هِرَقْلَ ، فَلَّمَا أَنْ جَاءَ كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا قِسِّيسِي الرُّومِ وَبِطَارِقَتَهَا ، ثُمَّ غَلَّقَ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمُ الدَّارَ ، قَالَ : نَزَلَ هَذَا الرَّجُلُ حَيْثُ رَأَيْتُمْ ، وَقَدْ أَرْسَلَ إِلَيَّ يَدْعُونِي إِلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ : يَدْعُونِي أَنْ أَتْبَعَهُ عَلَى دِينِهِ ، أَوْ أَنْ نُعْطِيَهُ مَا لَنَا عَلَى أَرْضِنَا وَالْأَرْضُ أَرْضُنَا ، أَوْ نُلْقِي إِلَيْهِ الْحَرْبَ ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُمْ فِيمَا تَقْرَءُونَ مِنَ الْكُتُبِ لَتَأْخُذَنَّ مَا تَحْتَ قَدَمِي ، فَهَلُمَّ نَتْبَعُهُ عَلَى دِينِهِ أَوْ نُعْطِيهِ مَا لَنَا عَلَى أَرْضِنَا ، فَنَخَرُوا نَخْرَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ حَتَّى خَرَجُوا مِنْ بَرَانِسِهِمْ ، وَقَالُوا : تَدْعُونَا إِلَى أَنْ نَذَرَ النَّصْرَانِيَّةَ أَوْ نَكُونَ عَبِيدًا لِأَعْرَابِيٍّ جَاءَ مِنَ الْحِجَازِ ؟ فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّهُمْ إِنْ خَرَجُوا [ مِنْ عِنْدِهِ ] أَفْسَدُوا عَلَيْهِ رِفَاقَهُمْ وَمُلْكَهُ ، قَالَ : إِنَّمَا قُلْتُ ذَلِكَ لَكُمْ لِأَعْلَمَ صَلَابَتَكُمْ عَلَى أَمْرِكُمْ ، ثُمَّ دَعَا رَجُلًا مِنْ عَرَبِ تُجِيبَ كَانَ عَلَى نَصَارَى الْعَرَبِ ، قَالَ : ادْعُ لِي رَجُلًا حَافِظًا لِلْحَدِيثِ عَرَبِيَّ اللِّسَانِ ، أَبْعَثُهُ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ بِجَوَابِ كِتَابِهِ ، فَجَاءَنِي ، فَدَفَعَ إِلَيَّ هِرَقْلُ كِتَابًا ، فَقَالَ : اذْهَبْ بِكِتَابِي إِلَى هَذَا الرَّجُلِ ، فَمَا صَغَيْتَ مِنْ حَدِيثِهِ فَاحْفَظْ مِنْهُ ثَلَاثَ خِصَالٍ : انْظُرْ هَلْ يَذْكُرُ صَحِيفَتَهُ الَّتِي كَتَبَ إِلَيَّ بِشَيْءٍ ؟ وَانْظُرْ إِذَا قَرَأَ كِتَابِي هَلْ يَذْكُرُ اللَّيْلَ ؟ وَانْظُرْ فِي ظَهْرِهِ هَلْ بِهِ شَيْءٌ يُرِيبُكَ ؟ فَانْطَلَقْتُ بِكِتَابِهِ حَتَّى جِئْتُ تَبُوكَ ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ أَصْحَابِهِ مُحْتَبِيًا عَلَى الْمَاءِ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ صَاحِبُكُمْ ؟ قِيلَ : هَا هُوَ ذَا ، فَأَقْبَلْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَنَاوَلْتُهُ كِتَابِي فَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ ثُمَّ قَالَ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " ، قُلْتُ : أَنَا أَحَدُ تَنُوخَ ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ فِي الْحَنِيفِيَّةِ مِلَّةِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ ؟ " ، قُلْتُ : إِنِّي رَسُولُ قَوْمٍ ، وَعَلَى دِينِ قَوْمٍ لَا أَرْجِعُ عَنْهُ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْهِمْ ، [ فَضَحَكَ وَ ] قَالَ : " ( إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ) يَا أَخَا تَنُوخَ ، إِنِّي كَتَبْتُ بِكِتَابٍ [ إِلَى كِسْرَى فَمَزَّقَهُ ، وَاللَّهُ مُمَزِّقُهُ ، وَمُمَزِّقُ مُلْكَهُ ، وَكَتَبْتُ ] إِلَى النَّجَاشِيِّ فَخَرَقَهَا ، وَاللَّهُ مُخْرِقُهُ وَمُخْرِقُ مُلْكِهِ ، وَكَتَبْتُ إِلَى صَاحِبِكُمْ بِصَحِيفَةٍ فَأَمْسَكَهَا ، فَلَنْ يَزَالَ النَّاسُ يَجِدُونَ مِنْهُ بَأْسًا مَا دَامَ فِي الْعَيْشِ خَيْرٌ " ، قُلْتُ : هَذِهِ إِحْدَى الثَّلَاثِ الَّتِي أَوْصَانِي بِهَا [ صَاحِبِي ] ، وَأَخَذْتُ سَهْمًا مِنْ جَعْبَتِي فَكَتَبْتُهَا فِي جِلْدِ سَيْفِي ، ثُمَّ أَنَّهُ نَاوَلَ الصَّحِيفَةَ رَجُلًا عَنْ يَسَارِهِ ، فَقُلْتُ : مَنْ صَاحِبُ كِتَابِكُمُ الَّذِي يَقْرَأُ لَكُمْ ؟ قَالُوا : مُعَاوِيَةُ ، فَإِذَا فِي كِتَابِ صَاحِبِي : يَدْعُونِي إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ، فَأَيْنَ النَّارُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ فَأَيْنَ اللَّيْلُ إِذَا جَاءَ النَّهَارُ ؟ " ، فَأَخَذْتُ سَهْمًا مِنْ جُعَيْبَتِي فَكَتَبْتُهُ فِي جِلْدِ سَيْفِي ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ كِتَابِي قَالَ : إِنَّ لَكَ حَقًّا وَأَنْتَ رَسُولٌ فَلَوْ وُجِدَتْ عِنْدَنَا جَائِزَةٌ جَوَّزْنَاكَ بِهَا ، إِنَّا سَفْرٌ مُرَمِّلُونَ ، قَالَ : فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْ طَائِفَةِ النَّاسِ : أَنَا أُجَوِّزُهُ ، فَفَتَحَ رَحْلَهُ فَإِذَا هُوَ يَأْتِي بِحُلَّةٍ صَفُورِيَّةٍ ، فَوَضَعَهَا فِي حِجْرِي ، فَقُلْتُ : مَنْ صَاحِبُ الْحُلَّةِ ؟ قِيلَ : عُثْمَانُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُنْزِلُ هَذَا الرَّجُلَ ؟ " ، فَقَالَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ : أَنَا ، فَقَامَ الْأَنْصَارِيُّ وَقُمْتُ مَعَهُ ، فَلَمَّا خَرَجْتُ مِنْ طَائِفَةِ الْمَجْلِسِ نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " [ تَعَالَ ] يَا أَخَا تَنُوخَ " ، فَأَقْبَلْتُ أَهْوِي [ إِلَيْهِ ] حَتَّى كُنْتُ قَائِمًا فِي مَجْلِسِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَحَلَّ حَبْوَتَهُ عَنْ ظَهْرِهِ فَقَالَ : " هَهُنَا ، امْضِ لِمَا أُمِرْتَ بِهِ " ، فَجُلْتُ فِي ظَهْرِهِ ، فَإِذَا أَنَا بِخَاتَمٍ فِي مَوْضِعِ غُضْرُوفِ الْكَتِفِ مِثْلَ الْحَجْمَةِ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ ، وَرِجَالُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ كَذَلِكَ . ¤سعید بن ابوراشد بیان کرتے ہیں : ” حمص “ میں میری ملاقات تنوخی سے ہوئی ، جو ہرقل کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قاصد تھے وہ صاحب میرے پڑوسی تھے اور ایک بوڑھے عمر رسیدہ شخص تھے ، میں نے کہا: کیا آپ مجھے ہرقل کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجے گئے مکتوب اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہرقل کی طرف بھیجے گئے مکتوب کے بارے میں نہیں بتائیں گے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک تشریف لائے ، آپ نے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو ہرقل کی طرف بھیجا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب اس کے پاس آیا ، تو اس نے روم کے پادریوں اور سرداروں کو بلایا اور اپنے لئے اور ان کے لئے دروازہ بند کروا دیا ۔ پھر اس نے کہا: یہ شخص آیا ہے ، جس کو تم دیکھ رہے ہو ( یا وہ صاحب مبعوث ہوئے ہیں ، جن کے بارے میں تمہیں پتہ چلا ہے ) انہوں نے مجھے پیغام بھیجا ہے ، اور تین چیزوں کی دعوت دی ہے ، انہوں نے اس بات کی دعوت دی ہے کہ میں اُن کے دین کے حوالے سے ان کی پیروی کر لوں ، یا پھر یہ ہے کہ ہم اپنے علاقے میں رہیں اور ان کو فدیہ ادا کرتے رہیں ، یا پھر یہ ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کر لیں ، اللہ کی قسم ! تم لوگ جو کتابیں پڑھتے رہے ہو ، اس کے حوالے سے تم لوگوں کو اس بات کی معرفت حاصل ہے کہ وہ میرے قدموں کے نیچے کی جگہ ( یعنی میری سلطنت ) پر بھی قبضہ کر لیں گے ، تو یا تو ہم ان کے دین کی پیروی کر لیتے ہیں ، یا پھر یہ ہے کہ ہم اپنے علاقے میں رہتے ہیں اور انہیں فدیہ دے دیتے ہیں ، تو وہ سب لوگ ایک دم غصے میں آ گئے ، انہوں نے اپنی ٹوپیاں اتار دیں اور بولے : کیا تم ہمیں اس بات کی دعوت دے رہے ہو کہ ہم عیسائیت کو چھوڑ دیں ؟ اور ہم حجاز سے آئے ہوئے ایک دیہاتی کے غلام بن جائیں ؟ جب ہرقل نے یہ محسوس کیا کہ وہ لوگ اُسے چھوڑ کے چلے جائیں گے اور اُن کا ساتھ خراب ہو جائے گا اور اس کی بادشاہی کو نقصان ہو گا ، تو اس نے کہا: میں نے یہ بات تم سے اس لئے کی تھی ، تاکہ تمہارے دین کے بارے میں تمہاری مضبوطی کو جان سکوں پھر اس نے عربوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بلایا ، جو عرب عیسائیوں کا حکمران تھا ، اس نے کہا: تم میرے پاس کسی ایسے شخص کو لے کر آؤ ! جو بات کو اچھی طرح یاد رکھتا ہو اور عربی زبان جانتا ہو ، تاکہ میں اس سے ان صاحب کی طرف اُن کے جوابی مکتوب کے ہمراہ بھیجوں ، تو اس شخص نے مجھے بلوایا ، ہرقل نے جوابی مکتوب میرے حوالے کیا ، اور بولا: میرا یہ مکتوب لے کر ان صاحب کے پاس جاؤ ، اور ان کی کوئی بات بھولنا نہیں ، خاص طور پر تین چیزیں اُن کے حوالے سے یاد رکھنا ، تم اس بات کا جائزہ لینا کہ انہوں نے جو مکتوب بھیجا تھا ، اُس حوالے سے وہ کسی چیز کا ذکر کرتے ہیں ؟ اور اس بات کا جائزہ لینا کہ جب وہ میرا مکتوب پڑھتے ہیں ، تو کیا ہوتا ہے ؟ کیا وہ رات کا ذکر کرتے ہیں ؟ اور تم ان کی پشت کا جائزہ لینا کہ کیا وہاں کوئی ایسی چیز ہے جو تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہو ؟ راوی کہتے ہیں : میں اُس کا مکتوب لے کر تبوک آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان ” احتباء “ کے طور پر بیٹھے ہوئے تھے ، وہ لوگ ایک پانی کے پاس موجود تھے ، میں نے دریافت کیا : تمہارے آقا کہاں ہیں ؟ تو بتایا گیا : کہ وہ یہ ہیں ، میں چلتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا ، میں نے اپنے پاس موجود مکتوب اُن کی طرف بڑھایا ، تو انہوں نے اسے اپنی گود میں رکھ لیا اور پھر دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ میں نے جواب دیا تنوخ سے تعلق رکھتا ہوں ، انہوں نے دریافت کیا : کیا تم صحیح دین کو قبول کرنے میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ جو تمہارے جدامجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے ، میں نے کہا: میں ایک قوم کا نمائندہ ہوں اور ایک قوم کے دین پر گامزن ہوں ، میں اس سے اس وقت تک رجوع نہیں کروں گا ، جب تک ان لوگوں کے پاس واپس نہیں چلا جاتا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے ، آپ نے یہ آیت پڑھی : ” بے شک تم جسے چاہتے ہو ، اسے ہدایت نہیں دیتے ، بلکہ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دیتا ہے ، جسے وہ چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے تنوخ سے تعلق رکھنے والے فرد ! میں نے کسریٰ کی طرف ایک مکتوب بھیجا ، اُس نے اسے پھاڑ دیا ، اللہ تعالیٰ اسے اور اس کی حکومت کو پھاڑ دے گا ، میں نے نجاشی کی طرف ایک مکتوب بھیجا ، اُس نے اسے پھاڑ دیا ، اللہ تعالیٰ اُسے اور اس کی حکومت کو پھاڑ دے گا ، میں نے تمہارے حکمران کی طرف ایک مکتوب بھیجا ، اُس نے اسے سنبھال کے رکھا ، تو وہ لوگ مسلسل ایسی حالت میں رہیں گے کہ انہیں کوئی پریشانی نہیں ہو گی ، جب تک وہ رہے گا ، یہ لوگ بہتر رہیں گے ، راوی کہتے ہیں : میں نے سوچا میرے حکمران نے مجھے جو تلقین کی تھی اُن میں سے ایک بات تو سامنے آ گئی ہے ، میں نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور اپنی تلوار کے چمڑے پر یہ بات نوٹ کر لی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مکتوب اپنے بائیں طرف موجود ایک شخص کی طرف بڑھایا ، میں نے دریافت کیا : یہ صاحب کون ہیں ؟ جو تمہارے لئے اس مکتوب کو پڑھیں گے ، تو لوگوں نے بتایا : یہ معاویہ ہیں ، میرے حکمران نے جو خط لکھا تھا ، اُس میں یہ بات مذکور تھی : آپ جنت کے بارے میں دعوت دیتے ہیں ، جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین جتنی ہے ، جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گی ہے ، تو پھر جہنم کہاں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سبحان اللہ ! جب دن آ جاتا ہے ، تو رات کہاں ہوتی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور اپنی تلوار کے چمڑے پر یہ بات نوٹ کر لی ، جب وہ صاحب میرے مکتوب کو پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو انہوں نے کہا: تمہارا ایک حق ہے کہ تم ایک قاصد ہو ، اگر تم ہمارے پاس اہتمام کے طور پر کوئی چیز پاتے ، تو ہم نے وہ تمہیں کھلانی تھی ، لیکن ہم خود سفر کر رہے ہیں ، راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں میں سے ایک شخص نے بلند آواز میں کہا: میں اسے کوئی تحفہ دیتا ہوں ، پھر اس نے اپنے پالان کو کھولا اور ایک صفوری حلہ لے کر آیا اور وہ میری گود میں رکھ دیا ، میں نے دریافت کیا : یہ حلہ دینے والے صاحب کون ہیں ؟ تو بتایا گیا : یہ صاحب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون شخص اس کی مہمان نوازی کرے گا ؟ تو ایک انصاری نوجوان بولا: میں کروں گا ، وہ انصاری اُٹھ کھڑا ہوا ، اُس کے ساتھ میں بھی اُٹھ گیا ، جب میں اس محفل سے اٹھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلند آواز میں مخاطب کر کے فرمایا : اے تنوخ سے تعلق رکھنے والے فرد ! آگے آؤ ! میں آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا ، یہاں تک کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس جگہ پر کھڑا ہو گیا ، جہاں پہلے بیٹھا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت پر بندھے ہوئے کپڑے کو کھولا اور فرمایا : اس حوالے سے جو تمہیں حکم دیا گیا تھا ، اُس کو بھی پورا کر لو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت سے کپڑا ہٹایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے کے مخصوص مقام پر مہر نبوت موجود تھی ، جو ایک بڑے بٹن کی مانند تھی ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ، اور عبداللہ بن أحمد کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔