حدیث نمبر: 13893
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : جَاءَ جُرْمُقَانِيٌّ إِلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَيْنَ صَاحِبُكُمْ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ؟ لَئِنْ سَأَلْتُهُ لَأَعْلَمَنَّ نَبِيٌّ هُوَ أَوْ غَيْرَ نَبِيٍّ ، قَالَ : فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ : اقْرَأْ عَلَيَّ أَوْ قُصَّ عَلَيَّ ، قَالَ : فَتَلَا عَلَيْهِ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ الْجُرْمُقَانِيُّ : هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوسَى . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ : مُنْكَرٌ ، قُلْتُ : مَا فِيهِ غَيْرُ أَيُّوبَ بْنِ جَابِرٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جرمقانی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے پاس آیا اور بولا: تمہارے وہ آقا کہاں ہیں ؟ جو یہ کہتے ہیں کہ وہ نبی ہیں ، میں ان سے سوال کروں گا اور پھر پتہ چل جائے گا کہ وہ نبی ہیں ، یا نبی نہیں ہیں ؟ راوی کہتے ہیں : پھر اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، تو جرمقانی نے کہا: آپ میرے سامنے تلاوت کیجئے ، یا میرے سامنے بیان کیجئے ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے سامنے اللہ کی کتاب کی کچھ آیات تلاوت کیں ، تو جرمقانی نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ وہی چیز ہے ، جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے تھے ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ روایت منکر ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس میں ایوب بن جابر کے علاوہ اور کوئی ( غیر مستند راوی ) نہیں ہے ، اور اُسے بھی امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13893
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منکر
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2054)»