مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا كَانَ عِنْدَ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ أَمْرِ نُبُوَّتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: اہل کتاب کے پاس نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے حوالے سے کیا علم تھا ؟
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ الْمُطْعِمِ قَالَ : كُنْتُ أَكْرَهُ أَذَى قُرَيْشٍ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا ظَنَنْتُ أَنَّهُمْ سَيَقْتُلُوهُ خَرَجْتُ حَتَّى لَحِقْتُ بِدَيْرٍ مِنَ الدِّيَارَاتِ ، فَذَهَبَ أَهْلُ الدَّيْرِ إِلَى رَأْسِهِمْ فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : أَقِيمُوا لَهُ حَقَّهُ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَأَوْهُ لَمْ يَذْهَبْ فَانْطَلَقُوا إِلَى صَاحِبِهِمْ فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ : قُولُوا لَهُ : قَدْ أَقَمْنَا لَكَ بِحَقِّكَ الَّذِي يَنْبَغِي لَكَ ، فَإِنْ كُنْتَ وَصِبًا فَقَدْ ذَهَبَ وَصَبُكَ ، وَإِنْ كُنْتَ وَاصِلًا فَقَدْ أَنَى لَكَ أَنْ تَذْهَبَ إِلَى مَنْ تَصِلُ ، وَإِنْ كُنْتَ تَاجِرًا فَقَدْ أَنَى لَكَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَى تِجَارَتِكَ ، فَقَالَ : مَا كُنْتُ وَاصِلًا وَلَا تَاجِرًا وَمَا أَنَا بِنَصِبٍ ، فَذَهَبُوا إِلَيْهِ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ : إِنَّ لَهُ لَشَأْنًا فَاسْأَلُوهُ مَا شَأْنُهُ ، قَالَ : فَأَتَوْهُ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ ، إِلَّا أَنَّ فِي قَرْيَةِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عَمِّي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ ، فَآذَاهُ قَوْمُهُ [ وَتَخَوَّفْتُ أَنْ يَقْتُلُوهُ ] فَخَرَجْتُ لِئَلَّا أَشْهَدَ ذَلِكَ ، فَذَهَبُوا إِلَى صَاحِبِهِمْ فَأَخْبَرُوهُ قَوْلِي ، قَالَ : هَلُمُّوا ، فَأَتَيْتُهُ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ قِصَصِي ، قَالَ : تَخَافُ أَنْ يَقْتُلُوهُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : وَتَعْرِفُ شِبْهَهُ لَوْ تَرَاهُ مُصَوَّرًا ؟ قُلْتُ : عَهْدِي بِهِ مُنْذُ قَرِيبٍ ، فَأَرَاهُ صُوَرًا مُغَطَّاةً يَكْشِفُ صُورَةً صُورَةً ، ثُمَّ يَقُولُ : أَتَعْرِفُ ؟ فَأَقُولُ : لَا ، حَتَّى كَشَفَ صُورَةً مُغَطَّاةً ، فَقُلْتُ : مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذِهِ الصُّورَةِ بِهِ كَأَنَّهُ طَوَّلَهُ وَجَسَّمَهُ وَبَعُدَ مَا بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ ، قَالَ : فَتَخَافُ أَنْ يَقْتُلُوهُ ؟ قُلْتُ : أَظُنُّهُمْ قَدْ فَرَغُوا مِنْهُ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَا يَقْتُلُوهُ وَلَيَقْتُلَنَّ مَنْ يُرِيدُ قَتْلَهُ ، وَإِنَّهُ لَنَبِيٌّ وَلِيُظْهِرَنَّهُ اللَّهُ ، وَلَكِنْ قَدْ وَجَبَ حَقُّكَ عَلَيْنَا ، فَامْكُثْ مَا بَدَا لَكَ وَادْعُ بِمَا شِئْتَ ، قَالَ : فَمَكَثْتُ [ حِينًا ] عِنْدَهُمْ ، ثُمَّ قُلْتُ : لَوْ أُطِعْهُمْ ، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ فَوَجَدْتُهُمْ قَدْ أَخْرَجُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ قَامَتْ آلُ قُرَيْشٍ فَقَالُوا : قَدْ تَبَيَّنَ لَنَا أَمْرُكَ فَعَرَفْنَا شَأْنَكَ ، فَهَلُمَّ أَمْوَالَ الصَّبِيَّةِ الَّتِي عِنْدَكَ الَّتِي اسْتَوْدَعَكَهَا أَبُوكَ ، فَقُلْتُ : مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ هَذَا حَتَّى تُفَرِّقُوا بَيْنَ رَأْسِي وَجَسَدِي ، وَلَكِنْ دَعُونِي أَذْهَبُ فَأَدْفَعُهَا إِلَيْهِمْ . فَقَالُوا : إِنَّ عَلَيْكَ عَهْدَ اللَّهِ وَمِيثَاقَهُ أَنْ لَا تَأْكُلَ مِنْ طَعَامِهِ ، قَالَ : فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَبَرُ ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لِي فِيمَا يَقُولُ : " إِنِّي لَأَرَاكَ جَائِعًا ، هَلُمُّوا طَعَامًا " ، قُلْتُ : إِنِّي لَا آكُلُ حَتَّى أُخْبِرَكَ ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ آكُلَ أَكَلْتُ . قَالَ : فَحَدَّثْتُهُ بِمَا أَخَذُوا عَلَيَّ ، قَالَ : " فَأَوْفِ بِعَهْدِ اللَّهِ وَمِيثَاقِهِ أَنْ لَا تَأْكُلَ مِنْ طَعَامِنَا وَلَا تَشْرَبَ مِنْ شَرَابِنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ فِي الْإِمَامِ : إِنَّهُ وُثِّقَ وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . ¤سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ قریش ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچایا کرتے تھے ، جب مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ عنقریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دیں گے ، تو میں نکلا اور ایک عبادت خانے میں چلا گیا ، اس عبادت خانے کے لوگ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے کہا: اس کے لئے اس کے حق کا بندوست کرو ، جو تین دن تک ہو ، جب تین دن گزر گئے اور انہوں نے سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نہیں گئے ، تو وہ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے کہا: تم اُس سے کہو کہ ہم نے تمہارا جو مناسب حق بنتا تھا ، اس کا بندوبست کر دیا تھا ، اگر تم پریشانی کا شکار تھے ، تو تمہاری پریشانی ختم ہو گئی ہے ، اگر تم نے کہیں پہنچنا تھا ، تو کیا وجہ ہے ؟ تم اپنی منزل کی طرف کیوں نہیں جاتے ؟ اگر تم تجارت کرنے والے فرد ہو ، تو تم اپنی تجارت کی طرف کب جاؤ گے ؟ تو سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہ تو میں کہیں جانا چاہ رہا تھا ، نہ ہی میں تاجر ہوں ، اور نہ ہی میں پریشانی کا شکار ہوں ، وہ لوگ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے کہا: اس کا کوئی اہم معاملہ ہو گا ، تم لوگ اس سے پوچھو کہ اس کا معاملہ کیا ہے ؟ وہ لوگ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، انہوں نے ان سے دریافت کیا ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آباد کی ہوئی بستی ہیں میرا ایک چچازاد ہے ، اس کا یہ کہنا ہے کہ وہ نبی ہے ، اس کی قوم کے لوگ اسے اذیت پہنچا رہے ہیں ، مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے ، تو میں وہاں سے نکل آیا ، تاکہ میں اس موقع پر موجود نہ ہوؤں ، تو وہ لوگ اپنے بڑے کے پاس گئے اور اسے میرے بیان کے بارے میں بتایا ، تو اس نے کہا: اس کو میرے پاس لے کر آؤ ، میں اس کے پاس گیا ، میں نے اسے پورا واقعہ سنایا ، تو اس نے دریافت کیا : کیا تمہیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا: اگر تم ان کی تصویر دیکھ لو ؟ تو کیا تم ان کی شباہت کو پہچان لو گے ؟ میں نے کہا: میں کچھ عرصہ پہلے اُن سے ملا تھا ، پھر اُس نے سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کو کچھ تصویریں دکھائیں ، جو ڈھانپی ہوئی تھیں ، وہ ایک ایک تصویر کے آگے سے پردہ ہٹاتا گیا ، پھر دریافت کرتا گیا : کیا تم اسے جانتے ہو ؟ میں جواب دیتا تھا : جی نہیں ! یہاں تک کہ اس نے ایک ڈھانپی ہوئی تصویر کے آگے سے پردہ ہٹایا ، تو میں نے کہا: میں نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی ، جو اس نبی کے ساتھ ، اس تصویر سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو ، ان کی لمبائی ، ان کی جسامت ، کندھوں کی چوڑائی بالکل ویسی ہی ہے ، اس نے دریافت کیا : کیا تمہیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ انہیں شہید کریں گے ؟ میں نے کہا: ان لوگوں کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ وہ اس حوالے سے فارغ ہو چکے ہوں گے ، اس نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ لوگ اُس نبی کو شہید نہیں کر سکیں گے ، البتہ وہ نبی جس کو چاہیں گے اسے قتل کر دیں گے ، کیونکہ وہ نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں ضرور غالب کرے گا ، لیکن اب تمہارا حق ہم پر واجب ہو چکا ہے ، تمہیں جتنا عرصہ مناسب لگتا ہے ، یہاں ٹھہرے رہو اور جو چاہو طلب کر لو ۔ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اُن کے ہاں ایک عرصے تک ٹھہرا رہا ، پھر میں نے کہا: اب میں واپس چلتا ہوں ، میں مکہ آیا وہاں میں نے لوگوں کو پایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کی طرف نکلنے پر مجبور کر دیا تھا ، جب میں آیا تو قریش اُٹھ کر میرے پاس آئے ، انہوں نے کہا: تمہارا معاملہ ہمارے سامنے واضح ہو گیا ہے ، ہم نے تمہاری صورت حال کو جان لیا ہے ، تو تم بے دین افراد کے وہ اموال ہمیں دے دو ، جو تمہارے پاس موجود ہیں ، جو تمہارے والد نے تمہارے پاس رکھوائے تھے ، میں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا ، خواہ تم میرے سر اور جسم کو الگ کر دو ، البتہ تم لوگ مجھے موقع دو ، میں جاتا ہوں اور ان لوگوں کے اموال ان کے حوالے کر دیتا ہوں ، تو مشرکین نے کہا: تم پر اللہ کے نام کا عہد اور میثاق لازم ہے کہ تم نے اُن کے کھانے میں سے کچھ نہیں کھانا ، سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں اطلاع مل چکی تھی ، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے باتیں کیں ، اُن میں یہ بات بھی ارشاد فرمائی کہ میرے خیال میں تم بھوکے ہو ( آپ نے لوگوں سے فرمایا : ) تم لوگ کھانا لے کر آؤ ! میں نے کہا: میں کھانا نہیں کھاؤں گا ، جب تک آپ کو بتاتا نہیں ہوں ، پھر آپ جو مناسب سمجھیں ، آپ کہیں گے تو میں کھا لوں گا ، پھر سیدنا جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ نے وہ بات بتائی ، جو اُن لوگوں نے ان سے عہد لیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ کے نام کے عہد اور میثاق کو پورا کرو ، اور ہمارے کھانے میں سے نہ کھاؤ ، اور ہمارے مشروب میں سے نہ پیو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن قیق العید نے کتاب ” الامام “ میں یہ بات بیان کی ہے : اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور یہ حدیث حسن ہے ۔