مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا كَانَ عِنْدَ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ أَمْرِ نُبُوَّتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: اہل کتاب کے پاس نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے حوالے سے کیا علم تھا ؟
وَعَنْ خَلِيفَةَ بْنِ عَبْدَةَ بْنِ جَرْوَلٍ قَالَ : سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَدِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ سَوَاةَ بْنِ جُشَمَ : كَيْفَ سَمَّاكَ أَبُوكَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مُحَمَّدًا ؟ قَالَ : أَمَا إِنِّي سَأَلْتُ أَبِي عَمَّا سَأَلْتَنِي عَنْهُ فَقَالَ : خَرَجْتُ رَابِعَ أَرْبَعَةٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، أَنَا أَحَدُهُمْ ، وَسُفْيَانُ بْنُ مُجَاشِعِ بْنِ دَارِمٍ ، وَأُسَامَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُنْدُبِ بْنِ الْعَنْبَرِ ، وَيَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ كَامِنِ بْنِ حُرْقُوصِ بْنِ مَازِنٍ ، نُرِيدُ ابْنَ جَفْنَةَ الْغَسَّانِيَّ بِالشَّامِ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ نَزَلْنَا عَلَى غَدِيرٍ عَلَيْهَا شَجَرَاتٍ لِدَيْرَانِيٍّ صَاحِبِ صَوْمَعَةٍ فَقُلْنَا : لَوِ اغْتَسَلْنَا مِنْ هَذَا الْمَاءِ ، وَادَّهَنَّا وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا ، ثُمَّ أَتَيْنَا صَاحِبَنَا ، فَأَشْرَفَ عَلَيْنَا الدَّيْرَانِيُّ فَقَالَ : إِنَّ هَذِهِ لُغَةٌ مَا هِيَ لُغَةُ أَهْلِ الْبَلَدِ ، فَقُلْنَا : نَعَمْ ، نَحْنُ قَوْمٌ مِنْ مُضَرَ ، قَالَ : مِنْ أَيِّ مُضَرَ ؟ قُلْنَا : مِنْ خِنْدِفٍ ، قَالَ : أَمَا إِنَّهُ سَيُبْعَثُ مِنْكُمْ وَشِيكًا نَبِيٌّ فَسَارِعُوا وَجِدُّوا بِحَظِّكُمْ مِنْهُ تَرْشُدُوا ، فَإِنَّهُ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ، فَقُلْنَا : مَا اسْمُهُ ؟ قَالَ : مُحَمَّدٌ ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْ عِنْدِ ابْنِ جَفْنَةَ وُلِدَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا ، قَالَ الْعَلَاءُ : قَالَ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَدْرِي [ مَنْ أَوَّلُ ] مَنْ عَلِمَ بِكَ مِنَ الْعَرَبِ قَبْلَ أَنْ تُبْعَثَ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : بَنُو تَمِيمٍ ، وَقَصَّ عَلَيْهِ هَذِهِ الْقِصَّةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤خلیفہ بن عبدہ بن جرول بیان کرتے ہیں : میں نے محمد بن عدی بن ربیعہ سے دریافت کیا : آپ کے والد نے زمانہ جاہلیت میں آپ کا نام ” محمد “ کیوں رکھا تھا ؟ تو انہوں نے بتایا : تم نے جس چیز کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا ہے ، میں نے بھی اس کے بارے میں اپنے والد سے دریافت کیا تھا ، تو انہوں نے بتایا : مجھ سمیت بنو تمیم سے تعلق رکھنے والے چار افراد روانہ ہوئے ، میں اُن میں سے ایک تھا ، ایک سفیان بن مجاشع بن دارم تھا ، ایک اسامہ بن مالک تھا ، اور ایک یزید بن ربیعہ تھا ، ہم لوگ شام میں موجود ابن جفنہ غسانی کی طرف جا رہے تھے ، جب ہم شام آئے تو ہم نے ایک کنویں کے پاس پڑاؤ کیا ، جس کے آس پاس درخت تھے اور پاس ہی ایک عبادت خانہ تھا ، ہم نے کہا: اگر ہم اس پانی کے ذریعے غسل کر لیں تیل لگائیں اور عمدہ لباس پہنیں ، تو پھر ہم اپنے متعلقہ فرد کے پاس جائیں گے ، اسی دوران اس عبادت خانے کے شخص نے ہمیں جھانک کر دیکھا اور بولا: یہ زبان تو اس علاقے کی زبان نہیں ہے ، ہم نے کہا: جی ہاں ! ہم مضر قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ، اس نے دریافت کیا : مضر میں سے کس سے تعلق ہے ؟ ہم نے کہا: خندف سے ہے ، اس نے کہا: تم میں ایک نبی کو مبعوث کیا جائے گا ، تو تم لوگ جلدی کرنا اور ان سے اپنا حصہ حاصل کر لینا ، تم لوگ ہدایت پا جاؤ گے ، کیونکہ وہ انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہوں گے ، ہم نے کہا: اُن کا نام کیا ہو گا ؟ اس نے جواب دیا : سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جب ہم ابن جفنہ کے پاس سے واپس آئے ، تو ہم میں سے ہر ایک کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ، تو ہر ایک نے اپنے بیٹے کا نام ” محمد “ رکھا ۔ علاء بیان کرتے ہیں : قیس بن عاصم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں ، عربوں میں سے آپ کے بارے میں سب سے پہلے کسے علم تھا ؟ جو علم آپ کی بعثت سے بھی پہلے حاصل ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی نہیں ! اس نے کہا: بنو تمیم کو تھا ، پھر انہوں نے پورا واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔