حدیث نمبر: 13887
وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ أُمَيَّةَ بْنَ أَبِي الصَّلْتِ كَانَ مَعَهُ بِغَزَّةَ - أَوْ قَالَ : بِإِيلِيَاءَ - فَلَمَّا قَفَلْنَا قَالَ : يَا أَبَا سُفْيَانَ أَيُّهُنَّ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ؟ قُلْتُ : إِنَّهُنَّ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : كَرِيمُ الطَّرَفَيْنِ وَيَجْتَنِبُ الْمَظَالِمَ وَالْمَحَارِمَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : وَشَرِيفٌ مُسِنٌّ ، قَالَ : السِّنُّ وَالشَّرَفُ أَزْرَيَا بِهِ ، فَقُلْتُ لَهُ : كَذَبْتَ ، مَا ازْدَادَ سِنًّا إِلَّا ازْدَادَ شَرَفًا ، قَالَ : يَا أَبَا سُفْيَانَ ، إِنَّهَا لَكَلِمَةٌ مَا سَمِعْتُهَا مِنْ أَحَدٍ يَقُولُهَا لِي مُنْذُ تَنَصَّرْتُ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ حَتَّى أُخْبِرَكَ ، قُلْتُ : هَاتِ ، قَالَ : إِنِّي كُنْتُ أَجِدُ فِي كُتُبِي نَبِيًّا يُبْعَثُ مِنْ حَرَمِنَا ، فَكُنْتُ أَظُنُّ ، بَلْ كُنْتُ لَا أَشُكُّ أَنِّي هُوَ ، فَلَمَّا دَارَسْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ إِذَا هُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، فَنَظَرْتُ فِي بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَصْلُحُ لِهَذَا الْأَمْرِ غَيْرَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، فَلَمَّا أَخْبَرَنِي بِنَسَبِهِ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ حِينَ جَاوَزَ الْأَرْبَعِينَ وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ : فَضَرَبَ الدَّهْرُ ضَرَبَاتِهِ وَأُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجْتُ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ أُرِيدُ الْيَمَنَ فِي تِجَارَةٍ ، فَمَرَرْتُ بِأُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ فَقُلْتُ لَهُ كَالْمُسْتَهْزِئِ بِهِ : يَا أُمَيَّةُ ، قَدْ خَرَجَ النَّبِيُّ الَّذِي كُنْتَ تَنْتَظِرُ ، قَالَ : أَمَا إِنَّهُ حَقٌّ فَاتَّبِعْهُ ، قُلْتُ : مَا يَمْنَعُكَ مِنَ اتِّبَاعِهِ ؟ قَالَ : الِاسْتِحْيَاءُ مِنْ نَسَيَاتِ ثَقِيفٍ ، إِنِّي كُنْتُ أُحَدِّثُهُمْ أَنِّي هُوَ ، ثُمَّ يَرَوْنِي تَابِعًا لِغُلَامٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، ثُمَّ قَالَ أُمَيَّةُ : كَأَنِّي بِكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ إِنْ خَالَفْتَهُ قَدْ رُبِطْتَ كَمَا يُرْبَطُ الْجَدْيُ ، حَتَّى يُؤْتَى بِكَ إِلَيْهِ فَيَحْكُمَ فِيكَ مَا يُرِيدُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اُمیہ بن ابوصلت ان کے ساتھ ” غزہ “ میں یا ” ایلیاء “ میں موجود تھا ، جب ہم واپس آ رہے تھے تو اس نے کہا: اے ابوسفیان ! کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ ہم اپنے ساتھیوں سے ذرا آگے بڑھ جائیں اور آپس میں بات چیت کریں ، میں نے کہا: ٹھیک ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے ایسا ہی کیا ، اس نے کہا: اے ابوسفیان ! ان میں سے کون عتبہ بن ربیعہ کے خاندان میں سے ہے ؟ میں نے کہا: یہ ( سب ) لوگ عتبہ کے خاندان ہی سے تعلق رکھتے ہیں ، اس نے کہا: وہ ماں باپ کی طرف سے معزز ہے ، اور ظلم کرنے اور حرام کاموں کے ارتکاب سے اجتناب کرتا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا: وہ معزز عمر رسیدہ فرد ہے ، اس نے یہ کہا: عمر رسیدگی اور شرف اس کو حقیر کرتے ہیں ، میں نے اس سے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو ، جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے ، آدمی کی عزت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ، اس نے کہا: اے ابوسفیان ! یہ ایک بات ہے ، جو میں نے کسی سے سنی نہیں ہے ، جب سے میں نے عیسائیت اختیار کی ہے ، میں نے کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا ، تم میرے بارے میں جلدبازی نہ کرو ، میں تمہیں بتاتا ہوں ، اس نے کہا: میں نے اپنی کتابوں میں ایک نبی کا ذکر پایا ہے ، جو ہمارے حرم میں مبعوث ہو گا ، تو میرا یہ گمان تھا ، بلکہ مجھے اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ نبی ” میں “ ہوؤں گا ، لیکن جب میں نے اہل علم سے مذاکرات کیے ، تو پتہ چلا کہ اس کا تعلق بنو عبدمناف سے ہو گا ، میں نے بنو عبدمناف کا جائزہ لیا ، تو مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملا ، جو اس کام کے لئے عتبہ بن ربیعہ سے زیادہ موزوں ہو ، لیکن جب تم نے مجھے اس کے نسب کے بارے میں بتایا تو مجھے پتہ چل گیا کہ وہ بھی نہیں ہے ، کیونکہ اس کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو چکی ہے ، اور اس پر وحی نازل نہیں ہوئی ، ابوسفیان کہتے ہیں : پھر ایک زمانہ گزر گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی نازل ہوئی ، میں قریش کے کچھ سواروں کے ساتھ تجارت کے سلسلے میں یمن جانے کے لئے نکلا ، میرا گزر امیہ بن صلت کے پاس سے ہوا ، میں نے اس کا مذاق اڑانے کے طور پر اس سے کہا: اے امیہ ! وہ نبی مبعوث ہو گئے ہیں ، جن کا تم انتظار کر رہے تھے ، اس نے کہا: وہ حق ہیں ، تم ان کی پیروی کرو ، میں نے کہا: تم اُن کی پیروی کیوں نہیں کرتے ؟ اس نے کہا: مجھے ثقیف قبیلے کی عورتوں سے حیاء آتی ہے ، وہ ایک زمانے سے مجھے پیشوا کے طور پر دیکھتی آ رہی ہیں ، اور پھر وہ مجھے دیکھیں گی کہ میں بنو عبدمناف سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کا پیروکار بن گیا ہوں ، پھر اُمیہ نے کہا: اے ابوسفیان ! تمہارے بارے میں یوں لگتا ہے کہ جیسے تم ان کی مخالفت کرو گے اور پھر تمہیں یوں باندھ دیا جائے گا ، جس طرح جدی کو باندھا جاتا ہے ، یہاں تک کہ تمہیں ان کے پاس لے جایا جائے گا ، اور تمہارے بارے میں وہ جو چاہیں گے فیصلہ دیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13887
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7262)»