مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا كَانَ عِنْدَ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ أَمْرِ نُبُوَّتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: اہل کتاب کے پاس نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے حوالے سے کیا علم تھا ؟
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِإِدْخَالِ رَجُلٍ الْجَنَّةَ ، فَدَخَلَ الْكَنِيسَةَ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودٍ ، وَإِذَا بِيَهُودِيٍّ يَقْرَأُ عَلَيْهِمُ التَّوْرَاةَ ، فَلَمَّا أَتَوْا عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْسَكُوا ، وَفِي نَاحِيَتِهَا رَجُلٌ مَرِيضٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكُمْ أَمْسَكْتُمْ ؟ " ، قَالَ الْمَرِيضُ : إِنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى صِفَةِ نَبِيٍّ فَأَمْسَكُوا ، ثُمَّ جَاءَ الْيَهُودِيُّ يَحْبُو حَتَّى أَخَذَ التَّوْرَاةَ ، فَقَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُمَّتِهِ ، فَقَالَ : هَذِهِ صِفَتُكَ وَصِفَةُ أُمَّتِكَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ مَاتَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لُوا أَخَاكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھیجا ، تاکہ ایک شخص کو جنت میں داخل کروا دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے عبادت خانے میں داخل ہوئے ، وہاں یہودی لوگ موجود تھے اور ایک یہودی شخص ان کے سامنے تورات پڑھ رہا تھا ، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ کے مقام پر پہنچے ، تو اُس کو پڑھنے سے رک گئے ، اس عبادت خانے کے کونے میں ایک بیمار شخص موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا ہوا ؟ تم رک کیوں گئے ؟ بیمار نے کہا: یہ لوگ اب نبی کی صفت کے مقام پر پہنچے ہیں ، اس لئے رک گئے ہیں ، پھر وہ ( بیمار ) یہودی شخص آیا ، وہ گھٹنوں کے بل جھکا ، اس نے تورات لی اسے پڑھا ، یہاں تک کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ اور آپ کی امت کی صفت کو پڑھا اور بولا: یہ صفت آپ کی ہے ، اور آپ کی امت کی ہے ، تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر اس شخص کا انتقال ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے بھائی کی دیکھ بھال کرو ( یعنی اس کے کفن دفن کا انتظام کرو ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔