مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا كَانَ عِنْدَ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ أَمْرِ نُبُوَّتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: اہل کتاب کے پاس نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے حوالے سے کیا علم تھا ؟
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ : خَرَجْتُ إِلَى الْيَمَنِ فِي إِحْدَى رِحْلَتَيِ الْإِيلَافِ ، فَنَزَلْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ فَرَآنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الدُّيِّوُرِ فَنَسَّبَنِي فَانْتَسَبْتُ لَهُ ، فَقَالَ : أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى بَعْضِكِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، مَا لَمْ يَكُنْ عَوْرَةً ، فَفَتَحَ إِحْدَى مَنْخَرَيَّ فَنَظَرَ ، ثُمَّ نَظَرَ فِي الْآخَرِ ، قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ فِي إِحْدَى يَدَيْكَ مُلْكًا ، وَفِي الْأُخْرَى نُبُوَّةً ، وَإِنَّا لِنَجِدُ ذَلِكَ فِي بَنِي زُهْرَةَ فَكَيْفَ ذَلِكَ ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : هَلْ لَكَ مِنْ سَاعَةٍ ؟ قُلْتُ : وَمَا السَّاعَةُ ؟ قَالَ : زَوْجَةٌ ، قُلْتُ : أَمَّا الْيَوْمُ فَلَا ، قَالَ : فَإِذَا رَجَعْتَ فَتَزَوَّجْ فِي بَنِي زُهْرَةَ ، فَرَجَعَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ فَتَزَوَّجَ هَالَةَ بِنْتَ وُهَيْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ فَوَلَدَتْ لَهُ حَمْزَةَ ، وَزَوْجَ ابْنِهِ آمِنَةَ بِنْتِ وَهْبٍ ، فَقَالَتْ قُرَيْشٌ : نَبَحَ عَبْدُ اللَّهِ عَلَى أَبِيهِ ، فَوَلَدَتْ لَهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ حَمْزَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَخَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الرَّضَاعَةِ ، أَرْضَعَتْهُمَا ثُوَيِّبَةُ مَوْلَاةُ أَبِي لَهَبٍ وَكَانَ أَسَنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جناب عبدالمطلب نے یہ بات بیان کی ہے : میں اپنے سالانہ دو سفروں میں سے ایک سفر میں یمن کی طرف گیا ، میں ایک یہودی شخص کے ہاں ٹھہرا ، وہاں کے ایک عبادت خانے کے ایک شخص نے مجھے دیکھا ، اُس نے مجھ سے میرا نسب دریافت کیا ، میں نے اس کے سامنے اپنا نسب بیان کیا ، اس نے کہا: کیا تم مجھے اس بات کی اجازت دو گے کہ میں تمہارے جسم کا جائزہ لوں ؟ میں نے کہا: ٹھیک ہے ، جبکہ شرمگاہ کے علاوہ ہو ، اس نے میرے نتھنوں میں سے ایک کھول کے دیکھا ، پھر دوسرے میں دیکھا اور پھر بولا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تمہارے ایک ہاتھ میں بادشاہی ہے ، اور دوسرے میں نبوت ہے ، لیکن ہم تو یہ چیز پاتے ہیں کہ اس کا تعلق بنو زہرہ سے بھی ہو گا ، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ تو میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم ، تو اس نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس ساتھ ہے ؟ میں نے کہا: ساتھ سے مراد کیا ہے ؟ اس نے کہا: بیوی ، میں نے کہا: اب تو کوئی نہیں ہے ، اس نے کہا: جب تم واپس جاؤ گے ، تو تم بنو زہرہ میں شادی کر لینا ، جناب عبدالمطلب واپس آئے ، تو انہوں نے ہالہ بنت وہیب بن عبدمناف بن زہرہ سے شادی کی ، تو ان کے ہاں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ، انہوں نے اپنے صاحبزادے ( سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ) کی شادی سیدہ آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی ، تو قریش نے کہا: عبداللہ نے اپنے والد کا مقابلہ کیا ہے ، سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جنم دیا ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضائی بھائی بھی تھے ، کیونکہ ابولہب کی کنیز ثویبہ نے اُن دونوں کو دودھ پلایا تھا ، اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی عمر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے ، اور وہ متروک ہے ۔