حدیث نمبر: 13884
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَيْضًا : أَنَّ يَهُودِيًّا كَانَ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَقَالَ لَنَا وَنَحْنُ فِي الْمَجْلِسِ : قَدْ أَطَلَّ هَذَا النَّبِيُّ الْقُرَشِيُّ الْحَرَمِيُّ ، ثُمَّ الْتَفَتَ فِي الْمَجْلِسِ ، فَقَالَ : إِنْ يُدْرِكْهُ أَحَدٌ يُدْرِكْهُ هَذَا الْفَتَى ، وَأَشَارَ إِلَيَّ ، فَقَضَى اللَّهُ أَنْ جَاءَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ ، فَقُلْتُ : هَذَا النَّبِيُّ قَدْ جَاءَ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهُ لَإِنَّهُ ، فَقُلْتُ : مَا لَكَ عَنِ الْإِسْلَامِ ؟ فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَدَعُ الْيَهُودِيَّةَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ . ¤
محمد محی الدین

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہی سے منقول ہے : ” بنو عبداشہل میں ایک یہودی تھا ، ہم ایک محفل میں موجود تھے ، اس نے ہم سے کہا: قریش سے تعلق رکھنے والے اور حرم سے تعلق رکھنے والے ، اُس نبی کا زمانہ آ گیا ہے ، پھر وہ اس محفل کی طرف متوجہ ہوا اور بولا: اگر کسی نے ان کا زمانہ پا لیا ، تو یہ نوجوان اُن کا زمانہ پا لے گا ، اس نے میری طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی ، پھر اللہ کے حکم کے تحت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے ، تو میں نے کہا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ، تو اُس یہودی نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ وہی ہیں ، میں نے کہا: پھر تم اسلام کیوں نہیں قبول کر لیتے ؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! میں یہودیت نہیں چھوڑوں گا ۔ “ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13884
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن