مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا كَانَ عِنْدَ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ أَمْرِ نُبُوَّتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: اہل کتاب کے پاس نبی اکرم ﷺ کی نبوت کے حوالے سے کیا علم تھا ؟
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ - قَالَ : كَانَ لَنَا جَارٌ مِنَ الْيَهُودِ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، [ قَالَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَوْمًا قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَسِيرٍ ، فَوَقَفَ عَلَى مَجْلِسِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ ] . ¤ قَالَ سَلَمَةُ : وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَحْدَثُ مَنْ فِيهِ سِنًّا ، عَلَيَّ بُرْدَةٌ مُضْطَجِعٌ فِيهَا بِفِنَاءِ أَهْلِي ، فَذَكَرَ الْبَعْثَ وَالْقِيَامَةَ وَالْحِسَابَ وَالْمِيزَانَ وَالْجَنَّةَ وَالنَّارَ ، فَقَالَ ذَلِكَ لِقَوْمٍ أَهْلِ أَوْثَانِ شِرْكٍ لَا يَرَوْنَ أَنَّ بَعْثًا كَائِنًا بَعْدَ الْمَوْتِ ، فَقَالُوا لَهُ : وَيْحَكَ يَا فُلَانُ ، تَرَى هَذَا كَائِنًا أَنَّ النَّاسَ يُبْعَثُونَ بَعْدَ مَوْتِهِمْ إِلَى دَارٍ فِيهَا جَنَّةٌ وَنَارٌ يُجْزَوْنَ فِيهَا بِأَعْمَالِهِمْ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ ، وُدَّ أَنَّ لَهُ بِحَظِّهِ مِنْ تِلْكَ النَّارِ أَعْظَمَ تَنُّورٍ فِي الدَّارِ يَحْمُونَهُ ثُمَّ يُدْخِلُونَهُ إِيَّاهُ فَيُطَيِّنُونَهُ عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ يَنْجُو مِنْ تِلْكَ النَّارِ غَدًا ، قَالَ : وَيْحَكَ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : نَبِيٌّ يُبْعَثُ مِنْ نَحْوِ هَذِهِ الْبِلَادِ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ مَكَّةَ وَالْيَمَنِ ، قَالُوا : وَمَتَى نَرَاهُ ؟ فَنَظَرَ إِلَيَّ وَأَنَا مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا ، فَقَالَ : إِنْ يَسْتَنْفِدْ هَذَا الْغُلَامُ عُمْرَهُ يُدْرِكْهُ ، قَالَ سَلَمَةُ : فَوَاللَّهِ مَا ذَهَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ حَيٌّ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، فَآمَنَّا بِهِ وَكَفَرَ بِهِ بَغْيًا وَحَسَدًا ، فَقُلْنَا لَهُ : وَيْلَكَ يَا فُلَانُ ، أَلَيْسَ قُلْتَ لَنَا فِيهِ مَا قُلْتَ ؟ قَالَ : بَلَى وَلَيْسَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ .سیدنا سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہ ، جو غزوہ بدر میں شرکت کا شرف رکھتے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : بنو عبداشہل میں ہمارا ایک یہودی پڑوسی تھا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ایک مرتبہ وہ نکل کر ہمارے پاس آیا اور عبداشہل کے لوگوں کی محفل کے پاس آ کر ٹھہر گیا ، سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ان دنوں ان سب میں سب سے زیادہ کمسن تھا ، میرے جسم پر ایک چادر تھی ، جسے لپیٹ کر میں اپنے گھر کے صحن میں لیٹا ہوا تھا ، اس یہودی نے دوبارہ زندہ کیسے جانے ، قیامت ، حساب ، میزان ، جنت اور جہنم کا ذکر کیا ، تو بت پرستوں اور مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے ، جو اس بات کے قائل نہیں تھے کہ مرنے کے بعد دوبارہ بھی زندہ کیا جا سکتا ہے ، تو انہوں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ، اے فلاں شخص ! تم یہ سمجھتے ہو کہ ایسا ہو گا ؟ اور لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد ایک گھر میں منتقل کیا جائے ، جس میں جنت ہو گی ، یا جہنم ہو گی ، اور لوگوں کو اس وقت ان کے اعمال کے حساب سے بدلہ دیا جائے گا ؟ اس یہودی نے کہا: جی ہاں ! جس ذات کے نام کا حلف اٹھایا جاتا ہے ، اس وقت آدمی یہ خواہش کرے گا کہ جہنم کی آگ کے بدلے میں اُسے وہ سب سے بڑا تنور دے دیا جائے ، جسے وہ لوگ سلگایا کرتے تھے ، پھر وہ لوگ اس میں داخل ہو جائیں ، اور جب وہ اس میں داخل ہو جائیں ، تو اُسی ( تنور ) میں رچ بس جائیں ، لیکن اس آگ سے نجات پا لیں ، راوی کہتے ہیں : کسی شخص نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ! اس کی نشانی کیا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا : ایک نبی ہیں ، جو ان علاقوں میں مبعوث ہوں گے ، اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے مکہ اور یمن کی طرف اشارہ کیا ، لوگوں نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے ؟ وہ کب ظاہر ہوں گے ؟ اس نے میری طرف دیکھا ، میں اُن لوگوں میں سب سے زیادہ کمسن تھا ، اس نے کہا: اگر یہ لڑکا اپنی طبعی عمر تک زندہ رہا ، تو یہ اُن کا زمانہ پا لے گا ۔ سیدنا مسلمہ رضی اللہ عنہ ہو کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! رات اور دن گزرتے رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مبعوث کر دیا اور اب وہ ہمارے درمیان زندہ ( موجود ) تھے ، ہم آپ پر ایمان لائے اور اس یہودی نے سرکشی اور حسد کی وجہ سے آپ کا انکار کیا ، ہم نے اس سے کہا: اے فلاں ! تمہارا ستیاناس ہو ، کیا تم نے ہمیں اس بارے میں ایک بات نہیں کی تھی ؟ اس نے کہا: جی ہاں ! لیکن وہ یہ نہیں ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔