مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب علامات النبوة— نبوت کی علامات کے بارے میں روایات
بَابُ عِصْمَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِمَّنْ أَرَادَ قَتْلَهُ . باب: نبی اکرم ﷺ کا اس شخص سے محفوظ رہنا جو آپ کے قتل کا ارادہ کرے
وَعَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : كُنْتُ يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلَ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ : إِنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ إِنْ رَأَيْتُ مُحَمَّدًا سَاجِدًا أَنْ أَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ . فَخَرَجْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِ أَبِي جَهْلٍ ، فَخَرَجَ غَضْبَانَ حَتَّى جَاءَ الْمَسْجِدَ فَعَجَّلَ أَنْ يَدْخُلَ مِنَ الْبَابِ ، فَاقْتَحَمَ الْحَائِطَ ، فَقُلْتُ : هَذَا يَوْمُ شَرٍّ . فَاتَّزَرْتُ ثُمَّ تَبِعْتُهُ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ : ( اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ) فَلَمَّا بَلَغَ شَأْنَ أَبِي جَهْلٍ ( إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى ) قَالَ إِنْسَانٌ لِأَبِي جَهْلٍ : يَا أَبَا الْحَكَمِ هَذَا مُحَمَّدٌ ، فَقَالَ : أَلَا تَرَوْنَ مَا أَرَى ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ سُدَّ أُفُقُ السَّمَاءِ عَلَيَّ ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخِرَ السُّورَةِ سَجَدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں مسجد میں موجود تھا ، اسی دوران ابوجہل آیا اور بولا: اللہ تعالیٰ کے نام پر میرے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اگر میں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے کی حالت میں دیکھا ، تو میں ان کی گردن پر پاؤں رکھ دوں گا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں وہاں سے اٹھا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو ابوجہل کی بات کے بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کے عالم میں نکلے ، آپ مسجد تشریف لے گئے ، آپ جلدی سے دروازے سے داخل ہونے لگے ، اسی دوران آپ دیوار سے ٹکرا گئے ، میں نے کہا: یہ برا دن ہے ، میں نے بھی لباس سنبھالا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سورت پڑھتے ہوئے اندر داخل ہوئے : ” اپنے پروردگار کے اسم کے ہمراہ پڑھو ، جس نے پیدا کیا ہے ، جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے ۔ “ جب آپ اس مقام پر پہنچے ، جو ابوجہل کے معاملے کے متعلق تھا : ” بیشک انسان سرکشی کرتا ہے ، اس وجہ سے کہ وہ خود کو بے نیاز سمجھتا ہے “ تو کسی شخص نے ابوجہل سے کہا: اے ابوالحکم ! یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود ہیں ، تو اس نے کہا: کیا تم وہ نہیں دیکھ رہے ہو ؟ جو میں دیکھ رہا ہوں ، اللہ کی قسم ! میرے سامنے آسمان کے افق کو بھر دیا گیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورت کے آخری حصے تک پہنچے تو آپ سجدے میں چلے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابوفردہ ہے اور وہ راوی متروک ہے ۔