حدیث نمبر: 13872
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : إِنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ ، فَتَعَاقَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاتَ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى وَإِسَافَ وَنَائِلَةَ ، لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا لَقَدْ قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ ، فَأَقْبَلَتِ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - تَبْكِي ، حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : هَذَا الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ لَقَدْ قَامُوا إِلَيْكَ فَيَقْتُلُوكَ ، فَمَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَقَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ ، قَالَ : " يَا بُنَيَّةُ أَدْلِي وُضُوءًا " ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمُ الْمَسْجِدَ ، فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا : هَذَا هُوَ ، وَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ ، وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ ، وَعُقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ ، فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ بَصَرًا ، وَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ ، فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنَ التُّرَابِ ، فَقَالَ : " شَاهَتِ الْوُجُوهُ " ، ثُمَّ حَصَبَهُمْ بِهَا ، فَمَا أَصَابَ رَجُلًا مِنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةً إِلَّا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْمَغَازِي فِي تَبْلِيغِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَبْرِهِ عَلَى ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد حطیم میں اکٹھے ہوئے ، تو انہوں نے لات اور عزیٰ ، منات ، اساف اور نائلہ کے نام پر قسم اٹھا کر یہ طے کیا کہ اگر ہم نے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھا ، تو ہم اُٹھ کر ان کے پاس جائیں گے ، یوں جیسے مل کر کسی کی طرف جایا جاتا ہے ، اور ہم ان سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گے ، جب تک انہیں قتل نہیں کر دیتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا روتی ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور بولیں : قریش سے تعلق رکھنے والے افراد نے آپ کے خلاف یہ طے کیا ہے ، کہ اگر انہوں نے آپ کو دیکھا تو وہ اُٹھ کر آپ کے پاس آئیں گے اور آپ کو قتل کر دیں گے تاکہ ان میں سے ہر ایک شخص کا آپ کے قتل میں حصہ ہو جائے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے میری بیٹی ! تم مجھے وضو کا پانی لا کے دو ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر آپ مسجد میں ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، جب ان لوگوں نے آپ کو دیکھا ، تو انہوں نے کہا: یہ تو وہی ہیں ، نی نگاہیں جھکا لیں ، اُن کی ٹھوڑیاں لٹک کر سینے کے ساتھ لگ گئیں ، اور وہ سر جھکا کر بیٹھے رہے ، انہوں نے نگاہ اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں دیکھا ، ان میں سے کوئی شخص اُٹھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ ان لوگوں کے سر کے پاس آ کے کھڑے ہوئے ، آپ نے مٹھی بھر مٹی لی اور پھر فرمایا : یہ چہرے رسوا ہو جائیں ، پھر آپ نے کنکریاں ان پر ماریں ، تو وہ کنکریاں اُن میں سے ہر ایک شخص کو لگیں اور وہ جس بھی شخص کو لگیں ، وہ غزوہ بدر کے دن کافر ہونے کے طور پر مارا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : مغازی میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تبلیغ کرنے اور اس حوالے سے صبر کرنے کے بارے میں ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13872
درجۂ حدیث محدثین: رجال أحدهما رجال الصحيح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2762 و 3485)»