حدیث نمبر: 13870
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ قَالَ : قَالَتْ بِنْتُ الْحَكَمِ : قُلْتُ لِجَدِّي : مَا رَأَيْتُ يَوْمًا أَعْجَزَ وَلَا أَسْوَأَ رَأْيًا فِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَا بَنِي أُمَيَّةَ . قَالَ : لَا تَلُومِينَا يَا بُنَيَّةُ ، إِنِّي لَا أُحَدِّثُكِ إِلَّا مَا رَأَيْتُ بِعَيْنَيَّ هَاتَيْنِ . قُلْنَا : وَاللَّهِ مَا نَزَالُ نَسْمَعُ قُرَيْشًا تُعْلِي هَذَا الصَّابِئَ فِي مَسْجِدِنَا ، تَوَاعَدُوا لَهُ حَتَّى تَأْخُذَهُ ، فَتَوَاعَدْنَا إِلَيْهِ ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ سَمِعْنَا أَصْوَاتًا ظَنَنَّا أَنَّهُ مَا بَقِيَ بِتِهَامَةَ خَيْلٌ إِلَّا تَفَتَّتْ عَلَيْنَا ، فَمَا عَقَلْنَا حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ وَرَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ، ثُمَّ تَوَاعَدْنَا لَيْلَةً أُخْرَى ، فَلَمَّا جَاءَ نَهَضْنَا إِلَيْهِ فَرَأَيْتُ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ الْتَقَتَا أَحَدَاهُمَا بِالْأُخْرَى فَحَالَتَا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ ، فَوَاللَّهِ مَا نَفَعَنَا ذَلِكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ غَيْرَ بِنْتِ الْحَكَمِ فَلَمْ أَعْرِفْهَا . ¤
محمد محی الدین

قیس بن حبتر بیان کرتے ہیں : حکم کی صاحبزادی نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے اپنے دادا سے کہا: اے بنوامیہ ! میں نے ایسی کوئی قوم نہیں دیکھی ، جو اللہ کے رسول کے بارے میں آپ لوگوں سے زیادہ عاجز ہو اور زیادہ بری رائے رکھتی ہو ، تو انہوں نے کہا: اے بیٹی ! تم ہمیں ملامت نہ کرو ، میں تمہیں صرف وہ چیز بیان کروں گا ، جو میں نے اپنی ان دو آنکھوں کے ذریعے دیکھی ہے ، ہم نے یہ سوچا اللہ کی قسم ہمیں قریش کے بارے میں مسلسل یہ بات سننے کو مل رہی ہے کہ وہ لوگ ہماری مسجد کے حوالے سے اس بے دین شخص سے مغلوب ہو رہے ہیں ، تو ہم نے اس بارے میں یہ طے کیا کہ آپس میں مل کر کچھ کرتے ہیں ، ہم نے اس بارے میں کچھ طے کر لیا ، جب ہم نے آپ کو دیکھا ، تو ہم نے کچھ آوازیں سنیں ، جن سے ہمیں یہ گمان ہوا کہ تہامہ میں کوئی گھوڑا باقی نہیں بچا ہو گا ، مگر یہ کہ وہ ہماری سمت آ رہا ہو گا ، تو ہمیں بات سمجھ ہی نہیں آئی ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کر لی ، اور آپ اپنے گھر واپس چلے گئے ، پھر ہم نے اگلی رات کے بارے میں ارادہ کیا ، جب آپ تشریف لائے ، تو ہم آپ کی طرف بڑھے ، میں نے صفا اور مروہ پہاڑ کو دیکھا ، وہ دونوں ایک دوسرے سے مل گئے ہیں ، اور ہمارے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان رکاوٹ بن گئے ہیں ، اللہ کی قسم ! اس چیز ( یعنی اس صورتحال ) نے ہمیں نفع نہیں دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، صرف حکم کی صاحبزادی کا معاملہ مختلف ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13870
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3166)»