حدیث نمبر: 13869
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى فَرَسٍ عَطُوفٍ تَتْبَعُهَا مُهْرَةٌ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : فَمَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ : " غَيْبٌ ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ " قَالَ : فَمَتَى يُمْطِرُ الْغَيْثُ ؟ قَالَ : " غَيْبٌ ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ " قَالَ فَمَا فِي بَطْنِ فَرَسِي ؟ قَالَ : " غَيْبٌ ، وَلَا يَعْلَمُ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ " قَالَ : فَأَعْطِنِي سَيْفَكَ هَذَا . قَالَ : " هَا " . فَأَخَذَهُ فَسَلَّهُ ثُمَّ هَزَّهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ الَّذِي أَرَدْتَ " . ثُمَّ قَالَ : إِنَّ هَذَا أَقْبَلَ ثُمَّ قَالَ : ائْتِهِ قَاتِلَهُ ، ثُمَّ أَخُذُ بِسَيْفِي فَاقْتُلُهُ ثُمَّ غَمَدَ السَّيْفَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سرخ خیمے میں موجود تھے ، اسی دوران ایک شخص ایک گھوڑے پر سوار ہو کر آیا ، جس کے پیچھے گھوڑے کا بچہ بھی تھا ، اس نے دریافت کیا : آپ کون ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اللہ کا رسول ہوں ، اس نے کہا: قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک غیب ہے اور غیب کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے ، اس نے دریافت کیا : بادل بارش کب نازل کرے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ غیب ہے ، اور غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے ، اس نے دریافت کیا : میری گھوڑی کے پیٹ میں کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ غیب ہے ، اور غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے ، اس نے کہا: آپ اپنی یہ تلوار مجھے دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لو ! اس نے وہ تلوار لی ، اُسے لہرایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم اس کام کی استطاعت نہیں رکھ سکو گے ، جس کا تم نے ارادہ کیا ہے ، پھر آپ نے بتایا : یہ شخص آیا ، اس نے سوچا کہ میں ان کے پاس جا کر ان سے سوال کروں گا اور پھر اپنی تلوار پکڑ کر انہیں قتل کر دوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13869
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6245)»