حدیث نمبر: 13868
عَنْ جَعْدَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأَى رَجُلًا سَمِينًا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُومِئُ إِلَى بَطْنِهِ بِيَدِهِ وَيَقُولُ : " لَوْ كَانَ هَذَا فِي غَيْرِ هَذَا لَكَانَ خَيْرًا لَكَ " . قَالَ : وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجُلٍ فَقَالُوا : هَذَا أَرَادَ أَنْ يَقْتُلَكَ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمْ تُرَعْ ، لَمْ تُرَعْ ، وَلَوْ أَدَرْتَ ذَلِكَ ؟ لَمْ يُسَلِّطْكَ اللَّهُ عَلَيَّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْجُشَمِيِّ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جعدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ نے ایک موٹے تازے شخص کو ملاحظہ کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیٹ کی طرف اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے یہ فرمایا : ” اگر یہ اس جگہ کے علاوہ کہیں اور ہوتا تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر تھا “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا ، لوگوں نے کہا: اس شخص نے یہ ارادہ کیا ہے کہ یہ آپ کو قتل کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم ڈرو نہیں ، تم ڈرو نہیں ، اگر تم اس ( تلوار ) کے ساتھ گھوم رہے ہوتے ، تو بھی اللہ تعالیٰ نے تمہیں مجھ پر مسلط نہیں کرنا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اسرائیل جشمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13868
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2183) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (471/3)»