حدیث نمبر: 13867
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : طُفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ ، فَمَسِسْتُ بَعْضَ الْأَصْنَامِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَمَسَّهَا " . قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهَذَا يُفَسِّرُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ أَنَّ شُهُودَهُ لِلْإِنْكَارِ عَلَيْهِمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طواف کر رہا تھا ، میں نے کسی بت کو چھو لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم اس کو نہ چھوؤ ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں یہ چیز اس بات کی وضاحت کر دیتی ہے جو اس سے پہلے گزری ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں موجود ہونا ان لوگوں کے خلاف انکار کرنے کے لئے تھا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب علامات النبوة / حدیث: 13867
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4665)»