حدیث نمبر: 13815
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ اللَّيَالِي أَحْمِلُ لَهُ الطَّهُورَ ، إِذْ سَمِعَ مُنَادِيًا فَقَالَ : " يَا أَنَسُ صَهٍ " . فَقَالَ : اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى مَا يُنَجِّينِي مِمَّا خَوَّفْتَنِي مِنْهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ قَالَ أُخْتَهَا " . فَكَأَنَّ الرَّجُلَ لُقِّنَ مَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَارْزُقْنِي شَوْقَ الصَّادِقِينَ إِلَى مَا شَوَّقْتَهُمْ إِلَيْهِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَنَسُ ، ضَعِ الطَّهُورَ وَائْتِ هَذَا الْمُنَادِي ، فَقُلْ لَهُ أَنْ يَدْعُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُعِينَهُ عَلَى مَا ابْتَعَثَهُ بِهِ ، وَادْعُ لِأُمَّتِهِ أَنْ يَأْخُذُوا مَا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ بِالْحَقِّ " . فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : ادْعُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُعِينَهُ اللَّهُ عَلَى مَا ابْتَعَثَهُ بِهِ ، وَادْعُ لِأُمَّتِهِ أَنْ يَأْخُذُوا مَا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ بِالْحَقِّ . فَقَالَ : وَمَنْ أَرْسَلَكَ ؟ فَكَرِهْتُ أَنْ أُعْلِمَهُ وَلَمْ أَسْتَأْذِنْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : وَمَا عَلَيْكَ رَحِمَكَ اللَّهُ بِمَا سَأَلْتُكَ ؟ فَقَالَ : أَوَّلًا تُخْبِرُنِي مَنْ أَرْسَلَكَ ؟ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ ، فَقَالَ : " قُلْ لَهُ : أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . فَقَالَ لِي : مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ ، وَمَرْحَبًا بِرَسُولِهِ ، أَنَا أَحَقُّ أَنْ آتِيَهُ ، أَقْرِئْ رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ : الْخَضِرُ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ فَضَّلَكَ عَلَى النَّبِيِّينَ كَمَا فَضَّلَ شَهْرَ رَمَضَانَ عَلَى سَائِرِ الشُّهُورِ ، وَفَضَّلَ أُمَّتَكَ عَلَى الْأُمَمِ كَمَا فَضَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى سَائِرِ الْأَيَّامِ . فَلَمَّا وَلَّيْتُ عَنْهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمَرْحُومَةِ الْمُرْشَدَةِ الْمُتَابِ عَلَيْهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَضَّاحُ بْنُ عَبَّادٍ الْكُوفِيُّ ، تَكَلَّمَ فِيهِ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْمُنَادِي ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ بِشْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بِشْرٍ الْعَمِّيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے طہارت کا پانی اٹھایا ہوا تھا ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پکارنے والے کو سنا ، تو فرمایا : اے انس ! خاموش ہو جاؤ ، پھر آپ نے دعا کی : اے اللہ ! تو ایسے فرد کے ذریعے میری مدد کر دے ، جو مجھے اس خوف سے نجات دلا دے ، جو اندیشہ مجھے ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے انس ! طہارت کا پانی رکھو اور اس منادی کے پاس جاؤ ، اور اس سے کہو : وہ اللہ کے رسول کے لئے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے جس کام کے لئے انہیں مبعوث کیا ہے ، اس حوالے سے ان کی مدد کرے اور تم ان کی امت کے لئے بھی دعا کرو کہ وہ امت اس چیز کو حاصل کر لے ، جو حق اُن کے نبی لے کر ان کے پاس آئے ہیں ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ان صاحب کے پاس آیا ، میں نے کہا: آپ اللہ کے رسول کے لئے یہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جس چیز کے ہمراہ مبحوث کیا ہے ، اس حوالے سے اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے ، اور آپ ان کی امت کے لئے بھی دعا کریں کہ اس امت کے نبی ، جو حق لے کر ان کے پاس آئے ہیں ، وہ امت اسے قبول کر لے ، ان صاحب نے دریافت کیا : تمہیں کس نے بھیجا ہے ؟ تو مجھے یہ اچھا نہیں لگے گا کہ میں اُس کو اس بارے میں بتاؤں ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں اجازت نہیں لی تھی ، میں نے کہا: تمہیں کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ! جو میں نے تمہیں کہا: ہے ، تم وہ کرو ، اس نے کہا: تم مجھے نہیں بتاؤ گے کہ تمہیں کس نے بھیجا ہے ؟ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا اور اس کی کہی ہوئی بات کے بارے میں آپ کو بتایا ، تو آپ نے فرمایا : تم اس سے کہہ دو ! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں ، تو اس نے مجھ سے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید اور اُن کے قاصد کو خوش آمدید ، میں اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہوں کہ میں اُن کے پاس جاؤں اور ان کی خدمت میں میں سلام پیش کروں ، بہرحال تم ان سے یہ کہہ دینا کہ سیدنا خضر علیہ السلام آپ کو سلام کہہ رہے تھے ، اور وہ آپ کو یہ کہہ رہے تھے : کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیگر تمام انبیاء کرام پر وہ فضیلت عطا کی ہے ، جو اس نے رمضان کے مہینے کو دیگر مہینوں پر عطا کی ہے ، اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو دیگر امتوں پر وہ فضیلت عطا کی ہے ، جو اس نے جمعہ کے دن کو دیگر تمام دنوں پر فضیلت عطا کی ہے ۔ “ جب میں اُن صاحب کے پاس سے واپس مڑا ، تو میں نے ان صاحب کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے اللہ ! مجھے اس امت میں شامل کر لے ، جس پر رحم کیا گیا ، جس کی رہنمائی کی گئی اور جس کی توبہ قبول کی گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وضاح بن عباد کوفی ہے ، جس کے بارے میں ابوالحسین بن منادی نے کلام کیا ہے ، اور امام طبرانی کا استاد بشر بن علی بن بشرعمی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13815
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف