مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين— انبیاء علیہم السلام کے تذکرے سے متعلق روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلَامُ . باب: حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ ، عَنِ الْخَضِرِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " بَيْنَمَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ يَمْشِي فِي سُوقِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، أَبْصَرَهُ رَجُلٌ مُكَاتَبٌ فَقَالَ : تَصَدَّقْ عَلَيَّ ، بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ . فَقَالَ الْخَضِرُ : آمَنْتُ بِاللَّهِ ، مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَمْرٍ يَكُونُ ، مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ . فَقَالَ الْمِسْكِينُ : أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ لَمَا تَصَدَّقْتَ عَلَيَّ ، فَإِنِّي نَظَرْتُ السَّمَاحَةَ فِي وَجْهِكَ ، وَرَجَوْتُ الْبَرَكَةَ عِنْدَكَ . فَقَالَ الْخَضِرُ : آمَنْتُ بِاللَّهِ ، مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ إِلَّا أَنْ تَأْخُذَنِي فَتَبِيعَنِي . فَقَالَ الْمِسْكِينُ : وَهَلْ يَسْتَقِيمُ هَذَا ؟ قَالَ : نَعَمِ [ الْحَقُ ] أَقُولُ لَقَدْ سَأَلْتَنِي بِأَمْرٍ عَظِيمٍ ، أَمَا إِنِّي لَا أُخَيِّبُكَ بِوَجْهِ رَبِّي بِعْنِي . قَالَ : فَقَدَّمَهُ إِلَى السُّوقِ فَبَاعَهُ بِأَرْبَعِمِائَةٍ دِرْهَمٍ ، فَمَكَثَ عِنْدَ الْمُشْتَرِي زَمَانًا لَا يَسْتَعْمِلُهُ فِي شَيْءٍ ، فَقَالَ لَهُ : إِنَّكَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي الْتِمَاسَ خَيْرٍ عِنْدِي ، فَأَوْصِنِي بِعَمَلِ . قَالَ : أَكْرَهُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ ، إِنَّكَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ضَعِيفٌ . قَالَ : لَيْسَ يَشُقُّ عَلَيَّ . قَالَ : قُمْ فَانْقُلْ هَذِهِ الْحِجَارَةَ . وَكَانَ لَا يَنْقُلُهَا دُونَ سِتَّةِ نَفَرٍ فِي يَوْمٍ ، فَخَلَّى الرَّجُلُ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ نَقَلَ الْحِجَارَةَ فِي سَاعَةٍ ، قَالَ : أَحْسَنْتَ وَأَجْمَلْتَ وَأَطَقْتَ مَا لَمْ أَرَكَ تُطِيقُهُ . قَالَ : ثُمَّ عَرَضَ لِلرَّجُلِ سَفَرٌ فَقَالَ : إِنِّي أَحْسَبُكَ أَمِينًا ، فَاخْلُفْنِي فِي أَهْلِي خِلَافَةً حَسَنَةً . قَالَ : وَأَوْصِنِي بِعَمَلٍ . قَالَ : إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ . قَالَ : لَيْسَ يَشُقُّ عَلَيَّ . قَالَ : فَاضْرِبْ مِنَ اللَّبِنِ لِبَيْتِي حَتَّى أَقَدُمَ عَلَيْكَ . قَالَ : فَمَرَّ الرَّجُلُ لِسَفَرِهِ . قَالَ : فَرَجَعَ الرَّجُلُ وَقَدْ تَشَيَّدَ بِنَاؤُهُ ، فَقَالَ : أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ ، مَا سَبِيلُكَ وَمَا أَمْرُكَ ؟ قَالَ : سَأَلْتَنِي بِوَجْهِ اللَّهِ ، وَوَجْهُ اللَّهِ أَوْقَعَنِي فِي الْعُبُودِيَّةِ . فَقَالَ الْخَضِرُ : سَأُخْبِرُكَ مَنْ أَنَا ، أَنَا الْخَضِرُ الَّذِي سَمِعْتَ بِهِ ، سَأَلَنِي رَجُلٌ مِسْكِينٌ صَدَقَةً فَلَمْ يَكُنْ عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيهِ ، فَسَأَلَنِي بِوَجْهِ اللَّهِ فَأَمْكَنْتُهُ مِنْ رَقَبَتِي فَبَاعَنِي ، وَأُخْبِرُكَ أَنَّهُ مَنْ سُئِلَ بِوَجْهِ اللَّهِ فَرَّدَ سَائِلَهُ وَهُوَ يَقْدِرُ ، وَقَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جِلْدٌ وَلَا لَحْمَ لَهُ ، عَظْمٌ يَتَقَعْقَعُ . فَقَالَ الرَّجُلُ : آمَنْتُ بِاللَّهِ ، شَقَقْتُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَلَمْ أَعْلَمْ . قَالَ : لَا بَأْسَ ، أَحْسَنْتَ وَاتَّقَيْتَ . فَقَالَ الرَّجُلُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، احْكُمْ فِي أَهْلِي وَمَالِي بِمَا شِئْتَ ، أَوِ اخْتَرْ ، فَأُخَلِّي سَبِيلَكَ . قَالَ : أُحِبُّ أَنْ تُخَلِّيَ سَبِيلِي فَأَعْبُدُ رَبِّي . فَخَلَّى سَبِيلَهُ . فَقَالَ الْخَضِرُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَوْثَقَنِي فِي الْعُبُودِيَّةِ ثُمَّ نَجَّانِي مِنْهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّ بَقِيَّةَ مُدَلِّسٌ . وَيَأْتِي حَدِيثٌ آخَرُ فِي وَفَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَضِرِ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تم لوگوں کو سیدنا خضر علیہ السلام کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک مرتبہ وہ بنی اسرائیل کے بازار میں چل رہے تھے ، ایک مکاتب غلام نے انہیں دیکھا ، تو کہا: تم مجھے صدقے کے طور پر کچھ دو ! اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں ، اللہ تعالیٰ جو چاہے کہ وہ ہو ، تو ویسا ہی ہوتا ہے ، میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ، اس غریب نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی چیز دے دیجئے کیونکہ مجھے آپ کے چہرے پر مہربانی کے آثار نظر آ رہے ہیں اور مجھے آپ کے پاس سے برکت کی امید ہے ، تو سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں ، میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے ، جو میں تمہیں دے دوں ، البتہ یہ ہے کہ تم مجھے پکڑ کر مجھے فروخت کر دو ، اس غریب نے کہا: کیا یہ ٹھیک ہو گا ؟ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: جی ہاں ! میں ٹھیک بات کہہ رہا ہوں ، تم نے مجھ سے ایک عظیم حوالے سے مانگا ہے ، اور میں تمہیں اپنے پروردگار کی ذات کے واسطے کے حوالے سے رُسوائی کا شکار نہیں کروں گا ، تم مجھے فروخت کر دو ، اس شخص نے انہیں بازار میں رکھا اور انہیں چار سو درہم کے عوض میں فروخت کر دیا ، وہ ایک طویل عرصے تک خریدار کے پاس یوں رہے کہ خریدار نے انہیں کسی کام میں استعمال نہیں کیا ، سیدنا خضر علیہ السلام نے اس ( خریدار ) سے کہا: تم نے مجھے اس لئے خریدا ہے ، تاکہ میرے پاس موجود بھلائی کو حاصل کرو ، تو تم مجھے کسی کام کے بارے میں تلقین کرو ، اس شخص نے کہا: مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ میں آپ کو مشقت کا شکار کروں ، آپ ایک بوڑھے ، کمزور ، عمر رسیدہ شخص ہیں ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: مجھے پریشانی نہیں ہو گی ، اس نے کہا: اچھا پھر آپ اُٹھ کر یہ پتھر منتقل کر دیں ، وہ پتھر ایسے تھے کہ چھ افراد سے کم لوگ ایک دن میں اسے منتقل نہیں کر سکتے تھے ، وہ شخص کام کے سلسلے میں اٹھ کے چلا گیا ، جب وہ واپس آیا ، تو سیدنا خضر علیہ السلام ایک گھڑی میں وہ پتھر منتقل کر چکے تھے ، تو اس نے کہا: تم نے بہت اچھا اور عمدہ کام کیا ہے ، اور تمہارے اندر اتنی طاقت ہے کہ میرا نہیں خیال تھا کہ تمہارے اندر اتنی طاقت ہو گی ، پھر اس شخص کو کسی کام کے سلسلے میں جانے کا موقع آیا ، تو اس نے کہا: میں آپ کو ایک امین شخص سمجھتا ہوں ، آپ نے میری غیر موجودگی میں میرے گھر والوں کا اچھے طریقے سے خیال رکھنا ہے ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: تم مجھے کوئی کام بھی بتا دو ! اس نے کہا: مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ میں آپ کو مشقت کا شکار کروں ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: مجھے مشقت نہیں ہو گی ، اس نے کہا: اچھا جب تک میں اپنے گھر نہیں آتا ، آپ میرے گھر کے لئے اینٹیں تیار کر دیں ، پھر وہ شخص سفر پر چلا گیا ، جب وہ شخص واپس آیا تو سیدنا خضر علیہ السلام نے عمارت بھی تعمیر کر لی ہوئی تھی ، اس نے کہا: میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ آپ کا معاملہ کیا ہے ؟ اور صورت حال کیا ہے ؟ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: تم نے مجھے اللہ کے واسطے سے سوال کیا ہے ، اور اللہ کے واسطے نے ہی مجھے اس غلامی میں ڈالا تھا ، پھر سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا : میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں کون ہوں ؟ میں وہ ہوں کہ جس کے بارے میں تم نے سنا ہوا ہے ، ایک غریب نے مجھ سے صدقہ مانگا ، میرے پاس اسے دینے کے لئے کچھ نہیں تھا ، اس نے مجھ سے اللہ کی ذات کے واسطے سے مانگا تھا ، تو میں نے اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا اور اس نے مجھے فروخت کر دیا اور میں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ جس شخص سے اللہ کے نام پر مانگا جائے اور وہ مانگنے والے کو لوٹا دے ، حالانکہ وہ قدرت رکھتا ہو ، تو قیامت کے دن وہ ایسی حالت میں کھڑا ہو گا ، کہ اس کی جلد ہو گی ، لیکن اس میں گوشت نہیں ہو گا ، اس کی ہڈیاں حرکت کر رہی ہوں گی ، اس شخص نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں ، اے اللہ کے نبی ! میں نے آپ کو مشقت کا شکار کیا ، مجھے پتہ نہیں تھا ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: کوئی حرج نہیں ہے ، تم نے اچھا کام کیا اور تم نے بچنے کی کوشش کی ، اس شخص نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، اے اللہ کے نبی ! آپ میرے اہل خانہ اور میرے مال کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں ، یا آپ یہ اختیار کریں کہ میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں ، تو سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا : مجھے پسند ہے کہ تم مجھے چھوڑ دو ! تاکہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں ، تو اُس شخص نے انہیں چھوڑ دیا ۔ سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے مجھے غلامی میں پابند کیا تھا ، اور پھر مجھے غلامی سے نجات بھی دیدی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ بقیہ نامی راوی مدلس ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے متعلق باب کے آخر میں بھی ، سیدنا خضر علیہ السلام سے متعلق ایک روایت آئے گی ۔