حدیث کتب › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين— انبیاء علیہم السلام کے تذکرے سے متعلق روایات
بَابُ ذِكْرِ الْأَنْبِيَاءِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ . باب: انبیاء کرام کا تذکرہ
حدیث نمبر: 13814
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كَانَ فِيمَنْ خَلَا مِنْ إِخْوَانِي مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ثَمَانِيَةُ آلَافِ نَبِيٍّ ، ثُمَّ كَانَ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ ، ثُمَّ كُنْتُ أَنَا " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي تَرْجَمَتِهِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” انبیاء کرام میں سے مجھ سے پہلے جو بھائی گزرے ہیں ، ان کی تعداد آٹھ ہزار تھی ، پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آئے ، اور پھر ” میں “ مبعوث ہوا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت عبدی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اور یہ حدیث ان کے حالات میں نقل ہوئی ہے ۔