حدیث نمبر: 13813
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ ، لَيَنْزِلَنَّ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ إِمَامًا مُقْسِطًا وَحَكَمًا عَدْلًا ، فَلَيَكْسِرَنَّ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلَنَّ الْخِنْزِيرَ ، وَلَيُصْلِحَنَّ ذَاتَ الْبَيْنِ ، وَلَيُذْهِبَنَّ الشَّحْنَاءَ ، وَلَيَعْرِضَنَّ الْمَالَ فَلَا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ ، ثُمَّ لَئِنْ قَامَ عَلَى قَبْرِي فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، لَأُجِيبَنَّهُ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم کی جان ہے ، سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام منصف حکمران اور عدل کرنے والے قاضی کے طور پر نازل ہوں گے اور وہ صلیب توڑ دیں گے اور لوگوں کے درمیان صلح کروا دیں گے اور آپس کی دشمنی ختم ہو جائے گی ، اور مال پیش کیا جائے گا ، لیکن کوئی اُسے قبول ( یعنی وصول ) نہیں کرے گا اور اگر وہ میری قبر پر کھڑے ہو کر یہ کہیں : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! تو میں انہیں ضرور جواب دوں گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / ( كتاب فيه ذكر الأنبياء ) صلوات الله تعالى وسلامه على نبينا محمد وعليهم أجمعين / حدیث: 13813
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6584)»