مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البر والصلة— اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں روایات
بَابُ مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَالْعَفْوِ عَمَّنْ ظَلَمَ باب: عمدہ اخلاق کا بیان اور زیادتی کرنے والے کو معاف کرنا
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : جِيءَ بِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ بِي عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَزُهَيْرٌ ، فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيَّ عِنْدَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُعْلِمُونِي بِهِ ، قَدْ كَانَ صَاحِبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ " . قَالَ : قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَنِعْمَ الصَّاحِبُ كُنْتَ . قَالَ : فَقَالَ : " يَا سَائِبُ ، انْظُرْ أَخْلَاقَكَ الَّتِي كُنْتَ تَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَاصْنَعْهَا فِي الْإِسْلَامِ : أَقْرِ الضَّيْفَ ، وَأَكْرِمِ الْيَتِيمَ ، وَأَحْسِنْ إِلَى جَارِكَ " . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا سائب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن ، مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جایا گیا ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زہیر رضی اللہ عنہ مجھے لے کے آئے اور میری تعریفیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کرنے لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم لوگ مجھے اس کے بارے میں نہ بتاؤ ! یہ زمانہ جاہلیت میں ، میرا ساتھی رہا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ بہت اچھے ساتھی تھے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے سائب ! اپنے ان اخلاق کا جائزہ لو ! جو تم زمانہ جاہلیت میں اختیار کرتے تھے ، اور زمانہ اسلام میں بھی انہیں کرتے رہو ، تم مہمان نوازی کرو ، یتیم کا احترام کرو ، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔